عمران خان کے معاملے میں کسی بھی غفلت یا تاخیر کو برداشت نہیں کیا جائے گا، محمود اچکزئی
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
اسلام آباد:
قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور اپوزیشن اتحاد سربراہ تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ عمران خان کے معاملے میں کسی بھی غفلت یا تاخیر کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
حزب اختلاف قومی اسمبلی اور سربراہ تحریک تحفظ آئین پاکستان محمود خان اچکزئی اور سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجا ناصر عباس نے حکومت کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کی تصدیق پر سخت ردعمل دیا۔
محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ عمران خان کو فیملی اور ذاتی معالجین کے علم کے بغیر اسپتال منتقل کرنا مجرمانہ غفلت ہے، قیدی کی صحت و جان کی ذمہ داری مکمل طور پر قید میں رکھنے والوں پر عائد ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان کو بغیر اطلاع اسپتال منتقل کرنا آئین اور قانون کی دھجیاں بکھیرنا ہے، عدالتی احکامات کے باوجود ذاتی ڈاکٹروں تک رسائی نہ دینا بے آئینی کی بدترین مثال ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی طبی حالت فی الفور فیملی کے سامنے لائی جائے، عمران خان کے معاملے میں کسی بھی غفلت یا تاخیر کو برداشت نہیں کیا جائے گا، عمران خان ایک قیدی ہیں، ان کے ساتھ کسی خفیہ سلوک کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
محمود خان اچکزئی نے بتایا کہ عمران خان کی صحت کے حوالے سے کسی بھی نقصان کی ذمہ داری تحویل میں رکھنے والوں پر ہوگی، قوم 8 فروری کو عمران خان کی رہائی کے لیے پورا ملک بند کرے۔
سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجا ناصر عباس نے کہا کہ عمران خان کو ان کے ذاتی معالجین اور اہلِ خانہ سے دور رکھنا غیر انسانی اقدام ہے، ایک قیدی کو لاعلم رکھ کر اسپتال منتقل کرنا انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
مزید پڑھیںحکومت نے عمران خان کو پمز اسپتال لے جانے کی تصدیق کردی
عمران خان کی دائیں اۤنکھ میں خطرناک بیماری کی تشخیص کی خبر پر بیرسٹر گوہر کا اظہار تشویش
ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی صحت کے معاملے پر کسی قسم کا ابہام قبول نہیں کیا جائے گا، عمران خان کے ذاتی ڈاکٹروں کو فوری رسائی نہ دینا عدالتی احکامات کی توہین ہے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان کی جان کے ساتھ کسی بھی قسم کا کھیل ناقابل برداشت ہوگا، عمران خان کی صحت پر ریاستی اداروں کی خاموشی تشویش ناک اور سوالیہ نشان ہے۔
علامہ ناصر عباس نے کہا کہ عمران خان کے معاملے میں جان بوجھ کر تاخیر کے سنگین نتائج ہوں گے، عمران خان جس کی تحویل میں ہیں وہی ان کی جان و صحت کے ذمہ دار ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی صحت سے متعلق تمام حقائق فوری طور پر سامنے لائے جائیں، عمران خان کو طبی سہولیات سے محروم رکھنا ظلم اور ناانصافی ہے، قوم 8 فروری کو اس نا انصافی پر پورا ملک شٹر ڈاؤن و پہیہ جام کرے۔
اس سے قبل وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے عمران خان کو اڈیالہ جیل سے اسپتال منتقل کرنے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا تھا کہ آنکھوں کے طبی ماہرین نے اڈیالہ جیل میں بانی چئیرمین پی ٹی آئی کی آنکھوں کا معائنہ کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ طبی ماہرین نے تجویز کیا تھا کہ معمولی طبی کارروائی کے لیے بانی چیئرمین پی ٹی آئی کو پمز لے جانا ضروری ہے۔
عطااللہ تارڑ نے کہا کہ طبی ماہرین کی سفارش پر گزشتہ ہفتے کی رات بانی چئیرمین پی ٹی آئی کو پمز لے جایا گیا، بانی پی ٹی آئی کی تحریری رضامندی کے بعد کارروائی ہوئی جس کے بعد انہیں ضروری ہدایات کے ساتھ واپس اڈیالہ جیل لے جایا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: عمران خان کے معاملے میں نے کہا کہ عمران خان ان کا کہنا تھا کہ محمود خان اچکزئی نہیں کیا جائے گا عمران خان کی صحت کہ عمران خان کی اسپتال منتقل عمران خان کو حزب اختلاف پی ٹی آئی کسی بھی
پڑھیں:
خبردار اپنی سمز کسی اور کو نہ دیں۔۔۔ پی ٹی اے نے اہم ہدایات جاری کردیں۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے موبائل فون صارفین کو سمز کے غیر قانونی استعمال اور فراڈ سے بچنے کے لیے اہم ہدایات جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اپنی سم کسی دوسرے شخص کو دینا قابلِ سزا جرم ہے، کیونکہ آپ کے نام پر رجسٹرڈ سم کسی بھی غیر قانونی سرگرمی میں استعمال ہو سکتی ہے، جس کی قانونی ذمہ داری بھی سم ہولڈر پر عائد ہو سکتی ہے۔پی ٹی اے کی جانب سے جاری کردہ آگاہی پیغام میں کہا گیا ہے کہ تمام صارفین اپنی رجسٹرڈ سمز کی تعداد کی باقاعدگی سے جانچ کریں تاکہ کسی بھی غیر مجاز یا غیر ضروری سم کی بروقت نشاندہی کرکے اسے بلاک کرایا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے صارفین cnic.sims.pk پر جا کر یا اپنا 13 ہندسوں پر مشتمل شناختی کارڈ نمبر بغیر ڈیش کے 668 پر ایس ایم ایس کرکے اپنے نام پر رجسٹرڈ سمز کی تفصیلات حاصل کر سکتے ہیں۔اتھارٹی نے ہدایت کی کہ اگر کسی صارف کے نام پر ایسی سم رجسٹرڈ ہو جس کے بارے میں وہ لاعلم ہو یا جس کی ضرورت نہ ہو تو اسے فوری طور پر متعلقہ موبائل کمپنی سے رابطہ کرکے بند کرایا جائے تاکہ کسی بھی ممکنہ دھوکا دہی یا غیر قانونی استعمال سے بچا جا سکے۔پی ٹی اے نے مزید کہا کہ نئی سم ہمیشہ متعلقہ موبائل کمپنی کی مستند فرنچائز یا کسٹمر سروس سینٹر سے ہی حاصل کی جائے اور بائیو میٹرک تصدیق کے عمل کے دوران مکمل احتیاط برتی جائے۔ صارفین اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کی اجازت اور علم کے بغیر ان کے شناختی کارڈ پر کوئی نئی سم رجسٹرڈ نہ کی جائے۔اتھارٹی نے ایک بار پھر عوام کو متنبہ کیا کہ "مفت سم" یا دیگر پرکشش پیشکشوں کے لالچ میں اپنی بائیو میٹرک تصدیق ہرگز نہ کرائیں، کیونکہ دھوکے باز عناصر اس عمل کے ذریعے آپ کے نام پر اضافی سمز جاری کرا سکتے ہیں، جو بعد ازاں جرائم یا فراڈ میں استعمال ہو سکتی ہیں۔پی ٹی اے نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ اپنی ذاتی معلومات، شناختی دستاویزات اور بائیو میٹرک ڈیٹا کی حفاظت کو یقینی بنائیں اور کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی صورت میں فوری طور پر متعلقہ موبائل آپریٹر یا پی ٹی اے سے رابطہ کریں تاکہ محفوظ اور ذمہ دارانہ موبائل استعمال کو فروغ دیا جا سکے۔