data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی(اسٹاف رپورٹر)امیرجماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے سانحہ گل پلازہ میں شہید ہونے والے ایک ہی خاندان کے 4افراد نعمت اللہ، عبداللہ ولد تاجر حاجی رئیس ،صداقت خان ولد سلامت خان،یوسف خان ولد امیر محمد کی نماز جنازہ میں شرکت کی اور اہل خانہ سے دلی ہمدردی و تعزیت کی ،علاوہ ازیں منعم ظفر خان نے امیر ضلع غربی مدثر حسین انصاری کے ہمراہ یکم فروری کو اہل کراچی کے حق کے لیے شاہراہ فیصل پر ہونے والے ’’جینے دو کراچی مارچ ‘‘ کے سلسلے میں اورنگی ٹائون کا دورہ کیا ، اورنگی ٹائون کے عوام کو درپیش سنگین مسائل پرتشویش اور حکومتی نا اہلی کی شدید مذمت کی ،انہوں نے 5نمبر چورنگی ، اسلام چوک ، چشتی نگر ، گلشن ِ بہار ، اکبر شہید روڈ ، اورنگی ٹائون نمبر 12نزد بروہی ہوٹل سمیت متعدد مقامات پر کارنر میٹنگز اور عوام اجتماعات سے خطاب اور نماز جنازہ کے موقع پر میڈیا کے نمائندو ں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت کے 18سالہ بدترین دور حکمرانی کے بعد آج صورتحال یہ ہے کہ اہل کراچی سے جینے کا حق بھی چھین لیا گیا ہے ،کراچی کے ساڑھے 3 کروڑ عوام بے شمار مسائل کا شکار ہیں، گل پلازہ کا سانحہ ہو یا شہرمیں پانی کی قلت، بجلی کا بحران، خونی ڈمپر اور ٹینکر سے قیمتی جانوں کا ضیاع، گٹروں میں گر کر بچوں کی اموات‘ ٹرانسپورٹ کی عدم فراہمی اور سڑکوں کی خستہ حالی ہو یا کوڑے کے ڈھیر، کراچی کے شہریوں کا کوئی پر سانِ حال نہیں ۔ایسے حالات میں کراچی کے عوام کو تنہا نہیں چھوڑا جاسکتا۔جماعت اسلامی کے تحت یکم فروری کو شاہراہ فیصل پر عظیم الشان و تاریخی ’’جینے دو کراچی مارچ‘‘ ہوگا، جس سے امیرجماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن خصوصی خطاب کریں گے ،یہ مارچ کسی ایک جماعت کا نہیں بلکہ کراچی کے ہر شہری کا مارچ ہے۔ہم چاہتے ہیں کہ کراچی کے شہریوں کو ان کا حق ، تحفظ اور عزت کے ساتھ جینے کا حق ملے۔ انہوں نے کہا کہ اورنگی ٹاؤن کے عوام کو پانی، بجلی اور سیوریج جیسے بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھا گیا ہے، جبکہ منتخب نمائندے اور میئر کراچی محض بیانات تک محدود ہیں۔ پیپلز پارٹی کی قیادت کراچی دشمن پالیسیوں پر عمل پیرا ہے جس کے نتیجے میں شہر کھنڈرات کا منظر پیش کر رہا ہے۔ سانحہ گل پلازہ حکومتی نا اہلی و مجرمانہ غفلت کا ثبوت ہے او ر یہ سانحہ صرف چند خاندانوں کا نہیں بلکہ کراچی کا سانحہ ہے۔ آج کراچی کا ہر شہری اس دکھ اور غم میں برابر کا شریک ہے۔ شہر میں روز کہیں نہ کہیں جنازے اٹھ رہے ہیں، لوگ اپنے پیاروں کی لاشیں وصول کر رہے ہیں اور کچھ خاندان آج بھی اپنے عزیزوں کی باقیات کے منتظر ہیں۔کراچی کے شہری بے بسی کی تصویر بنے ہوئے ہیں، کاروبار تباہ ہو رہے ہیں اور لوگ اپنے پیاروں کو جلتے اور مرتے دیکھ رہے ہیں۔ ابتدا میں لوگوں کو امید تھی کہ شاید کچھ افراد زندہ بچ جائیں گے، لیکن پھر امید لاشوں میں بدل گئی اور اب صورتحال یہ ہے کہ بعض خاندان اپنے پیاروں کی باقیات مانگ رہے ہیں تاکہ انہیں سپردِ خاک کر سکیں۔ منعم ظفر خان کا اورنگی ٹائون آمد پر اور جگہ جگہ شاندار استقبال کیا گیا اور پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں ، علاقہ مکینوں نے اپنے مسائل و شکایات سے آگاہ کیا ، اس موقع پر نائب امرا خالد زمان شیخ، شہباز خالد، ضلعی سیکرٹری عبدالحنان خان، جماعت اسلامی کے منتخب چیئرمین ،وائس چیئرمین وکونسلرز بھی موجود تھے جبکہ ملک ترین گراؤنڈ میں ادا کی گئی نماز جنازہ میں معاون خصوصی محمد اسحاق خان، ڈپٹی سیکرٹری کراچی عبد الرزاق خان ،امرا اضلاع مولانا فضل احد، ڈاکٹر نورالحق، سیکرٹری ضلع سائٹ غربی راشد خان، سیکرٹری اطلاعات زاہد عسکری و دیگر بھی موجود تھے۔

 

اسٹاف رپورٹر گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اورنگی ٹائون کراچی کے رہے ہیں

پڑھیں:

لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق

لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔

(جاری ہے)

پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق