ایران کی بھرپور جنگی تیاریاں: منہ توڑ جواب امریکا کے لیے سرپرائز ہوگا، کمانڈر انچیف
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ایران کا منہ توڑ جواب امریکا کے لیے سرپرائز ہوگا، بھرپور جنگی تیاریاں عروج پر: کمانڈر انچیف
ایران نے کسی بھی جنگی صورت حال کے پیش نظر امریکا کو منہ توڑ جواب دینے کے لیے اپنی تیاریاں مکمل کرلی ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کے کمانڈر اِن چیف میجر جنرل امیر حاتمی نے بتایا کہ بغیر پائلٹ کے اُڑان بھرنے والے ان ڈرونز میں بارودی مواد لے جانے اور ہدف کو نشانہ بنانے کی مکمل صلاحیت موجود ہے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ یہ ڈرونز جون 2025 میں امریکا کے ساتھ ہونے والی 12 روزہ جنگ کے تجربات اور ابھرتے ہوئے سیکیورٹی چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیے گئے ہیں۔
یہ ڈرونز ایرانی فوجی ماہرین نے وزارت دفاع کے تعاون سے تیار کیے ہیں اور انہیں مختلف آپریشنل زمروں میں ڈیزائن کیا گیا ہے۔
جن میں اسٹرائیکر یعنی حملہ کرنے اور جاسوسی و نگرانی کرنے والے ڈرونز بھی شامل ہیں علاوہ ازیں الیکٹرانک وارفیئر بھی بیڑے کا حصہ ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ ڈرونز زمینی، فضائی اور بحری محاذوں پر متحرک اور ساکن اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
میجر جنرل امیر حاتمی کا کہنا تھا کہ ایران کی فوج کے لیے اسٹریٹیجک برتری کو برقرار رکھنا اور اسے مزید بڑھانا ایک مستقل ترجیح ہے۔
انھوں نے کہا کہ کسی بھی جارحیت کے مقابلے میں تیز رفتار اور فیصلہ کن ردعمل کے لیے تیاری ایران کی دفاعی حکمت عملی کا بنیادی حصہ ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ٹرمپ نے بیان دیا کہ ایک بڑا بحری بیڑا ایران کی جانب بڑھ رہا ہے۔
جس پر ایران نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی امریکی حملے کی صورت میں ایران کی جانب سے فوری اور بھرپور جواب دیا جائے گا۔
تاہم ایران نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ وہ مذاکرات کے لیے تیار ہے لیکن اس کے لیے شرائط منصفانہ، متوازن اور غیر جابرانہ ہوں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔