وزیراعظم کا صنعتی صارفین کیلیے بجلی ٹیرف میں 4روپے 4 پیسے کمی کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
ویب ڈیسیک: وزیراعظم نے صنعتی صارفین کیلئے بجلی ٹیرف میں 4روپے 4 پیسے کمی کا اعلان کر دیا،وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ معرکہ حق میں فتح کے بعد دنیا میں پاکستان کی عزت و وقار میں اضافہ ہوا، بھارت کو ایسی شکست دی کہ اس کی آنے والی نسلیں یاد رکھیں گی،حکومت کی کاوشوں سے ملک دیوالیہ ہونے سے بچ گیا،آج ہم مستحکم معیشت بن چکے ہیں ،مگر یہ کافی نہیں۔
ملک کے بڑے ایکسپورٹرز اور نمایاں کاروباری شخصیات کے اعزاز میں منعقدہ پروقار تقریب میں وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے نہ صرف قومی معیشت میں اہم خدمات انجام دینے والے ایکسپورٹرز کو ایوارڈز سے نوازا بلکہ اس موقع پر پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچانے کے اپنے تجربات اور عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ مذاکرات کا بھی تذکرہ کیا ، تقریب میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور وفاقی وزرا کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔
عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت 5 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومت کی کاوشوں سے ملک دیوالیہ ہونے سے بچ گیا، پاکستان کی معیشت مستحکم ہو چکی ہے، برآمد کنندگان نے انتہائی مشکل حالات میں ایکسپورٹ میں اضافہ کیا۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آج کی تقریب میں شرکت باعث فخر ہے، عظیم پاکستانیوں نے شبانہ روز محنت سے ایکسپورٹس میں میدان مارا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آپ لوگوں کی جتنی تحسین کی جائے کم ہے، آپ لوگوں نے مشکل حالات میں ایکسپورٹس میں اضافہ کیا، آپ نے خطرات مول لیکر پاکستان کیلئے اربوں ڈالرز کمائے، پوری قوم آپ تمام ایکسپورٹرز کی احسان مند ہے۔
ہزارہ ایکسپریس کی 2بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں
ان کا کہنا تھا کہ عظیم کاروباری شخصیات نے شبانہ روز محنت سے ملک کا نام روشن کیا، باتیں چل رہی تھیں کہ پاکستان خدانخواستہ ڈیفالٹ کے دہانے پر ہے، کچھ لوگوں نے ٹویٹس میں لکھ دیا تھا کہ ملک ٹیکنیکلی ڈیفالٹ کر چکا، میری 2023 میں پیرس میں ایم ڈی آئی ایم ایف سے ملاقات ہوئی، ایم ڈی آئی ایم ایف نے مجھے کہا اس وقت نیا اسٹرکچر آفر کرنا بہت مشکل ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ سری لنکا ہمارادوست ملک ہے، سری لنکا اس وقت ڈیفالٹ سے دوچار ہوچکا تھا، سری لنکا میں ڈیفالٹ کے بعد سڑکوں پر مظاہرے ہو رہے تھے، سری لنکا کے صدر نے کہا آپ میرے ساتھ ایم ڈی آئی ایم ایف کے پاس چلیں۔
بلوچستان میں زلزلہ،لوگوں میں خوف و ہراس
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ میں نے ایم ڈی آئی ایم ایف سے دوبارہ بات کی، ایم ڈی آئی ایم ایف نے کہا آپ پروگرام درمیان میں ادھورے چھوڑ جاتے ہیں، میں نے یقین دلایا کہ ہم آئی ایم ایف معاہدے پر ضرورعملدرآمد کریں گے، جس پر ایم ڈی آئی ایم ایف نے مجھے کہا آپ کیلئے شارٹ ٹرم پروگرام دے رے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان بالکل ڈیفالٹ کے دہانے پر تھا، ہم نے مشکل فیصلے کر کے ملک کو ڈیفالٹ سے بچایا، پوری قوم نے قربانی دی، غریب آدمی نے مشکلات کا سامنا کیا، پالیسی ریٹ 22 فیصد تھا، ملک میں ایک کہرام کی کیفیت تھی، پاکستان کے صنعتکاروں نے بھی مشکلات کا سامنا کیا، تاجروں اور صنعتکاروں نے نقصانات برداشت کئے۔
عالمی منڈی میں سونا سستا، خام تیل مہنگا ہوگیا
ان کا کہنا تھا کہ آج پاکستانی معیشت میں استحکام آچکا ہے، آج مہنگائی سنگل ڈیجٹ میں ہے، پالیسی ریٹ ساڑھے 10 فیصد پر ہے، صنعتکار وزیر خزانہ کے مشوروں پر عمل کریں اور تگڑے ہو کر فیصلے کریں
شہباز شریف نے کہا کہ دوست ممالک کے قرضوں کی وجہ سے ہمارے فارن ایکسچینج ریزروڈبل ہوئے، ہم نے قرض کیلئے دوست ممالک سے درخواستیں کیں، جو قرض لینے جاتا ہے اس کا سرہمیشہ جھکا ہوتا ہے، چین نے ہمارے اربوں ڈالر رول اوور کئے، چائنہ نے ہمیشہ مشکل ترین وقت میں مدد کی۔
بڑی خوشخبری، تاریخ کا سب سے بڑا رمضان ریلیف پیکج لانے کی تیاریاں
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب، یو اے ای اور قطر نے بھی ہمارا مشکل وقت میں ساتھ دیا، ہماری معیشت میں استحکام آچکا لیکن یہ کافی نہیں، آج پاکستان میں مہنگائی اوربیروزگاری بڑھ گئی ہے، آج کئی ممالک میں مصنوعات کی قیمتیں پاکستان سے کم ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ پالیسی ریٹ ساڑھے 10 فیصد پرآیا، پالیسی ریٹ میں مزید کمی نہ ہوئی تو تمام صلاحیتوں کو بروئے کار نہیں لایا جاسکتا، کمیٹیزچیئرمین کیلئے پرائیویٹ سیکٹرز سے بہترین لوگوں کا انتخاب کیا، دنیا میں کہیں بھی گورنمنٹ بزنس نہیں کرتی، جہاں گورنمنٹ بزنس کرے وہ تباہی کا موجب بنتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کاروبار کرنا پرائیویٹ سیکٹر کا کام ہے، ماضی میں بھی عملی فیصلے کئے گئے، بڑے بھائی نوازشریف نے پرائیویٹ سیکٹر کیلئے جو اقدامات کئے وہ تاریخ کا حصہ ہیں، آج ہمیں آگے بڑھنا ہے، گروتھ کی جانب بڑھنا ہے، ایکسپورٹس کر کے ڈالرز کمائیں یہ مشکلات کا حل ہے، کاروباری برادر ی کی تجاویز کا خیر مقدم کریں گے۔
شہباز شریف نے کہا کہ رسک کے بغیر دنیا میں کوئی چیز کامیاب نہیں ہوئی، میڈیم اورسمال لیول کے انٹرپنیور کا ہاتھ پکڑنا پڑے گا، اس وقت کالے بادل بھی منڈلا رہے ہیں کہا جارہا ہے آپکی امپورٹس بڑھ رہی ہیں، امپورٹس بڑھیں گی تو ایکسپورٹس ہوں گی۔
وزیراعظم نے بتایا کہ تاجر، صنعتکار اور ایکسپورٹرز ہمارے سر کا تاج ہیں، معاشی ترقی کیلئے آپ کے مشوروں پر عمل کرنا میرا اور میری ٹیم کا فرض ہے، تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی کاروباری طبقے نے بھی مدد کرنی ہے، آج پاکستان کو سفارتی محاذ پر کامیابیاں مل رہی ہیں، گزشتہ سال ہندوستان کے ساتھ مڈبھیڑ ہوئی، ہندوستان کو ایسی شکست فاش ہوئی کہ اس کی آئندہ نسلیں بھی یاد رکھیں گی۔
ان کا کہنا تھا کہ آج دوست ممالک پاکستانی پاسپورٹ کو اہمیت دیتے ہیں، فیلڈمارشل کے ساتھ مختلف ممالک کی دعوت پر دورے کر رہا ہوں، جو ہمارے ساتھ ہاتھ نہیں ملاتے تھے وہ آج کئی قدم آگے بڑھ کر بغل گیر ہوتے ہیں، جن ایکسپورٹرز نے اپنی اپنی فیلڈ میں ٹاپ کیا ان کو بلیو پاسپورٹ دیں گے، بلیوپاسپورٹ کی مدت 2 سال ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری انتہائی شفاف طریقے سے ہوئے، میری خاص ہدایات پر پی آئی اے کی نجکاری ٹیلی ویژن پر لائیو دکھائی گئی، عارف حبیب انتہائی لائف احترام سرمایہ کار ہیں، اللہ عارف حبیب کو کامیاب کرے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دنیا میں پی آئی اے کو دوبارہ اسی طرح متعارف کرایا جائے گا، پی آئی اے کے ذریعے کروڑوں پاکستانیوں کا دنیا میں سفر لائق تحسین ہے، عارف حبیب گروپ کو پی آئی اے کے حوالے سے حکومت کی پوری سپورٹ حاصل ہوگی، عارف حبیب گروپ کو کہوں گا مسافروں کو ورلڈکلاس سروس ملنی چاہیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: وزیراعظم کا کہنا تھا کہ شہباز شریف نے کہا کہ ایم ڈی ا ئی ایم ایف ان کا کہنا تھا کہ پالیسی ریٹ پی ا ئی اے دنیا میں انہوں نے سری لنکا
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔