اسلام آباد میں نئے کنونشن سینٹر کی تعمیر، محسن نقوی کا مجوزہ جگہ کا دورہ ،غیر قانونی تعمیرات مسمار کرنے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
ویب ڈیسک:وزیراعظم کی ہدایت پر وفاقی دارالحکومت میں بین الاقوامی معیار کے نئے کنونشن سنٹر کی تعمیر کا فیصلہ کر لیا گیا۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے مری روڈ بھارہ کہو بائی پاس کے قریب نئے کنونشن سنٹر کی مجوزہ جگہ کا دورہ کیا جس میں انہوں نے نئے کنونشن سنٹر کی مجوزہ جگہ کا معائنہ بھی کیا۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے دورے کے دوران فوری احکامات جاری کرتے ہوئے کہا کہ کنونشن سنٹر کی مجوزہ جگہ پر موجود ہر قسم کے غیر قانونی قبضے ختم کیے جائیں، قابضین کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی کی جائے اور تمام غیر قانونی تعمیرات کو مسمار کیا جائے۔
عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت 5 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی
وزیر داخلہ محسن نقوی نے آج اسلام آباد میں نئے بین الاقوامی معیار کے کنونشن سینٹر کی تعمیر کیلئے مجوزہ جگہ کا دورہ کیا@MohsinnaqviC42 #RadioPakistan #News https://t.
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ غیر قانونی قابضین کو کسی قسم کی رعایت یا معاوضہ نہیں دیا جائے گا، اسلام آباد میں بین الاقوامی معیار کی سہولیات کی فراہمی حکومت کا عزم ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ نے مزید کہا ہے کہ اس منصوبے کی تکمیل سے پاکستان میں ایس سی او سمٹ سمیت دیگر اہم بین الاقوامی کانفرنسز کے انعقاد میں آسانی ہوگی اور ملک کا مثبت تشخص اجاگر ہوگا۔
ہزارہ ایکسپریس کی 2بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں
اس موقع پر چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد عرفان میمن اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
توجہ دلاؤ نوٹس میں جے یو آئی کے سینیٹر نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے 15 روزہ نظام کے بجائے روزانہ تعین کے مجوزہ فیصلے پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا۔ توجہ دلاؤ نوٹس میں وفاقی حکومت سے مجوزہ پالیسی پر وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ روزانہ قیمتوں کے تعین سے مہنگائی، ٹرانسپورٹ اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ نوٹس کے متن کے مطابق مجوزہ نظام کے کاروباری سرگرمیوں اور عوامی زندگی کے اخراجات پر ممکنہ اثرات سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوام کو ممکنہ منفی اثرات سے بچانے کے لیے اختیار کیے جانے والے حفاظتی اقدامات سے بھی سینیٹ کو آگاہ کیا جائے۔