پاکستان کے 15 بڑے سرکاری اداروں کا مجموعی منافع 5 فیصد کمی کے بعد 622 ارب روپے رہ گیا
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان کے ٹاپ 15 سرکاری اداروں (ایس او ایز) نے مالی سال 2024-25 میں مجموعی طور پر 622 ارب روپے منافع کمایا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 5 فیصد یا 30 ارب روپے کم ہے۔
صرف ایک کمپنی نے 100 ارب روپے سے زائد منافع حاصل کیا، جبکہ تین اداروں کا منافع 50 ارب روپے سے زیادہ رہا۔ او جی ڈی سی ایل نے 170 ارب روپے کے منافع کے ساتھ سب سے زیادہ آمدنی ظاہر کی۔
رپورٹ میں بورڈز کی غیر مؤثر کارکردگی، آڈٹ اور رسک کمیٹیوں کی کمزور نگرانی، اور انتظامیہ پر مناسب چیلنج نہ کرنے کی خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کے مجموعی نقصانات 6.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ارب روپے
پڑھیں:
کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔