ایران کا آبنائے ہرمز میں بحری مشقیں کرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
تہران: ایران کی پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمُز میں بحری مشقوں کا اعلان کر دیا۔ پاسداران انقلاب بحری فورس کی مشقیں آبنائے ہرمُز میں یکم اور 2 فروری کو ہوں گی۔
سرکاری میڈیا کے مطابق یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے اور ایران پر ممکنہ امریکی حملے کے خدشات پائے جا رہے ہیں۔
آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم تیل برآمدی گزرگاہ سمجھی جاتی ہے، جو سعودی عرب، ایران، عراق اور متحدہ عرب امارات جیسے بڑے خلیجی تیل پیدا کرنے والے ممالک کو خلیج عمان اور بحیرۂ عرب سے جوڑتی ہے۔اس سمندری پٹی کے ایک طرف امریکا کے اتحادی عرب ممالک تو دوسری طرف ایران ہے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک بہت بڑا بحری بیڑا ایران کی طرف بڑھ رہا ہے، وینیزویلا بھیجے گئے بیڑے سے بھی بڑے بیڑے کی قیادت عظیم طیارہ بردار بحری جہاز ابراہم لنکن کر رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔