راولپنڈی اسلام آباد میں یکساں اوقات اذان اور نماز کا کلینڈر جلد جاری کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
وفاقی وزیر مذہبی امور سردار یوسف نے کہا کہ وزارت مذہبی امور یکساں اذان اور جماعت کے لیے قانون سازی پر کام کر رہی ہے اور آج کے اجلاس کی مشاورت مستقبل میں نماز باجماعت کے فروغ میں معاون ثابت ہو گی۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف کی زیر صدارت جمعرات کو وزارت مذہبی امور میں راولپنڈی اور اسلام آباد میں یکساں اوقات اذان اور نماز کے لیے مشاورتی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں تمام مکاتبِ فکر کے جید علماء، مشائخ عظام اور تاجر برادری کے نمائندوں نے "نظامِ صلوٰۃ" کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی اور فیصلہ کیا کہ یکساں اذان اور نماز کا کلینڈر جلد جاری کیا جائے گا اور باقاعدہ عمل درآمد شروع ہو گا۔ وفاقی وزیر نے اجلاس کے آغاز میں کہا کہ پچھلی حکومت میں یکساں اذان اور نماز کا نفاذ ہوا تھا، لیکن حکومتوں کی تبدیلی کے باعث عمل درآمد رک گیا۔ اب ہم اتفاقِ رائے سے اس سفر کو آگے بڑھانے کے لیے عملی اقدامات کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ راولپنڈی اور اسلام آباد میں یکساں اذان اور جماعت کے آغاز کے اثرات چاروں صوبوں، بشمول گلگت بلتستان تک محسوس کیے جائیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ وزارت مذہبی امور یکساں اذان اور جماعت کے لیے قانون سازی پر کام کر رہی ہے اور آج کے اجلاس کی مشاورت مستقبل میں نماز باجماعت کے فروغ میں معاون ثابت ہو گی۔ وفاقی سیکریٹری مذہبی امور ڈاکٹر ساجد محمود چوہان نے دفاتر اور تجارتی مراکز میں نماز اور وضو کی سہولیات کی فراہمی کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ اجلاس میں علماء اور تاجروں کی اتفاق رائے مثالی ہے، جسے عملی سطح پر آگے بڑھانا ضروری ہے۔ ممبر مرکزی رویت ہلال کمیٹی مفتی ضمیر احمد ساجد نے کہا کہ نماز اور اذان کا ایک وقت اپنانا چاہیے تاکہ ہر طبقہ خوش دلی سے شامل ہو سکے، اور پہلے نمازِ جمعہ سے اس منصوبے کا آغاز کر کے باقی نمازوں تک مرحلہ وار بڑھایا جائے۔ مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے صدر چوہدری کاشف نے کہا کہ ایک مضبوط اور منظم ماحول نماز کے فروغ میں مددگار ثابت ہو گا اور اسلام آباد کی دکانیں رضاکارانہ طور پر نماز کے وقت بند کرنے کے لیے تیار ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: یکساں اذان اور اذان اور نماز اسلام آباد میں یکساں نے کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔