پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے اسلام آباد میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ابھی بھی امید ہے کہ جنگ نہیں ہو گی، ہم جنگ نہیں چاہتے تاہم اپنے دفاع کے لئے تیار ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان میں تعینات ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے کہا ہے کہ ابھی بھی امید ہے کہ جنگ نہیں ہو گی، ہم جنگ نہیں چاہتے تاہم اپنے دفاع کے لئے تیار ہیں، پاکستان سمیت کسی ملک سے اپنی حمایت میں جنگ میں کودنے کا مطالبہ نہیں کرتے۔ پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے اسلام آباد میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ابھی بھی امید ہے کہ جنگ نہیں ہو گی، ہم جنگ نہیں چاہتے تاہم اپنے دفاع کے لئے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم امریکی دھونس و دھاندلی کو تسلیم نہیں کریں گے، پاکستان سمیت کسی ملک سے اپنی حمایت میں جنگ میں کودنے کا مطالبہ نہیں کرتے بس وہ اپنے ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں، ہمارے دوست ہمیں جیسے بھی سپورٹ کرنا چاہیں مگر ہم کسی کے مدد مانگنے نہیں جائیں گے۔

ایرانی سفیر نے کہا کہ ایران کسی ریاست کے سربراہ کے خلاف کوئی عزائم نہیں رکھتا عالمی قوانین کے تحت کسی بھی سربراہ مملکت کو نشانہ نہیں بنایا جا سکتا، کسی بھی حکومت کے سربراہ کو قتل کی دھمکی یا کوشش عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ کی سپریم رہنماء آیت اللہ خامنہ ای کو دھمکی باعث شرم ہے۔ ایرانی سفیر نے کہا کہ جنگ کی صورت میں مہاجرین کے بہاؤ کے حوالے سے پاکستان سے کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ ایرانی سفیر کا کہنا تھا کہ ہم جنگ سے بچنے کی کوششیں کر رہے ہیں تاہم ان کوششوں کی کامیابی کا 50 فیصد ہمارے اور بقیہ 50 فیصد فریق مخالف کے ہاتھ میں ہے، پاکستان کی حمایت اور جنگ روکنے کی کوششوں پر مشکور ہیں۔

ایرانی سفیر نے واضح کیا کہ ایران میں مظاہروں میں گرفتار شدہ شرپسندوں، تخریب کاروں اور امریکی و اسرائیلی ایجنٹوں کے ساتھ ایرانی قوانین کے مطابق ہی سلوک کیا جائے گا۔ رضا امیری مقدم نے پاکستان اور سعودی عرب میں باہمی دفاعی معاہدے کی حمایت کی تجدید کرتے ہوئے کسی بھی مسلم اتحاد کی سپورٹ کا اعادہ کیا۔ قبل ازیں ایرانی سفیر نے ایران میں پرامن اجتجاج کے آغاز اور امریکی و اسرائیلی قیادت کے شرپسند بیانات اور مداخلت اور متشدد عناصر کی متشدد کاروائیوں سے آگاہ کیا۔ رضا امیری مقدم نے بتایا کہ غیرملکی کرنسی کی قدر میں تبدیلی و افراط زر کے باعث پرامن احتجاج شروع ہوا، مظاہرین نے سپریم راہنما کی تصاویر اور ایرانی قومی پرچموں کے ساتھ اجتجاج کیا جسکو جائز تسلیم کرتے ہوئے اجتجاجی نمائندوں و قائدین کو کابینہ اجلاس میں سن کر ایرانی عوام کی مدد کے اقدامات کئے گئے۔

انہوں نے بتایا کہ 31 دسمبر کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم و امریکی صدر نے ٹویٹس کے زریعہ تخریب کاروں کو تخریب کاری کے اشارے دیے جس کے بعد تخریب کاروں نے جدید ہتھیاروں سے سیکیورٹی فورسز اور پولیس اہلکاروں کا قتل عام کیا اور سرکاری و شہری املاک کو تباہ کیا۔ اعداد و شمار دیتے ہوئے رضا امیری مقدم نے بتایا کہ حالیہ واقعات میں کل 3117 اموات ہوئیں جن مین 2427 سیکیورٹی فورسز اہلکار و عام ایرانی شہری شہید جبکہ 690 دہشتگردوں کو کیفرکردار تک پہنچایا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ تخریب کاروں نے 414 حکومتی عمارات، 749 پولیس اسٹیشنوں، 200 سکولوں، 350 مساجد کو تباہ کیا جبکہ ٹرمپ نے مظاہرین کو یقین دلایا کہ امداد آنے والی ہے اور وہ سرکاری عمارتوں پر قبضے کریں تاہم ایرانی عوام نے اس بغاوت کو ناکام بنادیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ایرانی سفیر نے تخریب کاروں نے بتایا کہ کرتے ہوئے نے کہا کہ جنگ نہیں انہوں نے کہ جنگ

پڑھیں:

یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام

یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔

یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔

کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔

یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔

کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی