پنجاب اسمبلی: پی ٹی آئی نے بسنت کو سیاسی کرنے کی کوشش کی تو ایکشن ہوگا۔وزیر پارلیمانی امور
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
لاہور (خصوصی نامہ نگار) پنجاب کے پارلیمانی وزیر میاں مجتبیٰ شجاع الرحمن نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی نے بسنت تہوار کو پولیٹیسائز (سیاسی) کرنے کی کوشش کی تو پھر ایکشن ہوگا، جون2026ءتک واسا کا دائرہ کار پنجاب تک ہو جائے گا۔ مجتبیٰ شجاع الرحمن نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ایم پی ایز اپنے گھروں میں بسنت منانا چاہتے ہیں شوق سے منائیں،اگر یہ بسنت فیسٹول کو فیسٹول رہنے دیں تو میں گارنٹی دیتا ہوں کوئی ایجنسی کوئی لا انفورسمنٹ ادارہ ان کے خلاف ایکشن نہیں لے گا، اگر سیاسی مقاصد کے لیے امن و امان خراب کرنے کی کوشش کی تو اس کی اجازت نہیں دی جائے گی، میں دعوت دیتا ہوں اپوزیشن لیڈر کو آئیں ہمارے ساتھ بسنت منائیں، ان کو عوام کے مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں ہے یہ تو اسمبلی میں بیٹھتے نہیں ہیں ابھی بھی یہ چلے جائیں گے،سپیکر نے گندم آلو کے ایشو پر پورا ایک سیشن رکھا تھا یہ لوگ تھے ہی نہیں یہ صرف اسمبلی میں کھڑے ہوکر بات کرتے ہیں۔ پورے لاہور میں چودہ روپے کہ روٹی مل رہی ہے،اس دوران اپوزیشن نے ہنگامہ شروع کردیا اور نعرے بازی کرنے لگے، مجتبیٰ شجاع الرحمن نے کہا اگر یہ اسمبلی کو جلسہ گاہ بنانے چاہتے ہیں تو ہمیں ان سے زیادہ یہ کام آتا ہے، اس دہشت کی سیاہی میں ہماری زندگی گزری ہے ہم سیاسی کارکن ہیں ہم نے مشرف کا بھی دور دیکھا ہے ان کا بھی دیکھا ہے، اپوزیشن لیڈر معین ریاض قریشی نے کہا ہے کہ حکومت نے بانی پی ٹی ائی کی تصاویر والی پتنگوں پر پابندی لگائی ہے۔ تصاویر کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ بانی پی ٹی ائی کی تصویر سب کے دلوں میں لگی ہوئی ہے، حکومت کو اپنی توانائیاں عوام کی فلاح و بہبود پر لگانی چاہیے۔ کسانوں کو گندم میں نقصان ہوا۔ آلوﺅں کی فصل تباہ ہو گئی۔ بانی چیئر مین سے ملاقاتیں نہ ہونے سے افواہیں پھیل رہی ہیں،بسنت کے نام پر لوگوں کو بند گلی میں دھکیلا جا رہا ہے، میں نے ان کی لیڈر کو ٹارگٹ نہیں کیا، میں نے بس اتنا کہا ہے ان کی وزیر اعلیٰ کی تصویر تو ڈسٹ بن پر بھی لگی ہے۔ اگر یہ ہمارے قائد کی تصویر پتنگ پر لگنے دیں گے تو ان کا کیا جائے گا، جواب میں میاں مجتبیٰ شجاع الرحمن کہا کہ آپ جھوٹ بول رہے ہیں، سوالات کے دوران محکمہ کے سیکرٹری عدم موجودگی پر ڈپٹی سپیکر نے شدید برہمی کا اظہار کیا۔ سیکرٹری اور سپیشل سیکرٹری کو فوراً بارہ بجے طلب کرلیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کیا سیکرٹری صاحب ہمیں سب کو ویلا سمجھتے ہیں، ہم یہاں بارہ کروڑ عوام کے نمائندے بیٹھے ہیں لیکن محکمہ کے سیکرٹری موجود نہیں اس ایوان کو مذاق سمجھا ہوا ہے کبھی منسٹر نہیں ہوتا تو کبھی سیکرٹری نہیں ہوتا۔ پارلیمانی سیکرٹری سلطان باجوہ نے کہا محکمہ کے سیکرٹری سپیکر ملک محمد احمد خان کو آگاہ کر کے گئے ہیں، جس پر ڈپٹی سپیکر نے اجلاس پندرہ منٹ کے لئے ملتوی کر دیا۔ ڈپٹی سپیکر نے رولنگ دی کہ آج کے بعد سیکرٹری یا کم از کم سپیشل سیکرٹری کا ایوان میں ہونا لازمی ہو گا۔ حکومتی رکن احسن رضا نے کہا کہ قصور میں اس وقت عوام کو پینے کا صاف پانی دستیاب نہیں ہے۔ یہ لاکھوں لوگوں کو زہریلا پانی پلا رہے ہیں، پورے پنجاب میں ایسی صورتحال ہے۔ سپیکر ملک محمد احمد خان نے کہا تھا کہ پنجاب میں جو چھوٹی چھوٹی آبادیوں میں کالونیاں بن رہی ہیں وہاں نا سیوریج ہے نا سڑکیں ہیں، وہ جو پیسے کمانے والے لوگ ہیں وہ دیہات تک پہنچ گئے ہیں۔ ایجنڈا مکمل ہونے پر سپیکر نے اجلاس آج جمعرات دوپہر دو بجے تک کے لئے ملتوی کر دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: شجاع الرحمن سپیکر نے نے کہا
پڑھیں:
اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب ملکر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کیساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔ اسلام ٹائمز۔ لداخ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے یکجا طور حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیشرفت سے حوصلہ پا کر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط لکھ کر جموں و کشمیر کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لئے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ اپنے خط میں سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کو لکھا کہ "لیہہ ایپکس باڈی" اور "کرگل ڈیموکریٹک الائنس" کی جانب سے مرکز کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیاں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہیں کہ بامعنی نتائج صرف بات چیت کے ذریعے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔
محبوبہ مفتی نے خط میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بار پھر اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں مایوسی اور بددلی کا احساس عوام پر غالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے سیاسی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے وقار اور تحفظ کو بحال کرنا ہے تو حکومت ہند کے ساتھ تعمیری مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔
جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) رہنما ایم وائی تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، رکن پارلیمان انجینئر رشید، عام آدمی پارٹی کے صدر معراج ملک، پی ڈی ایف کے چیئرمین حکیم محمد یاسین، جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے صدر ہرش دیو سنگھ، شیو سینا (جموں و کشمیر یونٹ) کے صدر منیش ساہنی، کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین جسپال سنگھ کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں۔
انہوں نے تمام رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مشترکہ اور منظم انداز میں رابطہ قائم کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات اور متضاد خیالات کو ایک طرف رکھ کر عوامی مفاد اور اجتماعی فلاح کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ یہ سیاسی کریڈٹ لینے یا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بننا چاہیئے بلکہ ان لوگوں کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کا موقع ہونا چاہیئے جن کی نمائندگی کا ہم سب دعویٰ کرتے ہیں۔ علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، اس لئے خاص طور پر 2019ء کے بعد ایک معقول اتفاق رائے ہی واحد راستہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر لداخ ایسا کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ایک کل جماعتی اجلاس طلب کریں تاکہ مرکز کے ساتھ رابطے کے عمل کا آغاز کیا جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس سیاسی پلیٹ فارم کی کامیابی کے لئے عمر عبداللہ کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر معمولی اور مشکل حالات میں حقیقی اتحاد ہی عوام کے ان حقوق اور وقار کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے جن کی ضمانت بھارتی آئین دیتا ہے۔ محبوبہ مفتی کا یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتِ ہند کے ساتھ ان کے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔
یہ مذاکرات آرٹیکل 371 کے تحت چھٹے شیڈول کا درجہ اور قانون ساز اسمبلی کے مطالبات سے متعلق تھے۔ اگست 2019ء میں سابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ میں یہ سیاسی اتحاد سامنے آیا تھا۔ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس اور دیگر علاقائی جماعتوں نے 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 کی منسوخی سے دو روز قبل پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (PAGD) قائم کیا تھا۔ تاہم نومبر اور دسمبر 2020ء میں مرکز کی جانب سے ضلع ترقیاتی کونسل (DDC) انتخابات کے انعقاد کے بعد اس اتحاد میں اختلافات نمایاں ہونے لگے۔