چراغ طور جلاؤ بڑا اندھیرا ہے
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
خدیجہ چھ بچوں کی ماں ہے، بڑی بیٹی پندرہ سال کی ہے، جو اس کے ساتھ ہی کام پر آتی ہے اورگھروں میں جھاڑو پونچھا کرتی ہے، برتن دھوتی ہے، دونوں ماں بیٹیاں صبح نو بجے سے شام پانچ بجے تک کام کر تی ہیں، مختلف گھروں سے انھیں کھانا وغیرہ مل جاتا ہے جو وہ شام کو لے کر گھر جاتی ہیں۔ خدیجہ کا دوسرے نمبر کا بیٹا، ایک موٹر مکینک کے پاس کام کرتا ہے، اس کا شوہر نشئی ہے۔
تینوں افراد کل ملا کر پینتالیس ہزارکما لیتے ہیں، شوہر خدیجہ سے مار پیٹ کر رقم نشے کے لیے چھین لیتا ہے، برسوں سے کام نہیں کرتا، بس بچے پیدا کیے ہیں یا بیوی کو مارتا ہے، دس ہزار گھرکا کرایہ چلا جاتا ہے، گیس بجلی کے بل الگ ہیں، خدیجہ روز ہی پٹتی ہے لیکن شوہر سے طلاق نہیں لیتی کہ برادری والے کیا کہیں گے۔ میں نے ایک بار اس سے کہا کہ وہ پولیس سے نشئی شوہرکی شکایت کر دے اور یہ بتائے کہ وہ اس کو مارتا پیٹتا ہے تو یہ سن کر خدیجہ رو پڑی اور بولی کہ ’’باجی! میں یہ نہیں کر سکتی کیونکہ برادری میں ہر تیسرا آدمی نشئی ہے۔‘‘ خدیجہ اور اس کے بچے مل کر کام کر رہے ہیں، لیکن غربت ان کا مقدر ہے، کمانے والے تین اور کھانے والے آٹھ۔ اگر گھروں سے کھانا نہ ملے تو ان کو فاقہ کرنا پڑے، مہنگائی نے ان کی کمر توڑ دی ہے۔
کریم، چالیس سال کا ہے، چار بچے ہیں، کل چھ افراد ہیں اورکمانے والا ایک۔ گھر کرائے کا ہے، کریم بولٹن مارکیٹ پر ایک دکان پر کام کرتا ہے، جہاں سے اسے پندرہ سو روپے روزانہ ملتے ہیں، گھر میں نہ بستر ہیں نہ ہی بیڈ، ننگے فرش پر ایک پلاسٹک بچھا ہے، اس پر ایک پتلا سا گدا، تمام افراد اسی پر سوتے ہیں۔ اگر دکھ بیماری کی وجہ سے کریم کو چھٹی کرنی پڑ جائے تو تنخواہ نہیں ملتی، کسی اور وجہ سے اگر وہ ملازمت پر نہ پہنچ سکے تب بھی تنخواہ نہیں ملتی۔ گھر کا کرایہ اور گیس بجلی کے بل دے کر کھانے کو اتنا نہیں بچتا کہ پیٹ بھر کر کھانا نصیب ہو، کریم آدھے پیٹ کھانا کھاتا ہے تاکہ بچے بھوکے نہ رہیں۔ مہنگائی نے جینا عذاب کر دیا ہے، بنیادی چیزیں مہنگی ہیں، کہاں سے خریدیں؟ آٹا، چاول، دال، سبزی، کوکنگ آئل، لہسن ادرک، دھنیا، مرچیں، ہلدی، پیاز یہ سب بنیادی چیزیں ہیں جن کی ضرورت ہرگھر میں ہوتی ہے،کم آمدنی والے کہاں سے خریدیں اور کہاں سے کھائیں؟
دانش صاحب ریٹائرڈ پروفیسر ہیں،گھر میں بیوی کے علاوہ دو بیٹیاں اور ایک بیٹا ہیں، پنشن میں گزارا مشکل سے ہوتا ہے۔ ان کا گھر اپنا ہے لیکن بڑھتی ہوئی مہنگائی نے ان کے بھی چھکے چھڑا دیے ہیں، ہر چیز مہنگی، گوشت، چکن، مچھلی اور مٹن ہر شے مہنگی ہو گئی ہے۔ ہر مارکیٹ میں قیمتیں مختلف، دکاندار سے کہو کہ پچھلی دکان والا تو آلو بخارا تین سو ساٹھ روپے کا ڈھائی سو گرام دے رہا ہے اور آپ چار سو روپے کا دے رہے ہیں تو وہ منہ پھاڑ کر کہتا ہے ’’ تو وہیں سے لے لیں، میں تو اتنے میں ہی بیچوں گا۔‘‘
اسی طرح ڈرائی فروٹ کی قیمتیں ہر دکان پر الگ الگ ہیں،کوئی چیک کرنے والا نہیں۔ گوشت، سبزی اور دیگر اشیا کے نرخ ہر دکان پر الگ الگ ہیں، وہ زمانے کیا ہوئے جب فوڈ انسپکٹر مارکیٹ میں اشیا کے نرخ چیک کرنے آیا کرتے تھے اور مقرر کردہ نرخ سے زائد قیمت وصول کرنے والوں کے چالان بھی کرتے تھے لیکن اب سب کچھ ختم ہوگیا ہے کیونکہ کل کے چور آج کے حکمران جو بن گئے ہیں۔ عمران خان جب اقتدار میں آئے تو ہر روز وہ یہ کہتے نہیں تھکتے تھے کہ (ن) لیگ اور پی پی کے لوگ جو دولت باہر لے گئے ہیں وہ لوٹی ہوئی دولت ملک میں واپس لائیں گے لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا، البتہ فیض حمید کی محبت نے عمران خان کو جیل پہنچا دیا، ان پر اور ان کی اہلیہ پر تحائف خرد برد کرنے کے جرم میں وہ پابجولاں ہوگئے۔
اسلام کے نام پر بنے ہوئے ملک میں ہر طرف ظلم و ستم کا بازار گرم ہے، مہنگائی کا جن کئی برسوں سے بوتل سے باہر ہے۔ ملک کا خدا ہی حافظ ہے، کسی کو بھی اس ملک سے محبت نہیں۔ ہر طرف لوٹ مار ہے، حکمرانوں کے خزانے بھرے ہوئے ہیں، سیاستدانوں، ایم پی ایز، ایم این ایز، مقتدر طبقے اور امیروں کے لیے زندگی ایک سنہرا خواب ہے اور باقی لوگوں کے لیے ایک بھیانک سپنا ہے۔ اس ملک میں قیادت کا فقدان ہے۔
جب اقتدار میں رہ کر لوٹ کھسوٹ کرتے ہیں تو ان سے نہ کوئی پوچھنے والا نہ روکنے والا، اور جب وہ اپوزیشن میں آتے ہیں تو حکومت پہ تنقید کرنے لگتے ہیں۔ ہمارے ملک میں میوزیکل چیئرکا یہ کھیل آخر کب تک کھیلا جائے گا؟ ایک سیاستدان نے کہا ہے کہ ملک کے اگلا وزیر اعظم بلاول ہوں گے۔ یعنی میوزیکل چیئر تبدیل ہونے والی ہے۔ موجودہ منظرنامہ دیکھ لیجیے، کل کے کرپٹ آج کے حکمران ہیں، عام آدمی کو نہ حکومت سے دلچسپی ہے، نہ حکمرانوں کی لوٹ کھسوٹ سے سروکار، انھیں تو دو وقت کی روٹی درکار ہے۔
مہنگائی اس لیے بڑھا دی گئی ہے کہ عام آدمی اپنے روز و شب میں الجھ کر رہ جائے، دنیا بھر میں انقلاب ہمیشہ متوسط طبقہ لے کر آتا ہے کیونکہ اس کے پاس عقل اور سمجھ دونوں ہوتی ہیں، وہ تعلیم یافتہ بھی ہوتا ہے، اس لیے غلط کو غلط کہنے کا حوصلہ رکھتا ہے۔ غریب اپنی روزی روٹی کے چکر سے نہیں نکل سکتا اور امیر طبقہ اپنی عیاشیوں میں مگن رہتا ہے۔گزشتہ پانچ سال سے مہنگائی اس شدت سے بڑھی ہے کہ غریب اب مرنے کو ترجیح دینے لگا ہے، حکمرانوں کو کوئی یہ سبق دے کہ اگر آپ کو من مانی کرنی ہے، مال بنانا ہے، اپنے خزانے بھرنے ہیں،تو ضرورکیجیے۔ صرف مہنگائی کے جن کو بوتل میں بند کر دیجیے ۔
مزدور مر رہا ہے، روزانہ اجرت پر کام کرنے والا مصیبت کا شکار ہے، ملک میں ڈکیتیاں بڑھ گئی ہیں، اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔ جب سیدھی طرح گھی نہ نکلتا ہو تو انگلیوں کو ٹیڑھا کرنا پڑتا ہے۔ بڑھتے ہوئے جرائم کے پیچھے یہی ٹیڑھی انگلیاں ہیں۔ مہنگائی کا جن چیختا چنگھاڑتا، شور مچاتا اور دھاڑتا ہوا آ چکا ہے اور انسانوں کو جیتے جی مار رہا ہے۔ مہنگائی کی یہ آگ کسی دشمن نے نہیں بلکہ ہم نے خود لگائی ہے۔ سرکاری بے حسی نے اس پر جلتی پر تیل کا کام کیا ہے، یہ سارے ارکان اسمبلی جنھیں ڈیسک بجانے کے بھی پیسے ملتے ہیں۔ یہ بجٹ تقاریر کے دوران شور و غوغا بہت کرتے ہیں، لیکن عوام کے لیے ان کے اندر کوئی نرم گوشہ نہیں ہوتا۔ سب مفادات کا کھیل ہے، حکمران اشرافیہ کی بے حسی، مفاد پرستی اور ناعاقبت اندیشی کی وجہ سے مہنگائی پورے معاشرے کو کھوکھلا کر رہی ہے۔
اس سماج میں صرف، ڈاکٹر، قصائی، سیاستدان اور سرکاری افسر عیش کر رہے ہیں، معاشرے کا دو فی صد طبقہ ہر طرح کے عیش و عشرت کا حق دار ہے، بقیہ اٹھانوے فی صد کا مقدر مہنگائی ہے ۔ مہنگائی کے اس طوفان نے تعلیم کو بھی متاثر کیا ہے۔ پرائیویٹ یونیورسٹیوں کی لاکھوں میں فیس نے ذہین طلبا پر تعلیم کا شعبہ بھی بند کر دیا ہے۔
ماں باپ روکھی سوکھی کھا کر بچوں کی فیسیں ادا کرتے ہیں، پرائیویٹ اسکول والے بھی الٹی چھری سے والدین کو ذبح کر رہے ہیں۔ کسی کی کوئی پکڑ نہیں ہے۔ غریب کا بچہ اسکول نہیں جاتا بلکہ کسی موٹر مکینک کے ہاں ’’چھوٹا‘‘ بن جاتا ہے جو استاد کو پانا اٹھا کر دیتا ہے۔ نجی اسپتال قصائی گھر بن گئے ہیں، غریب آدمی علاج بھی نہیں کروا سکتا۔ سرکاری اسپتالوں میں رشوت اور سفارش کے بغیر علاج ممکن نہیں ہوتا۔ یہ حکمران اگر صرف مہنگائی کم کروا دیں تو بے شک عیش کریں، انھیں کوئی کچھ نہ کہے گا۔ شاید کبھی قدرت کو رحم آ جائے اور کوئی سچا اور کھرا حکمران پاکستان کو بھی میسر آ جائے لیکن جن لوگوں نے قائد اعظم پہ رحم نہیں کیا وہ ایمان دار حاکم کو کیسے برداشت کریں گے۔ باریاں لگ رہی ہیں، شاید خدا کو پاکستانی عوام پر رحم آ جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: رہے ہیں ملک میں کام کر کے لیے ہے اور ہیں تو
پڑھیں:
خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
پاکستان ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ایک طرف خارجہ محاذ پر سفارتی کامیابیوں کے دعوے کیے جا رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب ملک کے اندر سیاسی، معاشی اور سیکیورٹی کے بحران گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ کسی بھی ریاست کی اصل طاقت اس کی اندرونی مضبوطی ہوتی ہے۔ اگر گھر کے اندر بے چینی، عدم استحکام اور عوامی بے اعتمادی بڑھ جائے تو دنیا میں حاصل ہونے والی سفارتی کامیابیاں بھی دیرپا ثابت نہیں ہوتیں۔
بین الاقوامی تعلقات میں ایک معروف اصول ہے کہ “All foreign policy begins at home یعنی خارجہ پالیسی کی بنیاد مضبوط داخلی استحکام پر ہوتی ہے۔ اگر بلوچستان، خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر اور ملک کے دیگر حصوں میں عوام خود کو غیر محفوظ، محروم یا نظرانداز محسوس کریں تو بیرونی دنیا میں پاکستان کا مقف بھی کمزور پڑ جاتا ہے۔بلوچستان اس وقت پاکستان کی سلامتی اور معیشت کا سب سے اہم خطہ ہے۔ سی پیک، گوادر پورٹ، ریکوڈک، معدنی وسائل اور دیگر اسٹریٹجک منصوبے اسی صوبے سے وابستہ ہیں۔ لیکن افسوس کہ یہی صوبہ بدامنی، سیاسی بے اعتمادی اور احساسِ محرومی کا شکار ہے۔ ریاست اور عوام کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کسی بھی ترقیاتی منصوبے کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
اسی طرح خیبر پختونخوا میں دہشت گردی ہو رہی ہے جبکہ آزاد کشمیر میں حالیہ سیاسی کشیدگی نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ یہ تمام مسائل محض انتظامی نہیں بلکہ سیاسی نوعیت کے ہیں جن کا حل طاقت کے استعمال سے زیادہ سیاسی مکالمے، بہتر حکمرانی اور عوامی اعتماد کی بحالی میں پوشیدہ ہے۔
اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ بلوچستان، خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر میں پیدا ہونے والے حالات کے پیچھے بھارت کا کردار موجود ہے۔ اس امکان کو یکسر مسترد نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ ہر ملک اپنے مفادات کے مطابق مخالف ریاست کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنے داخلی مسائل کا ذمہ دار ہمیشہ بیرونی قوتوں کو قرار دے کر اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ ہو سکتے ہیں؟
اگر بھارت پاکستان کے خلاف سرگرم ہے تو اس کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان کے پاس مضبوط انٹیلی جنس ادارے، دفاعی صلاحیت اور قومی سلامتی کا پورا نظام موجود ہے۔خاص طور پر بلوچستان میں اصل مسئلہ سیاسی جواز کا ہے۔ جب عوام کو یہ احساس ہو کہ ان کی رائے اور ووٹ کی اہمیت کم ہو رہی ہے تو ریاست اور عوام کے درمیان فاصلے بڑھنے لگتے ہیں۔ نوجوان نسل میں احساسِ محرومی کا بڑھنا کسی بھی ملک کے لیے خطرناک رجحان ہے۔ پاکستان کو ایسی صورتحال سے ہر قیمت پر بچنا ہوگا۔
آزاد کشمیر کی صورتحال بھی قومی توجہ کی متقاضی ہے۔ یہ محض ایک انتظامی یا علاقائی معاملہ نہیں بلکہ مسئلہ کشمیر سے جڑا ہوا ایک حساس پہلو ہے۔ اگر آزاد کشمیر کے عوام میں بے چینی بڑھتی ہے تو اس کے اثرات مقبوضہ کشمیر تک بھی پہنچتے ہیں اور پاکستان کے اصولی مقف کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آزاد کشمیر کے عوام کی آواز کو سننا اور سیاسی مسائل کا آئینی و جمہوری حل تلاش کرنا ناگزیر ہے۔
پاکستان کو اس وقت الزام تراشی سے زیادہ خود احتسابی کی ضرورت ہے۔ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ وہ کون سی کمزوریاں ہیں جن سے ہمارے مخالف فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اگر ہم اپنے گھر کو منظم، مضبوط اور منصفانہ بنا لیں تو بیرونی سازشیں خود بخود ناکام ہو جائیں گی۔
ریاست کی طاقت صرف اس کے ہتھیاروں، اداروں یا سفارتی تعلقات سے نہیں بلکہ اپنے عوام کے اعتماد سے بنتی ہے۔ جب عوام اور ریاست ایک صفحے پر ہوں تو دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ لیکن اگر داخلی تقسیم، سیاسی کشیدگی اور احساسِ محرومی بڑھتا رہا تو بیرونی کامیابیاں بھی وقتی ثابت ہوں گی۔
آج پاکستان کو سب سے زیادہ ضرورت ایک ایسی قومی حکمت عملی کی ہے جس میں خارجہ کامیابیوں کے ساتھ ساتھ داخلی استحکام، آئینی بالادستی، بہتر حکمرانی، سیاسی مفاہمت اور عوامی اعتماد کی بحالی کو اولین ترجیح دی جائے۔ کیونکہ مضبوط پاکستان کی بنیاد اسلام آباد کے سفارتی ایوانوں میں نہیں بلکہ بلوچستان، خیبر پختونخوا، سندھ، پنجاب، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے عوام کے دلوں میں رکھی جائے گی۔
پاکستان کو اپنی علاقائی خارجہ پالیسی کا بھی غیر جانبدارانہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ خصوصا افغانستان کے ساتھ مسلسل کشیدہ تعلقات کے نتیجے میں ہونے والے جانی، معاشی اور سفارتی نقصانات پر سنجیدہ غور ہونا چاہیے۔ گزشتہ برسوں میں سرحدی کشیدگی، دہشت گردی، مہاجرین کے مسائل اور سرحدی بندشوں نے دونوں ممالک کو نقصان پہنچایا ہے۔ ایک وقت تھا جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان سالانہ تجارت تقریبا پانچ سے چھ ارب ڈالر تک پہنچ چکی تھی، مگر کشیدہ تعلقات کے باعث اس میں نمایاں کمی آئی جس کا براہِ راست اثر پاکستان کی معیشت، برآمدات اور سرحدی علاقوں کے کاروبار پر پڑا۔ یہ سوال اہم ہے کہ کیا پاکستان کی معیشت ایسے نقصانات کی متحمل ہو سکتی ہے؟ کیا ہمسایہ ممالک کے ساتھ مستقل کشیدگی قومی مفاد میں ہے یا اس سے نقصان زیادہ اور فائدہ کم ہوتا ہے؟ پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی علاقائی پالیسیوں پر ازسرِنو غور کرے۔ مضبوط خارجہ پالیسی وہی ہوتی ہے جو قومی سلامتی کے ساتھ ساتھ اقتصادی مفادات، علاقائی تعاون اور پائیدار امن کو بھی ترجیح دے۔