سندھ طاس معاہدے پر پاکستان کی بڑی کامیابی، ثالثی عدالت نے بھارت پر قانونی دباؤ بڑھا دیا
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
سندھ طاس معاہدے کے معاملے میں پاکستان کو ایک بڑی سفارتی اور قانونی کامیابی حاصل ہوگئی۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت پانی کو ہتھیار بنا رہا ہے، سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل نہیں کیا جاسکتا، امریکی جریدے کی رپورٹ
29 جنوری 2026 کو جاری ہونے والے ثالثی عدالت کے پروسیجرل آرڈر نمبر 19 میں پاکستان کے معاہدے پر مبنی مؤقف کی واضح توثیق کر دی گئی ہے جبکہ عدالت ثالثی نے نہ صرف اپنی قانونی اتھارٹی برقرار رکھی بلکہ پاکستان کے پیش کردہ شواہد کو آگے بڑھاتے ہوئے تعمیل کی ذمہ داری براہِ راست بھارت پر عائد کر دی ہے۔
عدالتِ ثالثی نے واضح طور پر قرار دیا کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت ثالثی کا عمل مکمل طور پر فعال ہے اور کسی ایک فریق کی عدم شرکت کارروائی کو روک نہیں سکتی۔
عدالت نے اس امر کی بھی تصدیق کی کہ سیاسی بیانات یا یکطرفہ اعلانات معاہداتی طریقہ کار کو معطل نہیں کر سکتے۔
عدالتی حکم میں کہا گیا کہ تعمیل کا تعین زمینی اور عملی حقائق کی بنیاد پر ہوگا نہ کہ مبالغہ آمیز یا مفروضاتی منصوبہ بندی پر۔
عدالت نے کارروائی میں بھارت کی جانب سے مقررہ ٹائم لائنز پر عدم جواب دہی کو باضابطہ طور پر ریکارڈ کا حصہ بنا لیا ہے۔
اہم پیشرفت کے طور پر عدالت نے ہدایت دی ہے کہ بھارت مقررہ مدت کے اندر اپنے آپریشنل لاگ بکس اور متعلقہ ریکارڈ پیش کرے اور واضح کیا کہ عدم تعاون سندھ طاس معاہدے کے تحت کسی بھی فریق کی ذمہ داریوں کو کمزور نہیں کرتا۔
مزید پڑھیے: سندھ طاس معاہدہ کی معطلی پاکستان کی آبی سلامتی کے لیے خطرہ، اسلام آباد نے اقوام متحدہ کو خبردار کر دیا
عدالت نے شفافیت کو لازمی قرار دیتے ہوئے حکم دیا کہ تمام مطلوبہ ریکارڈ ٹریبونل کے سامنے رکھا جائے۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ اگر بھارت نے عدالتی حکم کے باوجود ریکارڈ فراہم نہ کیا تو اس کے خلاف منفی قانونی نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے۔
ثالثی عدالت نے مزید واضح کیا کہ شواہد عدم تعاون کے باوجود عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنیں گے اور رازداری کو معاہداتی فیصلوں میں رکاوٹ بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
عدالت کے مطابق کوئی بھی طریقۂ کار یا تکنیکی تحفظ، سندھ طاس معاہدے کے حقوق اور فرائض پر فوقیت نہیں رکھتا۔
عدالتِ ثالثی نے عبوری تحفظ کے معاملے میں اپنی واحد اور خصوصی اتھارٹی کو بھی دوبارہ برقرار رکھا اور اس بات کی تصدیق کی کہ پاکستان کو فوری معاہداتی ریلیف حاصل کرنے کا مکمل حق حاصل ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ نقصان یا کشیدگی کو روکا جا سکے۔
اس فیصلے کے نتیجے میں پاکستان کی قانونی ساکھ مزید مضبوط ہوئی ہے جبکہ بھارت کی عدم تعمیل اور عدم تعاون عالمی سطح پر تنہا ہوتی دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیں: ثالثی عدالت کا فیصلہ پاکستانی مؤقف کی تائید، بھارت یکطرفہ سندھ طاس معاہدہ معطل نہیں کرسکتا، وزیراعظم
عدالت کے مطابق پاکستان کی معاہدے کی پاسداری پر مبنی حکمت عملی نے سندھ طاس معاہدے کے استحکام کو یقینی بنایا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ثالثی عدالت ثالثی عدالت کا بھارت پر دباؤ سندھ طاس معاہدہ سندھ طاس معاہدہ اور پاکستان کی سفارتی کامیابی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ثالثی عدالت ثالثی عدالت کا بھارت پر دباؤ سندھ طاس معاہدہ سندھ طاس معاہدہ اور پاکستان کی سفارتی کامیابی سندھ طاس معاہدے کے سندھ طاس معاہدہ ثالثی عدالت پاکستان کی عدالت نے
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔