وفاقی آئینی عدالت نے بلوچستان صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی بی 21 کی الیکشن عذرداری سے متعلق صالح بھوتانی کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

کیس کی سماعت چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں وفاقی آئینی عدالت کے 3 رکنی بینچ نے کی۔

سماعت کے دوران علی حسن زہری کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے عدالت کو بتایا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے دوبارہ گنتی کا عمل مکمل طور پر درست تھا اور دوبارہ گنتی ایک انتظامی عمل ہوتا ہے، نہ کہ عدالتی۔

یہ بھی پڑھیں: پی بی 21 الیکشن کیس: آئینی عدالت نے دوبارہ گنتی کے قانونی طریقہ کار پر وضاحت طلب کرلی

ان کا مؤقف تھا کہ الیکشن کمیشن نے قانون کے مطابق اختیارات استعمال کیے۔

فاروق ایچ نائیک نے مزید بتایا کہ سپریم کورٹ نے الیکشن ایکٹ کے سیکشن 95(6) کے تحت یہ معاملہ دوبارہ الیکشن کمیشن کو بھجوایا تھا تاکہ قانونی تقاضوں کے مطابق کارروائی کی جا سکے۔

اس موقع پر چیف جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ کے احکامات کے بعد الیکشن ٹریبونل نے اپنا پہلا فیصلہ برقرار رکھا۔

مزید پڑھیں: بلوچستان اسمبلی کے حلقہ 21 سے متعلق انتخابی عذرداری پرالیکشن کمیشن کو نوٹس جاری

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا الیکشن ٹریبونل کی جانب سے اپنا سابقہ فیصلہ برقرار رکھنا سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی کے زمرے میں نہیں آتا؟

دلائل مکمل ہونے کے بعد وفاقی آئینی عدالت نے صالح بھوتانی کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا۔

گزشتہ سماعت پر چیف جسٹس امین الدین خان نے الیکشن ایکٹ کے تحت دوبارہ گنتی کے قانونی طریقہ کار پر وضاحت طلب کی تھی۔

مزید پڑھیں: بلوچستان کے نو منتخب رکن اور وزیر علی حسن زہری تنازعات کا شکار کیوں؟

صالح بھوتانی کے وکیل خواجہ حارث نے عدالت کو بتایا کہ الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر تاحال فارم 47 موجود ہے۔

جس کے مطابق صالح بھوتانی نے 30 ہزار 910 ووٹ حاصل کر کے پہلی پوزیشن حاصل کی جبکہ علی حسن زہری کو 17 ہزار ووٹ ملے۔

خواجہ حارث کے مطابق دوبارہ گنتی کے بعد صالح بھوتانی کے 13 ہزار 507 ووٹ کینسل کر دیے گئے، حالانکہ دوبارہ گنتی کی درخواست میں صرف خدشات کا ذکر کیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: کراچی میں سابق وزیراعلیٰ کے گھر چھاپہ، سندھ اور بلوچستان حکومتیں آمنے سامنے

انہوں نے مؤقف اپنایا کہ الیکشن کے روز پولنگ کے بعد حالات خراب ہو گئے، لڑائی جھگڑے ہوئے اور سڑکیں بند کی گئیں۔ واقعے کی ایف آئی آر بھی درج ہے تاہم تاحال چالان پیش نہیں کیا گیا۔

وکیل نے مزید بتایا کہ ریٹرننگ افسر نے اس صورتحال سے متعلق الیکشن کمیشن کو خط بھی لکھا تھا۔

اس موقع پر چیف جسٹس امین الدین خان نے دریافت کیا کہ اگر الزامات درست ثابت ہوں تو الیکشن ایکٹ کے تحت دوبارہ گنتی کا کیا قانونی طریقہ کار ہوتا ہے۔

مزید پڑھیں: جسٹس امین الدین کی سربراہی میں بینچ مختلف الیکشن کیسز پر کل سماعت کرے گا

جواب میں خواجہ حارث نے بتایا کہ دوبارہ گنتی ممکن ہوتی ہے اور اسی عمل کے دوران 10 ہزار 577 ووٹوں کا اضافہ سامنے آیا۔

ان کے مطابق پہلی گنتی میں 76 ہزار ووٹ نکلے تھے جبکہ دوبارہ گنتی میں 87 ہزار ووٹ سامنے آئے۔

علی حسن زہری کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے عدالت کو بتایا کہ معاملہ 39 پولنگ اسٹیشنز سے متعلق ہے۔

ان کے مطابق دوبارہ گنتی کی درخواست پر الیکشن کمیشن نے دوبارہ انتخابات کا حکم دیا تھا، جسے دونوں فریقین نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا، فریقین کی استدعا پر سپریم کورٹ نے بعد ازاں دوبارہ گنتی کا حکم دیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

الیکشن ایکٹ الیکشن کمیشن ایف آئی آر پولنگ جسٹس امین الدین خان خواجہ حارث دوبارہ گنتی صالح بھوتانی فاروق ایچ نائیک وفاقی آئینی عدالت.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: الیکشن ایکٹ الیکشن کمیشن ایف ا ئی ا ر پولنگ جسٹس امین الدین خان خواجہ حارث دوبارہ گنتی صالح بھوتانی فاروق ایچ نائیک وفاقی ا ئینی عدالت چیف جسٹس امین الدین خان وفاقی آئینی عدالت فاروق ایچ نائیک آئینی عدالت نے الیکشن کمیشن صالح بھوتانی علی حسن زہری دوبارہ گنتی الیکشن ایکٹ خواجہ حارث سپریم کورٹ مزید پڑھیں کہ الیکشن بتایا کہ کے مطابق کے بعد

پڑھیں:

بالآخر بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے بھی مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا

بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین آج بروز  جمعہ کو اپنی آئینی مدت مکمل ہونے سے قبل ہی مستعفی ہو جائیں گے۔ ان کے استعفے کا فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب معزول وزیراعظم شیخ حسینہ نے عدالت سے سزا ملنے کے باوجود دسمبر میں وطن واپس آ کر خود کو قانون کے حوالے کرنے کا اعلان کیا ہے، جس سے ملک میں سیاسی کشیدگی مزید بڑھنے کا امکان ہے۔

بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین جمعہ کو اپنی 5 سالہ آئینی مدت مکمل ہونے سے قبل ہی اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیں گے۔ ان کے ترجمان نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ صدر اپنا تحریری استعفیٰ پارلیمنٹ کے اسپیکر کو پیش کریں گے، جس کے بعد وہ فوری طور پر مؤثر ہو جائے گا۔

صدر کے استعفے کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب معزول وزیراعظم شیخ حسینہ نے جلاوطنی ختم کرکے رواں سال دسمبر میں بنگلہ دیش واپس آنے اور عدالت کے سامنے خود کو پیش کرنے کا اعلان کیا ہے۔

محمد شہاب الدین کو شیخ حسینہ کا قریبی اتحادی سمجھا جاتا ہے۔ ان کے مستعفی ہونے کے بعد شیخ حسینہ کے پاس ریاست کے اعلیٰ ترین عہدوں پر کوئی اہم سیاسی اتحادی باقی نہیں رہے گا۔

شیخ حسینہ کی جماعت عوامی لیگ پر 2024 میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والی عوامی تحریک کے بعد پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ اس تحریک کے نتیجے میں ان کی حکومت کا خاتمہ ہوا، جبکہ جماعت کے متعدد رہنما اور کارکن یا تو گرفتار ہو چکے ہیں یا روپوش ہیں۔

استعفے کی وجہ کیا ہے؟

صدر کے ترجمان نے استعفے کی کوئی باضابطہ وجہ نہیں بتائی، تاہم معاملے سے باخبر 3 ذرائع کے مطابق 11 جماعتی اپوزیشن اتحاد کی طرف سے صدر سے مستعفی ہونے کے مطالبے کے بعد حکومت نے محمد شہاب الدین پر مستعفی ہونے کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔

آئینی طریقہ کار

صدر کے پریس سیکریٹری سروار عالم کے مطابق آئین کے تحت صدر کا استعفیٰ اسپیکر کو دستخط شدہ خط موصول ہونے کے بعد مؤثر ہو جاتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اسپیکر حافظ الدین احمد کے تھائی لینڈ سے وطن واپس پہنچتے ہی صدر استعفیٰ پیش کریں گے۔

آئین کے مطابق صدر کے مستعفی ہونے کے بعد نئے صدر کے انتخاب تک پارلیمنٹ کے اسپیکر قائم مقام صدر کے فرائض انجام دیں گے۔

شیخ حسینہ کی واپسی سے سیاسی کشیدگی

شیخ حسینہ نے حال ہی میں رائٹرز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اور عوامی لیگ کی سینئر قیادت دسمبر کے آس پاس وطن واپس آ کر عدالت کے سامنے خود کو پیش کریں گے۔

گزشتہ نومبر میں بنگلہ دیش کے وار کرائمز ٹریبونل نے 2024 کی عوامی تحریک کو طاقت کے ذریعے کچلنے کے مقدمے میں شیخ حسینہ کو غیر موجودگی میں سزائے موت سنائی تھی۔

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق اس کارروائی میں تقریباً 1,400 افراد ہلاک ہوئے تھے، تاہم شیخ حسینہ نے جلاوطنی کے دوران ان تمام الزامات کو مسترد کر رکھا ہے۔

موجودہ حکومت پر دباؤ

شیخ حسینہ کی بھارت سے ممکنہ واپسی کی خبروں کے بعد وزیراعظم طارق رحمان کی حکومت پر عوامی دباؤ میں اضافہ ہوا ہے کہ سابق وزیراعظم کے باقی ماندہ بااثر اتحادیوں کو بھی اہم سرکاری عہدوں سے ہٹا دیا جائے۔

اگرچہ بنگلہ دیش میں صدر کا منصب زیادہ تر آئینی اور رسمی نوعیت کا ہے اور انتظامی اختیارات وزیراعظم اور کابینہ کے پاس ہوتے ہیں، تاہم اگست 2024 میں شیخ حسینہ کے نئی دہلی فرار ہونے کے بعد پیدا ہونے والے سیاسی خلا میں اس عہدے کی اہمیت بڑھ گئی تھی۔

2023 میں بلا مقابلہ منتخب ہوئے تھے

76 سالہ محمد شہاب الدین کو 2023 میں عوامی لیگ کے امیدوار کی حیثیت سے بلا مقابلہ صدر منتخب کیا گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق انہوں نے گزشتہ منگل کو وزیراعظم طارق رحمان کو اپنے استعفے کے فیصلے سے آگاہ کر دیا تھا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق صدر کے استعفے اور شیخ حسینہ کی متوقع واپسی سے بنگلہ دیش کی سیاسی صورتحال ایک نئے اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین

متعلقہ مضامین

  • کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
  • اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
  • بالآخر بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے بھی مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن