کاروباری مشکلات سرمایہ کاروں کو بیرون ملک منتقل ہونے پر مجبور کر رہی ہیں: سردار طاہر محمود
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
کاروباری مشکلات سرمایہ کاروں کو بیرون ملک منتقل ہونے پر مجبور کر رہی ہیں: سردار طاہر محمود WhatsAppFacebookTwitter 0 29 January, 2026 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز ) اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کے صدر سردار طاہر محمود نے کہا ہے رئیل اسٹیٹ سیکٹر معاشی ترقی کا ایک اہم محرک ہے اور اس کو درپیش ریگولیٹری اور سرمایہ کاری سے متعلق چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے وزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف ایک نیشنل رئیل اسٹیٹ کانفرنس کا انعقاد کریں ۔ یہ مطالبہ انہوں نے جمعرات کے روز آئی سی سی آئی میں ایک بھرپور پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
سردار طاہر محمود نے کہا کہ تاجر برادری برآمدات کے فروغ اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے وزیر اعظم کے وژن کی مکمل حمایت کرتی ہے اور خاص طور پر “اڑان پاکستان” کی۔ تاہم، انہوں نے زور دیا کہ کاروبار کرنے کے بڑھتے ہوئے اخراجات، حد سے زیادہ ٹیکس، بلند شرح سود، اور مہنگے توانائی کے ٹیرف پاکستان کی مسابقت اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بری طرح متاثر کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ رئیل اسٹیٹ سیکٹر، اقتصادی سرگرمیوں اور روزگار میں ایک بڑا حصہ دار ہونے کے باوجود، ریگولیٹری دبا کا سامنا کر رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ صورت حال مقامی اور سرمایہ کاروں کو کاروبار دوست ماحول میں جیسا کہ دبئی میں منتقل ہونے پر مجبور کر رہی ہے۔
اس شعبے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے ICCI کے صدر نے کہا کہ رئیل اسٹیٹ سیکٹر جو 60 سے 70 متعلقہ صنعتوں کو سپورٹ کرتا ہے جیسا کہ سیمنٹ، اسٹیل، تعمیراتی مواد، ٹرانسپورٹ، مالیاتی خدمات، انجینئرنگ، اور ہنر مند لیبر لیکن موجودہ صورت حال میں سخت دبا کا شکار ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بین الاقوامی تجربہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ایک منظم اور متحرک رئیل اسٹیٹ سیکٹر پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے ریڑھ کی ہڈی کا کام کرتا ہے۔
سردار طاہر محمود نے مزید نشاندہی کی کہ پاکستان کو اس وقت علاقائی طور پر توانائی کے غیر مسابقتی ٹیرف، زیادہ ٹیکسوں اور بلند شرح سود کا سامنا ہے، جس سے کاروبار چلانا انتہائی مشکل ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک صوابدیدی اختیارات کو کم نہیں کیا جاتا اور مقررہ وقت کے اندر منظوری نہیں دی جاتی، بامعنی سرمایہ کاری – ملکی اور غیر ملکی دونوں مفقود رہیں گی۔
آئندہ وفاقی بجٹ 2026-27 کے بارے میں بات کرتے ہوئے، انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ کسی بھی کاروبار مخالف یا محصول پر مبنی ٹیکس کے اقدامات سے گریز کرے، اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ پاکستان کو کاروبار کے حامی، سرمایہ کاری کے لیے دوستانہ، اور ترقی پر مبنی مالیاتی فریم ورک کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اقتصادی پالیسیوں اور بجٹ کے فیصلوں کو حتمی شکل دینے سے قبل چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری سے بامعنی مشاورت کرنے پر زور دیا۔
آخر میں، سردار طاہر محمود نے حکومت اور نجی شعبے کے درمیان پل کے طور پر کام کرنے کے لیے آئی سی سی آئی کے عزم کا اعادہ کیا، اور کہا کہ بروقت پالیسی سپورٹ اور ڈھانچہ جاتی اصلاحات سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مضبوط کریں گی، برآمدات میں اضافہ کریں گی، روزگار پیدا کریں گے اور پاکستان کو اقتصادی ترقی کی پائیدار راہ پر گامزن کریں گے۔ چیئرمین آئی سی سی آئی فانڈر گروپ شیخ طارق صادق، سینئر نائب صدر طاہر ایوب، نائب صدر عرفان چوہدری، ایگزیکٹو ممبران اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے تاجر برادری نے بڑی تعداد میں کانفرنس میں شرکت کی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرمذاکرات کیخلاف ہوں، روس کو یوکرین میں جنگ جاری رکھنی چاہیے: رمضان قادریوف پی آئی اے نجکاری، حکومت اور عارف حبیب کنسروشیم میں دستاویزات کا تبادلہ یو پی یونین پاکستان کا اہم اتحادی،تعلقات میں بہتری کیلئے پر عزم ہیں،وزیر اعظم برطانوی وزیراعظم کی صدر شی سے ملاقات، چین عالمی سطح پر اہم کھلاڑی قرار اسحاق ڈار کا ایرانی وزیر خارجہ سے رابطہ، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال انٹرنیشنل اداروں میں بھارتی شہری سیکیورٹی خطرہ بن گئے؟ عالمی رپورٹ میں تشویشناک انکشافات پشاور چھوڑ کر جارہا ہوں، غلام احمد بلور کا سیاست سے علیحدگی کا اعلانCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: سردار طاہر محمود نے رئیل اسٹیٹ سیکٹر سرمایہ کاروں سرمایہ کاری نے کہا کہ انہوں نے کرنے کے زور دیا کے لیے
پڑھیں:
پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
پاکستان کے سابق سفیر عمران علی کا کہنا ہے کہ اگر سعودی عرب نے خواہش ظاہر کی کہ پاکستان اپنی بحریہ کے ذریعے حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے تو پاکستان بھی اس پر پورا اترتے ہوئے ویسا ہی کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ’پاک سعودی دفاعی معاہدہ محض مالی یا وقتی تعلق نہیں بلکہ فعال حکمت عملی کا حصہ ہے‘
وی نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی ریڈلائن ہے اور دونوں ممالک کے مابین دفاعی معاہدے کا یہ مطلب نہیں کہ صرف ان کی سرزمین پر حملے کی صورت میں دفاعی تعاون ہوگا بلکہ پاکستان اس سلسلے میں سعودی عرب کی خواہشات پر پورا اترے گا۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی مستقل ’ریڈ لائن‘ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون محض معاہدوں تک محدود نہیں بلکہ تاریخی اور برادرانہ تعلقات پر مبنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سعودی عرب کو پاکستان سے کسی بھی نوعیت کے تعاون کی ضرورت پیش آئی تو اسلام آباد اس کی توقعات پر پورا اترے گا۔
ایمبیسیڈر عمران علی نے وزیراعظم پاکستان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان حالیہ رابطے کو اہم سفارتی پیغام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے واضح ہو گیا ہے کہ پاکستان اس معاملے میں سعودی عرب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔
مزید پڑھیے: وی ایکسکلوسیو: پاکستان، سعودی عرب دفاعی معاہدہ امت مسلمہ کو متحد کرسکتا ہے، وفاقی وزیر سردار یوسف
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے اشتعال انگیزی کے باوجود انتہائی متوازن اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے اور پاکستان بھی یہی چاہتا ہے کہ مسلم دنیا مزید تقسیم نہ ہو۔ ان کے مطابق اگرچہ ایران کو اپنے مؤقف پر نظرثانی کرنی چاہیے تاہم امریکا کی بعض کارروائیاں بھی کشیدگی میں اضافے کا باعث بنی ہیں۔
ایران کے پاس 2 ہفتوں کی مہلتان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس کشیدگی کم کرنے کے لیے صرف 2 ہفتوں کی مہلت ہے اور اگر تہران آبنائے ہرمز سے متعلق سخت مؤقف ترک کرکے دوبارہ مذاکراتی عمل کی طرف آ جائے اور پاکستان کی ثالثی کو موقع دے تو خطے میں جاری بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
عمران علی نے کہا کہ پاکستان پہلے بھی ایران اور امریکا کے درمیان ایک قابل قبول مفاہمتی دستاویز تیار کرا چکا ہے اس لیے اب بھی اسلام آباد مؤثر ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو جذباتی فیصلوں کے بجائے وسیع تر علاقائی اور عالمی تناظر میں حکمت عملی اپنانا ہوگی۔
ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق ایران کی موجودہ پالیسی کا مقصد عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل پر دباؤ ڈال کر دنیا کو غزہ کے مسئلے پر متوجہ کرنا ہے تاہم یہ حکمت عملی اب الٹا اثر دکھا رہی ہے۔ ان کے بقول ریڈ سی اور باب المندب میں کشیدگی سے عالمی تجارت اور مسلم ممالک کو زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ اسرائیل اور امریکہ پر مطلوبہ دباؤ نہیں پڑ رہا۔
عالمی جنگ کے امکانات نہیںعالمی جنگ کے خدشات پر انہوں نے کہا کہ تیسری عالمی جنگ کے امکانات کم ہیں کیونکہ روس اور چین براہ راست اس تنازع میں شامل ہونے سے گریز کریں گے تاہم خلیجی خطے میں محدود علاقائی جنگ کا خطرہ موجود ہے خاص طور پر اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو یورپ سمیت دنیا کی توانائی منڈی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: پاک سعودی دفاعی معاہدہ، آج یوم تشکر منایا گیا
ایران کے اندر ممکنہ رجیم چینج سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں اس کا امکان کم ہے کیونکہ ریاستی کنٹرول مضبوط ہے، البتہ ایران کو جنگی کامیابی کے بیانیے کے بجائے امن اور سفارت کاری کو ترجیح دینی چاہیے۔
پاکستان امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرےپاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالیہ ثالثی کی کوششوں سے عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص ابھرا ہے تاہم اس سفارتی کامیابی کو معاشی فوائد میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان کو اپنی سب سے بڑی معاشی ضرورت یعنی مالی خسارے کے لیے امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اب تک کتنے معاشی معاہدے اور اُن پر کیا پیشرفت ہوئی؟
ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق پاکستان کو اسلحے سے زیادہ معاشی استحکام کی ضرورت ہے اور حالیہ سفارتی کردار کو اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاک سعودی دفاعی معاہدہ حوثی باغی سابق سفیر عمران علی سعودی عرب پاکستان کی ریڈ لائن سعودی عرب کی خواہش