Jasarat News:
2026-07-24@01:57:45 GMT

سانحہ گل پلازہ کی تحقیقاتی رپورٹ

اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

’’گل پلازہ کراچی میں تباہ کن آگ بچوں کے ہاتھوں گرائونڈ فلور پر واقع ایک فلاور شاپ سے شروع ہوئی اور ائرکنڈیشنر کے ڈکٹس سے ہوتی ہوئی پوری عمارت میں پھیل گئی جس کے نتیجے میں 79 جانیں گئیں، زیادہ تر اموات میزنائن فلور پر ہوئیں‘‘۔ یہ انکشافات سانحہ گل پلازہ سے متعلق حکومت کی قائم کردہ دو رکنی تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی حتمی رپورٹ میں کیے ہیں، رپورٹ تیار کرنے والی کمیٹی کمشنر کراچی اور ایڈیشنل آئی جی پولیس پر مشتمل تھی رپورٹ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو پیش کی جانا تھی مگر اس سے پہلے ہی یہ ذرائع ابلاغ کی زینت بن گئی۔ ان ذرائع کے مطابق رپورٹ میں آگ لگنے کی وجوہات اور آگ بجھانے سمیت ریسکیو سے متعلق تفصیلات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ رپورٹ میں متاثرین، عینی شاہدین اور ریسکیو حکام سے حاصل معلومات درج ہیں۔ رپورٹ میں لکھا ہے کہ گرائونڈ فلور پر موجود بچے کے ہاتھوں فلاور شاپ میں آگ لگی، آگ تیزی سے ائرکنڈیشن کے ڈکٹس کی طرف سے پھیلی۔ پلازہ میں آگ رات دس بج کر پندرہ منٹ پر لگی، پہلا فائر ٹینڈر 10:37 منٹ پر گل پلازہ پہنچا، ڈپٹی کمشنر جنوبی 10:30 پر گل پلازہ پہنچے۔ دوسری طرف سیاسی اور صحافتی حلقوں نے اس رپورٹ کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ جب گل پلازہ میں سیکڑوں کی تعداد میں تاجر اور گاہک موجود تھے تو انہوں نے بچے کی لگائی ہوئی آگ کو کیوں نہ بجھایا۔ جب ضلعی حکام اور فائر بریگیڈ وقت پر پہنچ گئے تو وہ عمارت کے اندر کیوں نہ گئے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ جب آگ لگ اور پھیل رہی تھی، ہر طرف شور مچ رہا تھا تو اس کو بجھانے کی کتنی کوشش ہوئی یا جب لوگ جان بچانے کے لیے بھاگ رہے تھے تو پلازے کے صرف پندرہ منٹ پہلے بند کیے گئے دروازے کیوں نہ کھولے گئے اور سوال یہ ہے کہ دروازے بند ہی کیوں تھے جب وہاں سیکڑوں لوگ موجود تھے۔ کیا یہ حیرت انگیز نہیں کہ آگ فرسٹ فلور پر لگی مگر سب سے زیادہ نقصان میزونائن فلور پر ہوا اس کی وجہ کیا ہے۔

سانحہ گل پلازہ سے متعلق اس حتمی تحقیقاتی رپورٹ کا جائزہ لیا جائے تو اس میں بہت سے پہلو تشنہ اور جواب طلب ہیں جن پر عوامی، سیاسی، سماجی اور صحافتی حلقوں کے اعتراضات معقول محسوس ہوتے ہیں، اس ضمن میں سب سے اہم سوال تو یہی ہے کہ کمشنر کراچی اور ایڈیشنل آئی جی، جن دو حضرات پر مشتمل تحقیقاتی کمیٹی نے یہ رپورٹ تیار کی ہے وہ خود تو اس سانحہ سے متعلق سب سے زیادہ ذمے دار اور جواب دہ ہیں، حکومت نے ان ہی پر مشتمل تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی، گویا یہ حضرات خود ہی ملزم ہیں اور خود ہی منصف، ان سے غیر جانبدارانہ اور حقائق کو مد نظر رکھ کر تحقیقات کی توقع کیونکہ رکھی جا سکتی ہے، چنانچہ سرسری جائزہ ہی میں یہ حقیقت نمایاں ہو کر سامنے آ جاتی ہے کہ حتمی تحقیقاتی رپورٹ کے نام پر تیار کی گئی یہ دستاویز ناقص اورنا قابل اعتماد ہے جس میں بہت سے حقائق کی پردہ پوشی کی گئی ہے تاکہ سانحہ کے ذمے دار سرکاری حکام اور اہلکاروں کو تحفظ دیا جا سکے۔ رپورٹ میں جس بچے کو آگ کا ذمے دار ٹھیرایا گیا ہے، اس کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا کہ وہ بچہ کون تھا، کیا وہ بھی اس سانحہ میں آگ کے شعلوں کی نذر ہو گیا یا وہ ابھی زندہ ہے رپورٹ کے مطابق ضلع جنوبی کے ڈپٹی کمشنر ناقابل یقین مستعدی کا مظاہرہ کرتے ہوئے رات سوا دس بجے آگ لگنے کے صرف پندرہ منٹ کے اندر گل پلازہ پہنچ چکے تھے جب کہ فائر بریگیڈ کے عملہ کو دس بج کر 26 منٹ پر اطلاع ملی اور پہلا فائر ٹینڈر صرف گیارہ منٹ بعد دس بج کر 37 منٹ پر جائے وقوعہ پر پہنچ چکا تھا اگر رپورٹ کے اس بیانیہ پر یقین کر لیا جائے تو یہ سوال نہایت اہمیت اختیار کر جاتا ہے کہ حکام اور آگ بجھانے کے عملہ کے بروقت بلکہ وقت سے بھی پہلے جائے وقوعہ پہنچ جانے کے باوجود آگ پر ابتدائی مراحل ہی میں قابو کیوں نہ پایا جا سکا اور ان کی وہاں موجودگی کے باوجود آگ اس قدر زیادہ کیونکر پھیل گئی کہ پوری عمارت اور اس میں موجود ہر چیز کو جلا کر راکھ کر دیا اور بیسیوں انسان اس کا شکار بن گئے۔ یہ تو سیدھا سیدھا اعتراف ہے کہ متعلقہ عملہ اپنے فرائض کی ادائیگی میں ناکام رہا اور سراسر نا اہلی اور کوتاہی کا مرتکب ہوا۔ کیا یہ مناسب نہ ہو گا کہ حکومت انتظامی حکام کی تحقیقاتی کمیٹی کی اس رپورٹ کی بنیاد پر گل پلازہ کے انتہائی اندوہناک سانحہ کو طاق نسیاں کی زینت بنانے کے بجائے عوامی اطمینان کی خاطر غیر جانبدار عدالتی کمیشن تشکیل دے تاکہ عوام کے لیے باعث اطمینان، قابل اعتماد، غیر جانبدارانہ اور جامع رپورٹ قوم کے سامنے آ سکے اور حکومت اس کی روشنی میں مستقبل میں ایسے سانحہ سے بچنے کے لیے موثر اقدامات بروئے کار لا سکے۔

عوامی حلقوں کی طرف سے اٹھایا جانے والا یہ سوال بھی اپنے اندر خاصا وزن رکھتا ہے کہ بچے کی غلطی سے لگنے والی معمولی آگ کو اس قدر پھیلنے کا موقع کیوں دیا گیا۔ دکان کے قرب و جوار میں موجود افراد نے فوری طور پر اس کو بجھانے پر توجہ کیوں نہ دی کیا ہمارے تاجر اور عام لوگ اس قدر بے حس ہو چکے ہیں کہ وہ صورتحال کی نزاکت کا احساس کیے بغیر اپنے کاروبار میں مصروف رہے اور اپنے ارد گرد برپا شور پر بالکل توجہ نہ دی؟ سوال یہ بھی ہے کہ کیا گل پلازہ میں آگ بجھانے کے ضروری آلات یا انتظامات موجود تھے جو اب اگر اثبات میں ہے تو پھر ان آلات اور انتظامات کو بروقت بروئے کار کیوں نہیں لایا گیا اور اگر جواب نفی میں ہو تو سوال یہ ہے کہ متعلقہ حکام نے قبل از وقت اس پر کارروائی کیوں نہیں کی؟ گل پلازہ کے سانحہ سے متعلق فائر بریگیڈ کے ایک کارکن سے منسوب یہ بیان بھی توجہ اور تحقیق طلب ہے کہ جو آگ لگ جائے اسے بجھایا جا سکتا ہے مگر جو لگائی جائے اسے بجھایا نہیں جا سکتا۔ سانحہ گل پلازہ کے سلسلے میں اہم ترین اور سنگین ترین الزام یہ ہے کہ سانحہ سے ایک ہفتہ قبل پلازہ کے تاجروں اور دکانداروں کو بھتے کی پرچیاں ملیں، تاجروں نے متعلقہ حکام کو اس بارے میں شکایت بھی کی۔ پھر پریس کانفرنس کے ذریعے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو صورت حال کی سنگینی سے آگاہ کیا۔ لیکن حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی کسی نے ان کی چیخ و پکار پر توجہ دی اور نہ ہی پولیس یا ضلعی انتظامیہ نے کوئی کارروائی کی۔ حکومت خصوصاً وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ کو سب سے زیادہ اس آخری الزام پر توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ اس نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں اللہ کرے آخری ہو مگر اس کے لیے حکومت کو اس جانب نہایت سنجیدگی سے توجہ دینا ہو گی اور مستقبل کے لیے ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

اداریہ سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: تحقیقاتی کمیٹی سانحہ گل پلازہ رپورٹ میں پلازہ کے یہ ہے کہ کیوں نہ فلور پر کے لیے

پڑھیں:

پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع

حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر صوبے میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع اور نگرانی کے لیے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔

ڈرون مانیٹرنگ کے دوران جھنگ کے تریموں بیراج میں پانی کی سطح معمول کے مطابق ریکارڈ کی گئی جبکہ پاکپتن میں دریائے راوی اور ستلج میں سیلابی صورتحال، پانی کی آمد اور دریائی کناروں پر کٹاؤ کا جائزہ لیا گیا، جہاں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق رہا۔

سرگودھا میں دریائے چناب پر واقع طالب والا پل، خانیوال میں ہیڈ سدھنائی بیراج اور ہیڈ ورکس، جبکہ منڈی بہاؤالدین میں رسول بیراج پر بھی ڈرون سرویلنس کے ذریعے پانی کے بہاؤ کی نگرانی کی گئی۔ حکام کے مطابق ساہیوال کے علاقے کتب شہانہ کے قریب نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا، جبکہ سیالکوٹ کے ہیڈ مرالہ پر پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 74 ہزار کیوسک ریکارڈ ہوا۔

متعلقہ مضامین

  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق