سانحہ گل پلازہ پر جوڈیشل انکوائری کا فیصلہ، وزیراعلیٰ سندھ کا چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کو خط
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی:وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کراچی کے افسوسناک سانحہ گل پلازہ کی شفاف تحقیقات کے لیے چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کو جوڈیشل انکوائری کے قیام سے متعلق خط لکھ دیا ہے۔ خط میں درخواست کی گئی ہے کہ سانحے کی تحقیقات حاضر سروس جج کے ذریعے کرائی جائیں تاکہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا غیرجانبدارانہ اور قانونی جائزہ لیا جا سکے۔
اس سے قبل کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے بتایا کہ سندھ حکومت نے عدالتی تحقیقات کا فیصلہ کسی سیاسی دباؤ کے تحت نہیں بلکہ عوامی مفاد اور شفافیت کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا ہے، گل پلازہ سانحے کے شہدا کے لواحقین کو امدادی چیکس کی ادائیگیاں شروع کر دی گئی ہیں اور حکومت اس معاملے میں متاثرہ خاندانوں کو تنہا نہیں چھوڑے گی۔
شرجیل میمن نے کہا کہ خط میں چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ سے درخواست کی گئی ہے کہ واقعے کی تحقیقات کسی حاضر سروس جج سے کرائی جائیں، سندھ حکومت کسی سیاسی جماعت کو نہیں بلکہ صرف عوام کو جوابدہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چند سیاسی جماعتیں اس افسوسناک واقعے پر سیاست کر رہی ہیں، حکومت ایسے سانحات کو سیاست کی نذر نہیں کرے گی۔
صوبائی وزیر سندھ نے بتایا کہ سانحہ گل پلازہ کے بعد سندھ کابینہ نے ایک تحقیقی کمیٹی تشکیل دی تھی، جسے کمشنر کراچی کی سربراہی میں کام سونپا گیا۔ کمشنر کراچی کی کمیٹی اپنی تفصیلی رپورٹ حکومت کو پیش کر چکی ہے، جس میں متاثرین، عینی شاہدین اور متعلقہ حکام کے انٹرویوز شامل ہیں۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ حادثے کے وقت گل پلازہ میں تقریباً 2 ہزار سے 2 ہزار 500 افراد موجود تھے۔ عمارت کا دو مرتبہ سیفٹی آڈٹ کیا گیا تھا ان سفارشات پر عملدرآمد نہیں ہوا۔ محکمہ سول ڈیفنس نے 2023 کے بعد گل پلازہ کے کئی دورے کیے اور دو نوٹس بھی جاری کیے تھے، مگر متعلقہ انتظامیہ نے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا۔
شرجیل میمن کے مطابق سانحے میں 80 قیمتی جانیں ضائع ہوئیں جبکہ آگ بجھانے کے عمل کے دوران پانی کی کمی کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ انہوں نے شہید فائر فائٹر کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی جان دے کر دوسروں کی زندگیاں بچانے کی کوشش کی۔
پریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ گل پلازہ میں فائر فائٹنگ سسٹم اور دیگر حفاظتی اقدامات موجود نہیں تھے۔ کمیٹی کی رپورٹ میں بلڈنگ کے اجازت ناموں، لیز اور تعمیراتی مراحل میں سنگین بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ ان معاملات پر محکمہ اینٹی کرپشن کو تحقیقات اور کارروائی کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: گل پلازہ
پڑھیں:
آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔
حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔
وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔