سانحہ گل پلازہ: 69 ہلاکتوں میں سے 27 میتیں آج لواحقین کے حوالے کی جائیں گی
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
ریسکیو حکام کے مطابق سانحہ گل پلازہ میں جاں بحق ہونے والے 69 افراد کی شناخت مکمل ہو چکی ہے۔ آج 27 افراد کی میتیں، جن میں 4 خواتین بھی شامل ہیں، لواحقین کے حوالے کی جائیں گی۔ ان کی حوالگی کے بعد اب تک لواحقین کو دی جانے والی لاشوں کی تعداد 66 ہو جائے گی۔
ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ تین افراد کی میتیں اب بھی سرد خانے میں موجود ہیں اور ان کی شناخت باقی ہے۔
حکومتی کمیٹی کی تحقیقاتی رپورٹ نے سانحہ گل پلازہ کے دوران فائر بریگیڈ اور پولیس کی ناکامی کو بے نقاب کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق آگ رات 10:15 بجے گراؤنڈ فلور پر واقع نیو توکل فلاور اینڈ گفٹ شاپ میں لگی۔ دکان کے مالک نے اپنے 11 سالہ بیٹے کو دکان پر چھوڑا ہوا تھا، جس نے ماچس کی تیلی جلا دی، جو غلطی سے مصنوعی پھولوں پر گر گئی، اور وہاں موجود آتش گیر مواد کی وجہ سے آگ تیزی سے پھیل گئی۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ چوکیدار نے پانچ منٹ بعد بجلی بند کی، اس وقت عمارت کے اندر تقریباً 2,000 سے 2,500 افراد موجود تھے۔ غیر محفوظ برقی وائرنگ، کھلے پائپس اور ایئر کنڈیشنرز نے صورت حال کو مزید خطرناک بنا دیا۔ عمارت میں بیسمنٹ کے علاوہ مرکزی ایئر کنڈیشننگ سسٹم موجود نہیں تھا، اور اے سی ڈکٹس کے ذریعے آگ بہت کم وقت میں بیرونی گیٹس کی چھت تک پہنچ گئی۔
یہ رپورٹ سانحہ کے پیچھے بنیادی وجوہات، حفاظتی خامیوں اور انتظامیہ کی ناکامیوں کی تفصیلات پیش کرتی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انسانی غفلت اور حفاظتی بے دھیانی نے اس المناک حادثے کو مزید مہلک بنا دیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔