پیداواری لاگت میں مسلسل اضافے نے مقامی صنعتوں کیلئے خطرے کی گھنٹی بجا دی
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
سٹی42: ملکی صنعتوں کو پیداواری لاگت میں مسلسل اضافے نے شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے اور مقامی صنعتکار اس صورتحال کو خطرے کی گھنٹی قرار دے رہے ہیں۔ خاص طور پر موٹر سائیکل ساز کمپنیاں بڑھتی ہوئی لاگت کے باعث اپنے پلانٹس کے اخراجات پورا کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں۔
صنعتکاروں کا کہنا ہے کہ ریجن کے ممالک میں بجلی 6 سے 8 سینٹ فی یونٹ کے حساب سے مل رہی ہے جبکہ پاکستان میں صنعتوں کو 12 سے 13 سینٹ فی یونٹ کی قیمت پر بجلی فراہم کی جاتی ہے۔
عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت 5 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی
بجلی کی اس بلند قیمت کے باعث مقامی موٹر سائیکل سازی کی صنعت اپنے منصوبوں اور پیداوار کے اخراجات پورا کرنے میں بھی مشکل محسوس کر رہی ہے، جس سے ملکی سطح پر پیداوار اور کاروباری سرگرمیوں پر منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سٹی42
پڑھیں:
موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی(پی ٹی اے)نے موبائل کمپنیوں کو غیرمعیاری سروس اور کوریج پر خامیاں دور کرنے کے لیے 30دن کی مہلت دے دی اور بتایا کہ مذکورہ کمپنیوں کو گزشتہ چار برس میں 3 ارب 41 کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔
پی ٹی اے کے مطابق ملک بھر میں موبائل سروس کے معیار اور کوریج میں بہتری کے لیے ریگولیٹری کارروائیاں تیز کردی گئی ہیں۔
پی ٹی اے نے سروس میں خامیوں پر موبائل آپریٹرز کو 30 روز میں ضروری اقدامات کرنے اور خرابیوں کی وجوہات کا تعین کرکے اصلاحی پلان جمع کرانے کی ہدایت کردی ہے۔
موبائل کمپنیوں کو خبردار کرتے ہوئے پی ٹی اے نے کہا ہے کہ خامیاں دور نہ کرنے والے آپریٹرز کے خلاف مزید سخت کارروائی کی جائے گی۔
پی ٹی اے کے مطابق گزشتہ چار برس کے دوران موبائل کمپنیوں کو 3 ارب 41کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں اور کوالٹی آف سروس اور کوریج کی خلاف ورزیوں پر 20وارننگ لیٹرز اور 86 شوکاز نوٹسز بھی جاری کیے جاچکے ہیں۔