پاکستان سمیت کسی ملک سے اپنی حمایت میں جنگ میں کودنے کا مطالبہ نہیں کررہے، ایرانی سفیر
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے اسلام آباد میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ابھی بھی امید ہے کہ جنگ نہیں ہو گی، ہم جنگ نہیں چاہتے تاہم اپنے دفاع کے لئے تیار ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان میں تعینات ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے کہا ہے کہ ابھی بھی امید ہے کہ جنگ نہیں ہو گی، ہم جنگ نہیں چاہتے تاہم اپنے دفاع کے لئے تیار ہیں، پاکستان سمیت کسی ملک سے اپنی حمایت میں جنگ میں کودنے کا مطالبہ نہیں کرتے۔ پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے اسلام آباد میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ابھی بھی امید ہے کہ جنگ نہیں ہو گی، ہم جنگ نہیں چاہتے تاہم اپنے دفاع کے لئے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم امریکی دھونس و دھاندلی کو تسلیم نہیں کریں گے، پاکستان سمیت کسی ملک سے اپنی حمایت میں جنگ میں کودنے کا مطالبہ نہیں کرتے بس وہ اپنے ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں، ہمارے دوست ہمیں جیسے بھی سپورٹ کرنا چاہیں مگر ہم کسی کے مدد مانگنے نہیں جائیں گے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ایران کسی ریاست کے سربراہ کے خلاف کوئی عزائم نہیں رکھتا عالمی قوانین کے تحت کسی بھی سربراہ مملکت کو نشانہ نہیں بنایا جا سکتا، کسی بھی حکومت کے سربراہ کو قتل کی دھمکی یا کوشش عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ کی سپریم رہنماء آیت اللہ خامنہ ای کو دھمکی باعث شرم ہے۔ ایرانی سفیر نے کہا کہ جنگ کی صورت میں مہاجرین کے بہاؤ کے حوالے سے پاکستان سے کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ ایرانی سفیر کا کہنا تھا کہ ہم جنگ سے بچنے کی کوششیں کر رہے ہیں تاہم ان کوششوں کی کامیابی کا 50 فیصد ہمارے اور بقیہ 50 فیصد فریق مخالف کے ہاتھ میں ہے، پاکستان کی حمایت اور جنگ روکنے کی کوششوں پر مشکور ہیں۔
ایرانی سفیر نے واضح کیا کہ ایران میں مظاہروں میں گرفتار شدہ شرپسندوں، تخریب کاروں اور امریکی و اسرائیلی ایجنٹوں کے ساتھ ایرانی قوانین کے مطابق ہی سلوک کیا جائے گا۔ رضا امیری مقدم نے پاکستان اور سعودی عرب میں باہمی دفاعی معاہدے کی حمایت کی تجدید کرتے ہوئے کسی بھی مسلم اتحاد کی سپورٹ کا اعادہ کیا۔ قبل ازیں ایرانی سفیر نے ایران میں پرامن اجتجاج کے آغاز اور امریکی و اسرائیلی قیادت کے شرپسند بیانات اور مداخلت اور متشدد عناصر کی متشدد کاروائیوں سے آگاہ کیا۔ رضا امیری مقدم نے بتایا کہ غیرملکی کرنسی کی قدر میں تبدیلی و افراط زر کے باعث پرامن احتجاج شروع ہوا، مظاہرین نے سپریم راہنما کی تصاویر اور ایرانی قومی پرچموں کے ساتھ اجتجاج کیا جسکو جائز تسلیم کرتے ہوئے اجتجاجی نمائندوں و قائدین کو کابینہ اجلاس میں سن کر ایرانی عوام کی مدد کے اقدامات کئے گئے۔
انہوں نے بتایا کہ 31 دسمبر کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم و امریکی صدر نے ٹویٹس کے زریعہ تخریب کاروں کو تخریب کاری کے اشارے دیے جس کے بعد تخریب کاروں نے جدید ہتھیاروں سے سیکیورٹی فورسز اور پولیس اہلکاروں کا قتل عام کیا اور سرکاری و شہری املاک کو تباہ کیا۔ اعداد و شمار دیتے ہوئے رضا امیری مقدم نے بتایا کہ حالیہ واقعات میں کل 3117 اموات ہوئیں جن مین 2427 سیکیورٹی فورسز اہلکار و عام ایرانی شہری شہید جبکہ 690 دہشتگردوں کو کیفرکردار تک پہنچایا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ تخریب کاروں نے 414 حکومتی عمارات، 749 پولیس اسٹیشنوں، 200 سکولوں، 350 مساجد کو تباہ کیا جبکہ ٹرمپ نے مظاہرین کو یقین دلایا کہ امداد آنے والی ہے اور وہ سرکاری عمارتوں پر قبضے کریں تاہم ایرانی عوام نے اس بغاوت کو ناکام بنادیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ایرانی سفیر نے تخریب کاروں نے بتایا کہ کرتے ہوئے نے کہا کہ جنگ نہیں انہوں نے کہ جنگ
پڑھیں:
وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق، میزبان و اداکار فخر عالم، سابق کرکٹر سعید انور اور دیگر معروف شخصیات نے اس سال مشترکہ طور پر فریضۂ حج ادا کیا۔ تاہم دورانِ حج سوشل میڈیا پر ان کی بعض ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
وسیم اکرم کی رمی الجمرات کے دوران شیئر کی گئی ایک ویڈیو، جس میں انہوں نے اپنے مخصوص سوئنگ اسٹائل میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا انداز اپنایا، خاصی وائرل ہوئی۔ بعد ازاں ایک اور ویڈیو میں وہ مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھائے ہوئے دکھائی دیے، جس پر بھی صارفین نے مختلف تبصرے کیے۔
دوسری جانب فخرِ عالم نے اپنے حج سفر کی متعدد جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں اداکار بلال عباس خان اور کامیڈین تابش ہاشمی سمیت دیگر شخصیات بھی نظر آئیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس سفر کو ’’حج کے بجائے پکنک‘‘ قرار دیا۔
@timesofkarachiWhy didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq
♬ original sound - Times of Karachiحالیہ گفتگو میں وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق نے ان تنقیدی تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے حج کے بعد سر منڈوانے کے بجائے صرف بال کیوں کٹوائے۔ ان کے مطابق حج پر روانگی سے قبل انہوں نے علماء کرام سے رہنمائی حاصل کی تھی جنہوں نے دو شرعی آپشنز بتائے تھے، یا تو مکمل سر منڈوایا جائے یا پھر قصر کروائی جائے، جس میں بالوں کا ایک حصہ کٹوایا جاتا ہے۔ انہوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا جو شرعی طور پر جائز ہے۔
انہوں نے ’’حج یا پکنک‘‘ سے متعلق تنقید پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حج ایک عظیم عبادت ہے، لیکن اس دوران انسان چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی عمل میں مصروف نہیں رہتا۔ عبادت کے ساتھ دوستوں سے ملاقات، گفتگو، دعائیں، مسکراہٹیں اور خوشی کے لمحات بھی اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے سے پہلے لوگوں کو ان معاملات کی مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔
وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہوں نے نوجوان نسل کے لیے بھی مختلف ویڈیوز بنائیں تاکہ حج کی ادائیگی سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے اور نوجوانوں میں اس مقدس سفر کا شوق پیدا ہو۔ ان کے مطابق ان ویڈیوز کا مقصد صرف معلومات دینا اور لوگوں کو حج کے لیے آمادہ کرنا تھا۔
مدینہ منورہ سے گفتگو کرتے ہوئے فخر عالم نے کہا کہ حج مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر انہیں حج پر جانے کی ترغیب کیسے ملی۔ اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ انہوں نے پہلے سے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی، بلکہ وہ ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ جب دل سے تیاری محسوس ہوگی تو حج کریں گے۔ ان کے بقول جب انہیں معلوم ہوا کہ فخر عالم اور مصباح الحق بھی حج پر جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی اس قافلے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔
View this post on Instagramوسیم اکرم نے مزید کہا کہ وہ جلد 60 برس کے ہونے والے ہیں اور انہیں محسوس ہوا کہ اب اس مقدس فریضے کی ادائیگی کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے حج کے سفر کو جسمانی طور پر مشکل لیکن یادگار اور قابلِ برداشت قرار دیا۔
مصباح الحق نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج کا یہ سفر ان کی زندگی کے خاص ترین تجربات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق دوستوں کے ساتھ اس روحانی سفر کو طے کرنے سے اس کی خوبصورتی اور یادیں مزید بڑھ گئیں، اور یہ تجربہ ہمیشہ ان کے دل میں محفوظ رہے گا۔