ابتدائی مفاہمت میں شامی افواج کو صوبہ سویدا میں داخل ہونے سے روکنے اور صوبے کو اسرائیل کے ساتھ ضم کرنے کے لیے بات چیت شروع کرنے کے معاہدے شامل ہیں۔ اسرائیل بھی حکمت الہجری کی حمایت کرتا ہے، جو ایک شامی دروز شیخ ہے جو سویدا میں اثر و رسوخ رکھتا ہے اور خود مختاری پر دمشق کے ساتھ تنازع میں ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شامی ذرائع نے اگلے مارچ تک ایک جامع سیکورٹی معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے اسرائیل اور شام پر سخت امریکی دباؤ کی اطلاع دی ہے۔ خبررساں ادارے تسنیم کے بین الاقوامی گروپ کے مطابق متعدد ذرائع نے اسرائیل اور شام پر اگلے مارچ تک ایک جامع سیکیورٹی معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے سخت امریکی دباؤ کی اطلاع دی ہے، اور توقع ہے کہ اس معاہدے کا اعلان جلد کر دیا جائے گا۔ مڈل ایسٹ آئی ویب سائٹ کے مطابق ایک باخبر ذریعے نے منگل کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے شامی ہم منصب محمد الجولانی کے درمیان ٹیلی فون پر بات چیت کی اطلاع دی۔ اس کال میں ٹرمپ نے الجولانی کو بتایا کہ انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو دمشق کے ساتھ سیکیورٹی معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے ایک ماہ کا وقت دیا ہے۔

خلیج فارس کے ممالک کے ایک عرب عہدیدار نے بھی اس ٹائم لائن کی تصدیق کی ہے۔ ٹرمپ نے یہ امید بھی ظاہر کی کہ شام متحد رہے گا، معاہدے کے لیے صرف ایک مسئلہ جبل الشیخ باقی رہ جائیگا۔ تاہم اسرائیل نے اسے قومی سلامتی کا مسئلہ اور سرخ لکیر قرار دیتے ہوئے علاقے کو حوالے کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ ایک مغربی اہلکار نے کہا ہے کہ آئندہ چار ہفتوں میں اسرائیل کے موقف میں تبدیلی کی توقع نہیں ہے۔ امریکی دباؤ بنیادی طور پر صدر کے خصوصی ایلچی تھامس بارک کی طرف سے ڈالا جا رہا ہے اور امریکی انتظامیہ کے اندر اس موقف پر مکمل اتفاق نہیں ہے، کیونکہ شام کے معاملے پر اختلافات موجود ہیں۔

ابتدائی مفاہمت میں شامی افواج کو صوبہ سویدا میں داخل ہونے سے روکنے اور صوبے کو اسرائیل کے ساتھ ضم کرنے کے لیے بات چیت شروع کرنے کے معاہدے شامل ہیں۔ اسرائیل بھی حکمت الہجری کی حمایت کرتا ہے، جو ایک شامی دروز شیخ ہے جو سویدا میں اثر و رسوخ رکھتا ہے اور خود مختاری پر دمشق کے ساتھ تنازع میں ہے۔ یہ پیش رفت اس ماہ کے شروع میں پیرس میں امریکی ثالثی میں ہونے والی بات چیت کے بعد ہوئی، جس کے دوران شامی اور اسرائیلیوں نے سیکیورٹی معلومات کے تبادلے اور تناؤ کو کم کرنے کے لیے ایک خصوصی مواصلاتی چینل قائم کرنے پر اتفاق کیا۔

دریں اثنا، دمشق میں حکومت کے قریبی ذرائع کے دعوے کے مطابق محمد الجولانی سے وابستہ حکام کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ جلد ہی امریکہ کی ثالثی میں پیرس میں اسرائیلی حکومت کے نمائندوں سے ملاقات کریں گے۔ اجلاس کا مقصد ایک مبینہ سکیورٹی معاہدے کو حتمی شکل دینا ہے۔ گزشتہ اتوار، شام کے ایک نامعلوم ذریعے نے I24 نیوز نیٹ ورک کو بتایا کہ دمشق میں اسرائیلی سفارت خانہ کھولنے کے امکان کے بارے میں پرامید بات چیت ہو رہی ہے، جس کی وجہ شام کے ابراہیم معاہدے میں شامل ہونے کے امکان میں پیش رفت ہے۔ اس دعوے کے مطابق بات چیت میں سرحدی علاقوں میں مشترکہ اسٹریٹجک اور اقتصادی منصوبوں" پر بھی توجہ دی جائے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کرنے کے لیے سویدا میں کے مطابق کے ساتھ بات چیت

پڑھیں:

فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد

فرانس میں قائم ایک نفسیاتی اسپتال نے ذہنی صحت کے علاج کے لیے ایک غیرمعمولی طریقہ اختیار کیا ہے، جہاں مریضوں کے ڈپریشن، اضطراب اور ذہنی دباؤ کو کم کرنے کے لیے گدھوں کی مدد لی جا رہی ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ منصوبہ فرانس میں اپنی نوعیت کا واحد تجربہ سمجھا جاتا ہے۔ دارالحکومت پیرس کے مضافات میں سرسبز و شاداب ماحول اور تاریخی عمارتوں سے گھرا ویل ایورارڈ اسپتال مریضوں کو روایتی طبی علاج کے ساتھ ایک منفرد اور پُرسکون تجربہ بھی فراہم کر رہا ہے۔

اس پروگرام کے تحت مریض گدھوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، انہیں سیر کرواتے ہیں، ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور جذباتی تعلق قائم کرتے ہیں۔ حالیہ سیشن کے دوران بھی متعدد مریضوں نے گدھوں کے ساتھ خوشگوار وقت گزارا اور رخصت ہوتے ہوئے انہیں گلے لگا کر محبت کا اظہار کیا۔

60 سالہ مریضہ نیتھلی کے مطابق گدھوں کے ساتھ وقت گزارنے سے انہیں ویسا ہی سکون ملتا ہے جیسا کسی پُرسکون دوا کے استعمال سے حاصل ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جانوروں کے ذریعے ہونے والا یہ علاج ذہنی آسودگی فراہم کرتا ہے اور وقتی طور پر تمام پریشانیاں ختم دیتا ہے۔

فرانس کے سرکاری نظامِ صحت کے تحت یہ سیشنز مریضوں کو بغیر کسی معاوضے کے فراہم کیے جاتے ہیں۔ عموماً ہر مریض کو ایک مخصوص گدھے کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے تاکہ وقت کے ساتھ دونوں ایک دوسرے کی عادات اور مزاج سے واقف ہو سکیں۔

اس یونٹ میں خدمات انجام دینے والی نرس آڈرے سیفار کے مطابق نیتھلی کی حالت میں چند ملاقاتوں کے بعد ہی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔

انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں وہ جسمانی معذوری کے باعث وہیل چیئر سے نکلنے پر آمادہ نہیں تھیں، لیکن گدھے کے ساتھ تعلق نے ان میں اعتماد پیدا کیا اور اب وہ نہ صرف چیئر سے اٹھتی ہیں بلکہ اپنے جانور کے ساتھ کھڑی بھی ہوتی ہیں۔

دوسری جانب  52 سالہ مریض جیروم کا کہنا ہے کہ اس منفرد پروگرام نے ان کے احساسِ تنہائی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • پاکستان اور اٹلی کے سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کیلئے ویزا ختم کرنے کا معاہدہ
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان