Express News:
2026-06-02@22:39:38 GMT

غزہ امن بورڈ

اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT

غزہ میں قیام امن، جنگ کے خاتمے، تباہ شدہ غزہ کی تعمیر نو اور فلسطینیوں کی داد رسی کے لیے امریکی صدر ٹرمپ نے اپنی سربراہی میں جو امن بورڈ قائم کیا ہے اس پر عالمی ذرائع ابلاغ میں تبصرے اور تجزیے کیے جا رہے ہیں۔

کہا جا رہا ہے کہ اقوام متحدہ جیسے عالمی ادارے کی موجودگی میں کہ جس کے قیام کا مقصد ہی دنیا میں جنم لینے والے تنازعات کا خاتمہ اور امن قائم کرنا تھا، صدر ٹرمپ کا اپنی سربراہی میں ایک نیا ادارہ بنانا اور عرب ممالک اور مغربی و یورپی ممالک کو اس میں شامل کرنے پر اصرار کرنا گویا اقوام متحدہ کی اہمیت کو گھٹانا اور اس کی عالم گیر حیثیت کو بے توقیر کرنا ہے۔ یہاں یہ حقیقت بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ اقوام متحدہ میں شامل 193 ممالک ادارے کی جنرل اسمبلی کے رکن ہیں جب کہ سلامتی کونسل کے ارکان کی تعداد 15 ہے جن میں پانچ مستقل ارکان ہیں ان میں امریکا، روس، چین، برطانیہ اور فرانس شامل ہیں۔

ان ارکان کو ’’ ویٹو پاور‘‘ بھی حاصل ہے۔ غیر مستقل ارکان کی تعداد دس ہے۔ یہ ممالک اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے دو سال کی مدت کے لیے منتخب ہوتے ہیں۔ پاکستان بھی 2025-2026 کی مدت کے لیے سلامتی کونسل میں شامل ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے مسئلہ فلسطین کے حوالے سے متعدد قراردادیں منظور کر رکھی ہیں۔ سب سے اہم قرارداد جو کونسل میں منظور کی گئی اس کے مطابق 1967 کی سرحدوں پر مشتمل آزاد فلسطینی ریاست، مشرقی یروشلم پر قبضہ اور غیر قانونی یہودی بستیوں کی روک تھام ہر صورت لازمی ہے۔ قرارداد 2334 میں اسرائیل پر زور دیا گیا ہے کہ وہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں بشمول مشرقی بیت المقدس میں یہودی بستیوں کی تعمیر کو فوری طور پر روک دے۔ سلامتی کونسل کی بیشتر قراردادیں 1967 کی سرحدوں پر مشتمل دو ریاستی حل پر زور دیتی ہیں۔

ٹرمپ کے امن بورڈ میں ایسا کچھ بھی نہیں، بڑے ممالک بھی مخالف اور شامل نہیں ہیں۔ وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف کے بقول امریکی صدر ٹرمپ کے غزہ سے متعلق بورڈ میں شمولیت کے باوجود پاکستان اپنے اصولی موقف پر قائم ہے جو تاریخی، اصولی اور دو ٹوک ہے کہ 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست قائم کی جائے جس کا دارالخلافہ القدس الشریف (یروشلم) ہو۔ نیز یہ کہ پاکستان اسرائیل کو اس وقت تک تسلیم نہیں کرتا جب تک وہ مقبوضہ عرب علاقوں سے انخلا نہ کرے اور آزاد فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں نہ آئے۔

 سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کے امن بورڈ میں تو پاکستان شامل ہو گیا اور اب ٹرمپ غزہ کے حوالے سے جو بھی منصوبہ بندی کریں گے۔ پاکستان کو ہر صورت اس پر عمل درآمد کرنا ہوگا تو کیا صدر ٹرمپ بھی تنازعہ فلسطین پر پاکستان کے دیرینہ اور اصولی موقف کے حامی ہیں؟ کیا پاکستان کی حکومت صدر ٹرمپ سے اپنے موقف کی حمایت حاصل کر پائے گی؟ کیا صدر ٹرمپ میڈیا کے سامنے پاکستان کے موقف کو تسلیم کرنے اور اس کے مطابق تنازعہ فلسطین کے حل کی یقین دہانی کروائیں گے؟ ان سوالوں کا جواب حکومت کے کسی نمایندے کے پاس ’’ہاں‘‘ میں موجود نہیں ہے۔

ٹرمپ کے اصل مقاصد میں تنازعہ فلسطین کا حل صرف اس پر اسرائیلی قبضے کو مستحکم کرنا ہے اور دوسرے عرب ممالک کو ’’ابراہیمی معاہدے‘‘ میں شامل ہونے پر مجبور کرنا ہے تاکہ وہ ’’گریٹر اسرائیل‘‘ منصوبے کی راہ میں رکاوٹیں نہ کھڑی کر سکیں۔ اسرائیل کے ساتھ ان کے تعلقات معمول پر آجائیں اور مسلم ممالک باقاعدہ طور پر اسرائیل کو تسلیم کر لیں۔ ٹرمپ کے امن بورڈ میں شمولیت کے فیصلے پر پی ٹی آئی، جماعت اسلامی اور تحریک تحفظ آئین کی قیادت تنقید کررہی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں بحث کے بغیر جو فیصلے کیے جا رہے ہیں وہ عوامی سطح پر پذیرائی حاصل نہیں کر سکتے۔ یہ پارلیمنٹ کی اہمیت کو کم کرنے اور اسے غیر موثر سمجھنے کے مترادف ہے۔ حکومت آئینی ترامیم کی منظوری سے لے کر اہم قوانین کی منظوری تک جس جلد بازی کا مظاہرہ کر رہی ہے، ۔ بہتر اور مناسب جمہوری طریقہ یہ ہے کہ اہم قومی و بین الاقوامی معاملات پر حتمی فیصلے سے پہلے عوام کے منتخب نمایندوں کے ایوان پر اس پر بحث کرائی جائے اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لے کر فیصلے کیے جائیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سلامتی کونسل اقوام متحدہ ٹرمپ کے

پڑھیں:

ٹرمپ کے بدلتے پینترے

امریکا ایران معاہدے کے حوالے سے فریقین کے درمیان بیشتر نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، تاہم حتمی معاہدے کے لیے ابھی وقت درکار ہے۔ بعض معاملات پر دونوں جانب سے سخت گیر موقف کے باعث مذاکرات کی تان بار بار ٹوٹ جاتی ہے۔ بالخصوص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بدلتے ہوئے بیانات، غیر لچکدار رویے اور نت نئی شرائط پیش کرنے کی وجہ سے تادم تحریر حتمی معاہدہ طے نہ پا سکا۔ نیز مذاکرات کا عمل ہنوز جاری ہے۔

دونوں جانب سے تجاویز اور شرائط کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔ پاکستان سر توڑ کوشش میں مصروف ہے کہ کسی صورت امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت ہو جائے اور حتمی معاہدہ طے پا جائے تاکہ مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہو، سروں پر منڈلاتے جنگ کے بادل ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں۔ اس ضمن میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے ابھی چند روز قبل فیلڈ مارشل نے ایران کا ہنگامی دورہ اور ایران کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کرکے مجوزہ امن معاہدے کے نکات پر بات چیت کی۔ عالمی ذرائع ابلاغ نے فیلڈ مارشل کے تہران کے دورے کو نمایاں طور پر شائع کیا جس کے مطابق فیلڈ مارشل کے تہران دورے نے مذاکرات کو حتمی نتیجے تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

 ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دو تین نکات پر اختلاف اب بھی برقرار ہے۔ الجزیرہ کے مطابق واشنگٹن منجمد اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں جنگ کے دو اہم نکات پر مفاہمت سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔ یورینیم کی افزودگی اور آبنائے ہرمز پر جنگ کے آغاز سے پہلے کی طرح مکمل ایرانی کنٹرول پر بھی اختلاف اپنی جگہ موجود ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی مذاکراتی ٹیم کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ معاہدے میں جلد بازی نہ کرے، کوئی غلطی نہیں ہونی چاہیے اور وقت ہمارے ہاتھ میں ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی عندیا دیا ہے کہ کسی بھی حتمی معاہدے تک ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔

دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر کے فوجی مشیر محسن رضائی کا موقف ہے کہ قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالنا ایران کا قانونی حق ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے یہ اہم بیان دیا ہے کہ ان کا ملک دنیا کو اس بات کا یقین دلانے کو تیار ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں ہے لیکن ایرانی مذاکرات کار ملک کی عزت اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے حوالے سے ایران کی اعلانیہ پیش کش کے بعد صدر ٹرمپ کا افزودہ یورینیم کی ایران سے منتقلی پر زور دینے کا جواز باقی نہیں رہتا، لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا یہ بیان کہ ان کی اور صدر ٹرمپ کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

ہمارے مابین اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ تہران کے ساتھ کسی بھی حتمی معاہدے میں جوہری خطرے کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے، اس امر کا عکاس ہے کہ اسرائیل امریکا ایران ممکنہ معاہدے کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے نیتن یاہو کی کوشش اور خواہش ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ان کی مرضی کے مطابق ہو اور خطے میں اس کا اثر و رسوخ کم نہ پڑنے پائے۔ اسی باعث وہ صدر ٹرمپ کو بہکاتے اور اکساتے رہتے ہیں اور صدر ٹرمپ اسرائیل کی سازشی چالوں کے فریب میں آ کر ایسے دھمکی آمیز بیانات جاری کرتے ہیں جن سے امن مذاکرات چار قدم آگے بڑھتے ہیں تو دو قدم پھر پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور پرنالہ وہیں کا وہیں رہتا ہے۔

 ابھی امن مذاکرات حتمی مراحل میں داخل نہیں ہوئے کہ صدر ٹرمپ نے پھر معاہدہ ابراہیمی کا نیا شوشہ چھوڑ دیا ہے۔ ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک عظیم معاہدہ ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا اور دوبارہ جنگ ہوگی۔ صدر ٹرمپ کے دھمکی آمیز صبح شام بدلتے بیانات مطالبات اور کڑی شرائط معاہدے کو سبوتاژ کرنے کا باعث بن سکتے ہیں ۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • پہلی ہی گیند پر وکٹ: شاہین آفریدی پاکستان کے عظیم کپتانوں کی فہرست میں شامل
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی