سانحہ گل پلازہ کی تحقیقاتی رپورٹ
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
’’گل پلازہ کراچی میں تباہ کن آگ بچوں کے ہاتھوں گرائونڈ فلور پر واقع ایک فلاور شاپ سے شروع ہوئی اور ائرکنڈیشنر کے ڈکٹس سے ہوتی ہوئی پوری عمارت میں پھیل گئی جس کے نتیجے میں 79 جانیں گئیں، زیادہ تر اموات میزنائن فلور پر ہوئیں‘‘۔ یہ انکشافات سانحہ گل پلازہ سے متعلق حکومت کی قائم کردہ دو رکنی تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی حتمی رپورٹ میں کیے ہیں، رپورٹ تیار کرنے والی کمیٹی کمشنر کراچی اور ایڈیشنل آئی جی پولیس پر مشتمل تھی رپورٹ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو پیش کی جانا تھی مگر اس سے پہلے ہی یہ ذرائع ابلاغ کی زینت بن گئی۔ ان ذرائع کے مطابق رپورٹ میں آگ لگنے کی وجوہات اور آگ بجھانے سمیت ریسکیو سے متعلق تفصیلات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ رپورٹ میں متاثرین، عینی شاہدین اور ریسکیو حکام سے حاصل معلومات درج ہیں۔ رپورٹ میں لکھا ہے کہ گرائونڈ فلور پر موجود بچے کے ہاتھوں فلاور شاپ میں آگ لگی، آگ تیزی سے ائرکنڈیشن کے ڈکٹس کی طرف سے پھیلی۔ پلازہ میں آگ رات دس بج کر پندرہ منٹ پر لگی، پہلا فائر ٹینڈر 10:37 منٹ پر گل پلازہ پہنچا، ڈپٹی کمشنر جنوبی 10:30 پر گل پلازہ پہنچے۔ دوسری طرف سیاسی اور صحافتی حلقوں نے اس رپورٹ کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ جب گل پلازہ میں سیکڑوں کی تعداد میں تاجر اور گاہک موجود تھے تو انہوں نے بچے کی لگائی ہوئی آگ کو کیوں نہ بجھایا۔ جب ضلعی حکام اور فائر بریگیڈ وقت پر پہنچ گئے تو وہ عمارت کے اندر کیوں نہ گئے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ جب آگ لگ اور پھیل رہی تھی، ہر طرف شور مچ رہا تھا تو اس کو بجھانے کی کتنی کوشش ہوئی یا جب لوگ جان بچانے کے لیے بھاگ رہے تھے تو پلازے کے صرف پندرہ منٹ پہلے بند کیے گئے دروازے کیوں نہ کھولے گئے اور سوال یہ ہے کہ دروازے بند ہی کیوں تھے جب وہاں سیکڑوں لوگ موجود تھے۔ کیا یہ حیرت انگیز نہیں کہ آگ فرسٹ فلور پر لگی مگر سب سے زیادہ نقصان میزونائن فلور پر ہوا اس کی وجہ کیا ہے۔
سانحہ گل پلازہ سے متعلق اس حتمی تحقیقاتی رپورٹ کا جائزہ لیا جائے تو اس میں بہت سے پہلو تشنہ اور جواب طلب ہیں جن پر عوامی، سیاسی، سماجی اور صحافتی حلقوں کے اعتراضات معقول محسوس ہوتے ہیں، اس ضمن میں سب سے اہم سوال تو یہی ہے کہ کمشنر کراچی اور ایڈیشنل آئی جی، جن دو حضرات پر مشتمل تحقیقاتی کمیٹی نے یہ رپورٹ تیار کی ہے وہ خود تو اس سانحہ سے متعلق سب سے زیادہ ذمے دار اور جواب دہ ہیں، حکومت نے ان ہی پر مشتمل تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی، گویا یہ حضرات خود ہی ملزم ہیں اور خود ہی منصف، ان سے غیر جانبدارانہ اور حقائق کو مد نظر رکھ کر تحقیقات کی توقع کیونکہ رکھی جا سکتی ہے، چنانچہ سرسری جائزہ ہی میں یہ حقیقت نمایاں ہو کر سامنے آ جاتی ہے کہ حتمی تحقیقاتی رپورٹ کے نام پر تیار کی گئی یہ دستاویز ناقص اورنا قابل اعتماد ہے جس میں بہت سے حقائق کی پردہ پوشی کی گئی ہے تاکہ سانحہ کے ذمے دار سرکاری حکام اور اہلکاروں کو تحفظ دیا جا سکے۔ رپورٹ میں جس بچے کو آگ کا ذمے دار ٹھیرایا گیا ہے، اس کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا کہ وہ بچہ کون تھا، کیا وہ بھی اس سانحہ میں آگ کے شعلوں کی نذر ہو گیا یا وہ ابھی زندہ ہے رپورٹ کے مطابق ضلع جنوبی کے ڈپٹی کمشنر ناقابل یقین مستعدی کا مظاہرہ کرتے ہوئے رات سوا دس بجے آگ لگنے کے صرف پندرہ منٹ کے اندر گل پلازہ پہنچ چکے تھے جب کہ فائر بریگیڈ کے عملہ کو دس بج کر 26 منٹ پر اطلاع ملی اور پہلا فائر ٹینڈر صرف گیارہ منٹ بعد دس بج کر 37 منٹ پر جائے وقوعہ پر پہنچ چکا تھا اگر رپورٹ کے اس بیانیہ پر یقین کر لیا جائے تو یہ سوال نہایت اہمیت اختیار کر جاتا ہے کہ حکام اور آگ بجھانے کے عملہ کے بروقت بلکہ وقت سے بھی پہلے جائے وقوعہ پہنچ جانے کے باوجود آگ پر ابتدائی مراحل ہی میں قابو کیوں نہ پایا جا سکا اور ان کی وہاں موجودگی کے باوجود آگ اس قدر زیادہ کیونکر پھیل گئی کہ پوری عمارت اور اس میں موجود ہر چیز کو جلا کر راکھ کر دیا اور بیسیوں انسان اس کا شکار بن گئے۔ یہ تو سیدھا سیدھا اعتراف ہے کہ متعلقہ عملہ اپنے فرائض کی ادائیگی میں ناکام رہا اور سراسر نا اہلی اور کوتاہی کا مرتکب ہوا۔ کیا یہ مناسب نہ ہو گا کہ حکومت انتظامی حکام کی تحقیقاتی کمیٹی کی اس رپورٹ کی بنیاد پر گل پلازہ کے انتہائی اندوہناک سانحہ کو طاق نسیاں کی زینت بنانے کے بجائے عوامی اطمینان کی خاطر غیر جانبدار عدالتی کمیشن تشکیل دے تاکہ عوام کے لیے باعث اطمینان، قابل اعتماد، غیر جانبدارانہ اور جامع رپورٹ قوم کے سامنے آ سکے اور حکومت اس کی روشنی میں مستقبل میں ایسے سانحہ سے بچنے کے لیے موثر اقدامات بروئے کار لا سکے۔
عوامی حلقوں کی طرف سے اٹھایا جانے والا یہ سوال بھی اپنے اندر خاصا وزن رکھتا ہے کہ بچے کی غلطی سے لگنے والی معمولی آگ کو اس قدر پھیلنے کا موقع کیوں دیا گیا۔ دکان کے قرب و جوار میں موجود افراد نے فوری طور پر اس کو بجھانے پر توجہ کیوں نہ دی کیا ہمارے تاجر اور عام لوگ اس قدر بے حس ہو چکے ہیں کہ وہ صورتحال کی نزاکت کا احساس کیے بغیر اپنے کاروبار میں مصروف رہے اور اپنے ارد گرد برپا شور پر بالکل توجہ نہ دی؟ سوال یہ بھی ہے کہ کیا گل پلازہ میں آگ بجھانے کے ضروری آلات یا انتظامات موجود تھے جو اب اگر اثبات میں ہے تو پھر ان آلات اور انتظامات کو بروقت بروئے کار کیوں نہیں لایا گیا اور اگر جواب نفی میں ہو تو سوال یہ ہے کہ متعلقہ حکام نے قبل از وقت اس پر کارروائی کیوں نہیں کی؟ گل پلازہ کے سانحہ سے متعلق فائر بریگیڈ کے ایک کارکن سے منسوب یہ بیان بھی توجہ اور تحقیق طلب ہے کہ جو آگ لگ جائے اسے بجھایا جا سکتا ہے مگر جو لگائی جائے اسے بجھایا نہیں جا سکتا۔ سانحہ گل پلازہ کے سلسلے میں اہم ترین اور سنگین ترین الزام یہ ہے کہ سانحہ سے ایک ہفتہ قبل پلازہ کے تاجروں اور دکانداروں کو بھتے کی پرچیاں ملیں، تاجروں نے متعلقہ حکام کو اس بارے میں شکایت بھی کی۔ پھر پریس کانفرنس کے ذریعے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو صورت حال کی سنگینی سے آگاہ کیا۔ لیکن حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی کسی نے ان کی چیخ و پکار پر توجہ دی اور نہ ہی پولیس یا ضلعی انتظامیہ نے کوئی کارروائی کی۔ حکومت خصوصاً وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ کو سب سے زیادہ اس آخری الزام پر توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ اس نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں اللہ کرے آخری ہو مگر اس کے لیے حکومت کو اس جانب نہایت سنجیدگی سے توجہ دینا ہو گی اور مستقبل کے لیے ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: تحقیقاتی کمیٹی سانحہ گل پلازہ رپورٹ میں پلازہ کے یہ ہے کہ کیوں نہ فلور پر کے لیے
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔