ٹی 20 ورلڈکپ میں بنگلادیش کو شامل نہ کرنے پر سری لنکا نے اپنا موقف بیان کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
آئی سی سی کی جانب سے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں بنگلادیش کو شامل نہ کرنے کے معاملے پر سری لنکا نے بالآخر اپنا موقف بیان کر دیا ہے۔
ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ سے قبل آئی سی سی اور بنگلادیش کے درمیان تنازع تقریباً تین ہفتے جاری رہا، جس میں بھارتی کرکٹ بورڈ کے دباؤ کے باعث آئی سی سی نے بنگلادیش کا جائز مطالبہ تسلیم نہ کیا اور اسے ٹورنامنٹ سے خارج کر دیا۔ بنگلادیش کے چار میچز کلکتہ میں شیڈول تھے، لیکن ہندو انتہا پسندوں کی دھمکیوں اور فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کے آئی پی ایل سے نکالے جانے کے بعد بنگلادیش نے اپنے میچز سری لنکا منتقل کرنے کا مطالبہ کیا تھا، تاہم آئی سی سی نے اسے قبول نہیں کیا۔
اس فیصلے کو کرکٹ ماہرین اور بھارتی صحافیوں کی جانب سے حیران کن قرار دیا جا رہا ہے اور اس کی بڑی وجہ بی سی سی آئی کی انا بتائی جا رہی ہے۔ اس دوران پاکستان کرکٹ بورڈ کے ممکنہ بائیکاٹ یا بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کے خدشات کی خبریں بھی زیر گردش رہیں۔
سری لنکا کے کرکٹ سیکرٹری بندولا ڈسا نائیکے نے غیر ملکی خبر ایجنسی سے گفتگو میں کہا کہ بھارت، بنگلادیش اور پاکستان سب ہمارے دوست ممالک ہیں اور سری لنکا نیوٹرل رہتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو ہم مستقبل میں بھی ٹورنامنٹس کی میزبانی کے لیے تیار ہیں۔
سری لنکا کے وزیر کھیل سنیل کمار گمباگے نے کہا کہ ٹورنامنٹ کو بہترین طریقے سے چلانے پر توجہ دی جا رہی ہے اور پاکستان اور بھارت کے میچ کی کامیاب میزبانی پر خاص دھیان مرکوز ہے۔
خیال رہے کہ فروری میں شروع ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں پاکستان کے تمام میچز سری لنکا میں شیڈول ہیں، جس کا آغاز 6 فروری سے ہو گا اور اختتام 8 مارچ کو متوقع ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سری لنکا
پڑھیں:
ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
اسلام آباد: ویپنگ کے نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی نئی تحقیق نے ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو عام سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے بھی انسانی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد کے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈی این اے میں خرابی مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ میں روایتی تمباکو موجود نہیں ہوتا، لیکن اس میں شامل مختلف کیمیکلز اور فلیورز انسانی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پوڈ سسٹم پر مبنی ویپ استعمال کرنے والے افراد میں خلیاتی نقصان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔
سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کا طریقہ کار مختلف ضرور ہے، تاہم دونوں صورتوں میں جسم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بعض مطالعات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو محفوظ متبادل سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے اس سے مکمل اجتناب اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔
ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویپنگ کے نقصانات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی تمام مصنوعات سے حتیٰ الامکان دور رہیں، کیونکہ نئی سائنسی تحقیقات کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ بھی انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔