اسلام آباد میں بین الاقوامی معیار کے نئے کنونشن سنٹر کی تعمیر کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
وزیراعظم کی ہدایت پر اسلام آباد میں بین الاقوامی معیار کے نئے کنونشن سنٹر کی تعمیر کی مجوزہ جگہ کا دورہ کیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے مری روڈ بھارہ کہو بائی پاس کے قریب نئے کنونشن سنٹر کی مجوزہ جگہ کا دورہ کیا جس میں محسن نقوی نے نئے کنونشن سنٹر کی جگہ کا معائنہ کیا۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ نئے کنونشن سنٹر کی مجوزہ جگہ پر ہر قسم کے غیر قانونی قبضے کو ختم کیا جائے۔ قابضین کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی کی جائے گی۔
محسن نقوی نے تمام غیر قانونی تعمیرات مسمار کرنے کا حکم دیا اور کہا کہ قابضین کو کسی قسم کی رعایت یا معاوضہ نہیں دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں بین الاقوامی معیار کی سہولیات کی فراہمی ہمارا عزم ہے۔ اس منصوبے کی تکمیل سے پاکستان میں ایس سی او سمٹ سمیت دیگر بین الاقوامی کانفرنسز کے انعقاد میں آسانی ہو گی۔
اس موقع پر چئیرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد عرفان میمن اور اعلی حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نئے کنونشن سنٹر کی بین الاقوامی محسن نقوی نے اسلام آباد
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔