’تمہاری بہن کو مار رہا ہوں‘، لیڈی پولیس کمانڈو شوہر کے ہاتھوں قتل
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
بھارت میں دہلی پولیس کی اسپیشل ویپنز اینڈ ٹیکٹکس (SWAT) کمانڈو، 27 سالہ کاجل چودھری کو ان کے شوہر انکور نے شدید تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کر دیا۔ قتل سے قبل انکور نے کاجل کے بھائی نکھل کو فون کیا، جس دوران وہ کاجل پر حملہ کرتا رہا اور دھمکی آمیز الفاظ ادا کرتا رہا۔
نکھل، جو بھارتی دارالحکومت دہلی کی پارلیمنٹ اسٹریٹ پولیس اسٹیشن میں کانسٹیبل کے طور پر تعینات ہیں، نے بتایا کہ 22 جنوری کی رات انہیں اپنے بہنوئی انکور کی کال موصول ہوئی۔
انکور نے کہا ’اپنی بہن کو سمجھا لے‘۔ نکھل نے اسے پرسکون ہونے کو کہا اور فوراً اپنی بہن کو فون کیا۔
نکھل کے مطابق، کاجل اس دن غیر معمولی طور پر اپنی مشکلات بیان کر رہی تھیں کہ اسی دوران انکور غصے میں آ گیا اور فون چھین لیا۔
نکھل کے بقول بہنوئی نے کہا، ’اس کال کو ریکارڈ پر رکھ، پولیس کے کام آئے گی۔ میں تمہاری بہن کو مار رہا ہوں، پولیس میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتی’۔ پھر میں نے اس کی چیخیں سنیں اور کال اچانک منقطع ہو گئی۔
چند منٹ بعد انکور کی دوبارہ کال آئی۔
نکھل کے مطابق، اس نے کہا، یہ مر گئی ہے، اسپتال آ جاؤ۔
جب وہ پولیس کے ساتھ اسپتال پہنچے تو انکور اور اس کے اہلِ خانہ پہلے سے موجود تھے۔ نکھل نے بتایا کہ میری بہن کی حالت دیکھ کر لگا کہ دشمن بھی کسی کے ساتھ ایسا نہیں کرتا۔
خاندان کے مطابق، کاجل کو شادی کے بعد سسرال میں جہیز کے لیے ہراساں کیا جاتا رہا۔ ان پر الزام ہے کہ ساس اور 2 نندیں بھی اس عمل میں شامل تھیں۔
کاجل کی والدہ کے مطابق، ان کی بیٹی نے سسرال کے لیے قرض تک لیا، جبکہ انکور نے بھی کاجل کے والدین سے رقم ادھار لی تھی۔
کاجل کے والد راکیش نے الزام عائد کیا کہ شادی کے موقع پر موٹر سائیکل، سونا اور نقد رقم دینے کے باوجود مطالبات ختم نہ ہوئے۔
ان کے مطابق، انہوں نے کہا کہ اگر بیٹا کسی اور سے شادی کرتا تو گاڑی ملتی۔ بعد میں بیٹی نے گاڑی کا انتظام بھی کر دیا، مگر ہراسانی کا سلسلہ نہ رکا۔
فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (FIR) کے مطابق، واقعہ 22 جنوری کی رات 10 سے 10:30 بجے کے درمیان مغربی دہلی کے موہن گارڈن ایکسٹینشن میں پیش آیا۔
4 ماہ کی حاملہ کاجل کو مبینہ طور پر پیچھے سے بھاری ڈمبل سے سر پر ضرب لگائی گئی، جبکہ خاندان نے جسم پر متعدد زخموں کا بھی دعویٰ کیا ہے۔
کاجل کو غازی آباد کے ایک اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ 27 جنوری کی صبح زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئیں۔ انکور کو چند گھنٹوں بعد گرفتار کر لیا گیا اور اس کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کر لیا گیا۔
کاجل اور انکور کا ڈیڑھ سالہ بیٹا ہے، جو اس وقت نانی نانا کے پاس ہے۔
نکھل کے مطابق ’ بچے کو ابھی کچھ معلوم نہیں۔ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم ہی اس کی پرورش کریں گے اور جب وہ سمجھنے کے قابل ہوگا تب حقیقت بتائیں گے۔‘
نکھل نے بتایا کہ تقریباً 5 ماہ قبل بھی انکور نے کاجل کو تھپڑ مارا تھا۔
’میں اسے واپس لے جانا چاہتا تھا، مگر انکور نے معافی مانگی اور قسم کھائی کہ دوبارہ ایسا نہیں کرے گا۔ میں نے بہن سے کہا تھا کہ جب چاہے گھر آ سکتی ہے۔‘
ان کے مطابق، حمل کے باوجود کاجل سے گھر کے تمام کام کروائے جاتے تھے، جن میں کھانا پکانا، کپڑے اور برتن دھونا شامل تھا۔
کاجل اور انکور کی ملاقات پانی پت کے ایک کالج میں ہوئی تھی۔ دونوں نے 23 نومبر 2023 کو شادی کی۔
ہریانہ کے علاقے گنّور میں تنازعات کے بعد دونوں نے دسمبر 2024 میں موہن گارڈن، دہلی میں کرائے کے مکان میں رہائش اختیار کی، تاہم کشیدگی برقرار رہی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
جرم و سزا دہلی پولیس کمانڈو قتل کاجل چوہدری.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کاجل چوہدری کے مطابق انکور نے نکھل کے کاجل کو بہن کو نے کہا
پڑھیں:
چیمپئنز لیگ جیتنے کی خوشی تشدد میں بدل گئی، پیرس میں جلاؤ گھیراؤ اور پولیس سے جھڑپیں
یورپی چیمپئنز لیگ میں پی ایس جی کی کامیابی کے بعد فرانس کے دارالحکومت پیرس میں جشن پرتشدد ہنگاموں میں تبدیل ہو گیا۔ مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں، جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کے واقعات میں متعدد افراد زخمی ہوئے، جبکہ پولیس نے 400 سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا۔
یورپی چیمپئنز لیگ کے فائنل میں پی ایس جی کی فتح کے بعد فرانس کے دارالحکومت پیرس میں جشن کا ماحول بدامنی اور تشدد میں تبدیل ہو گیا، جہاں مشتعل افراد نے جلاؤ گھیراؤ، توڑ پھوڑ اور پولیس کے ساتھ جھڑپوں کا سلسلہ شروع کر دیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں میں مظاہرین نے بوتل بم پھینکے، متعدد دکانوں پر حملے کیے اور سڑکوں پر موجود کچرے کے ڈبوں سمیت دیگر اشیا کو آگ لگا دی۔ ہنگامہ آرائی کے دوران درجنوں گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔
مظاہرین اور پولیس کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں کم از کم سات پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ بعض شرپسند عناصر نے آتش بازی کا رخ آسمان کے بجائے پولیس اہلکاروں کی جانب کر دیا، جس کے باعث کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا۔
فرانسیسی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 400 سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا۔ حکام کے مطابق گرفتار افراد کے قبضے سے تیزاب سے بھری بوتلیں اور دیگر خطرناک مواد بھی برآمد کیا گیا ہے۔
حکام کو پہلے ہی ممکنہ ہنگامہ آرائی کا خدشہ تھا، جس کے پیش نظر پیرس میں 22 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔ اس کے باوجود شہر کے مختلف حصوں میں جلاؤ گھیراؤ اور پرتشدد واقعات کو مکمل طور پر روکنا ممکن نہ ہو سکا۔
واضح رہے کہ پیرس سینٹ جرمین (PSG) نے چیمپئنز لیگ کے فائنل میں آرسنل کو شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کیا، جس کے بعد ہزاروں شائقین جشن منانے کے لیے سڑکوں پر نکل آئے۔ تاہم بعض مقامات پر یہ جشن بدامنی اور تشدد میں تبدیل ہو گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں