کراچی میں ایک جانب محکمہ فائر بریگیڈ بدحالی کا شکار ہے تو دوسری جانب سندھ حکومت کے تحت قائم ریسکیو 1122 کو بین الاقوامی طرز پر ایک منظم اور جدید ادارہ بنا دیا گیا ہے، تاہم فائر فائٹنگ کے بنیادی وسائل کی کمی نے اس کی کارکردگی پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

گلشنِ اقبال میں قائم ریسکیو 1122 کے ہیڈکوارٹر میں موجود کنٹرول روم جدید ترین سہولتوں سے لیس ہے جہاں ایک شفٹ میں 36 آپریٹرز فرائض انجام دیتے ہیں۔ ادارے کے ترجمان حسان الحسیب کے مطابق صوبے بھر سے موصول ہونے والی تمام ایمرجنسی کالز یہاں ریکارڈ کی جاتی ہیں اور فوری طور پر قریبی گاڑی کے عملے کو روانہ کر دیا جاتا ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ کراچی میں ریسکیو 1122 کے لیے مجموعی طور پر 1500 ملازمین بھرتی کیے جا چکے ہیں جن میں 224 فائر فائٹرز بھی شامل ہیں۔ اس کے برعکس کراچی فائر بریگیڈ کو 28 فائر اسٹیشنز کے باوجود عملے کی شدید کمی کا سامنا ہے، جبکہ ریسکیو 1122 کے پاس افرادی قوت اور ابتدائی وسائل تو موجود ہیں مگر فائر ٹینڈرز کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔

حسان الحسیب کے مطابق کراچی کی آبادی کے لحاظ سے کم از کم 200 فائر ٹینڈرز درکار ہیں، مگر ریسکیو 1122 کے پاس صرف 3 بڑے اور 7 چھوٹے فائر ٹینڈرز موجود ہیں۔ صورتحال یہ ہے کہ ادارے کے پاس باقاعدہ فائر اسٹیشنز بھی نہیں اور عملہ گاڑیوں کے ساتھ فٹ پاتھوں پر ڈیوٹیاں انجام دے رہا ہے۔

ریسکیو 1122 نے عارضی طور پر چار فائر اسٹیشن قائم کیے ہیں جن میں گلشن اقبال میں ہیڈکوارٹر کے علاوہ راشد منہاس روڈ، ڈیفنس اور گلشن معمار شامل ہیں، تاہم ادارے کے پاس اسنار کل جیسی اہم سہولت بھی دستیاب نہیں۔ آتشزدگی اور ایمبولنس دونوں کی کالز اسی کنٹرول روم میں موصول ہوتی ہیں مگر ایمبولنس کسی دوسرے ادارے سے روانہ کی جاتی ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت کی پالیسی ایک تضاد کا شکار نظر آتی ہے، جہاں ایک طرف پرانا نظام ناکارہ ہو چکا ہے اور دوسری طرف نیا نظام وسائل کی کمی کے باعث مؤثر کردار ادا نہیں کر پا رہا، جس کے باعث یہ حکمت عملی شہریوں کے لیے عملی فائدے کے بجائے مذاق بن کر رہ گئی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل ریسکیو 1122 کے کے پاس

پڑھیں:

مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی

مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔

متعلقہ مضامین

  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • قاتل وہیل کا انوکھا طرز عمل: دیوہیکل دشمن کی لاش کو زور دار ٹکریں مارنے کی وجہ کیا ہے؟
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی