بیورلے سینٹر میں آتشزدگی، کیپیٹل ایمرجنسی سروسز کی بروقت کارروائی سے بڑا حادثہ ٹل گیا
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
اسلام آباد (ملک نجیب) وفاقی دارالحکومت کے سیکٹر ایف سکس ون میں واقع معروف تجارتی مرکز بیورلے سینٹر کے گراؤنڈ فلور پر قائم ایک ریسٹورنٹ میں پیر کی صبح تقریباً 5 بج کر 18 منٹ پر اچانک آگ بھڑک اٹھی، جس کے باعث پلازہ میں شدید دھواں پھیل گیا اور صورتحال انتہائی خطرناک ہو گئی۔
عینی شاہدین کے مطابق آگ نے تیزی سے گراؤنڈ فلور کے بڑے حصے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس سے پلازہ میں موجود افراد میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ اطلاع ملتے ہی سی ڈی اے کیپیٹل ایمرجنسی سروسز کی فائر بریگیڈ ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ آگ بجھانے کی کارروائی شروع کی۔
ریسکیو اہلکاروں کی بروقت اور مؤثر کوششوں کے نتیجے میں تقریباً 35 منٹ کے اندر آگ پر قابو پا لیا گیا، جس سے شعلوں کو بالائی منزلوں تک پھیلنے سے روک دیا گیا اور ایک بڑے جانی و مالی نقصان سے بچاؤ ممکن ہو سکا۔
آتشزدگی کے باعث پلازہ کا گراؤنڈ فلور شدید متاثر ہوا جبکہ فرسٹ فلور دھوئیں کی لپیٹ میں آنے سے جزوی طور پر متاثر ہوا۔ واقعے کے دوران ایک شخص زخمی بھی ہوا، جسے فوری طور پر طبی امداد کے لیے قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ زخمی کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔
حکام کے مطابق آگ لگنے کی وجوہات جاننے کے لیے ابتدائی تحقیقات جاری ہیں۔ واقعے کے بعد پلازہ میں موجود تمام افراد کو بحفاظت باہر نکال لیا گیا جبکہ سیکیورٹی اور ریسکیو ٹیمیں کافی دیر تک موقع پر موجود رہیں۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کیپیٹل ایمرجنسی سروسز کی بروقت اور پیشہ ورانہ کارروائی کے باعث کسی بڑے جانی نقصان سے بچاؤ ممکن ہوا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 02 جون2026ء) پاکستان ریلویز نے خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل ہونے کے بعد ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا ہے۔ریلوے حکام کے مطابق سابق ڈویژنل انجینئر(ڈی ای این)ملتان عابد رزاق کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے جبکہ سابق اسسٹنٹ انجینئر (اے ای این)خانیوال راجا یوسف کو بھی سروس سے برخاست کر دیا گیا ہے۔یاد رہے کہ خانیوال پل حادثے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔ واقعے کے بعد وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ عوامی جانوں کے نقصان پر کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔وزیر ریلوے کی ہدایت پر حادثے کی جامع انکوائری شروع کی گئی تھی۔(جاری ہے)
انکوائری رپورٹ میں متعلقہ افسران کی غفلت اور ذمہ داری کا تعین کیا گیا جس کی روشنی میں محکمانہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔
ریلوے حکام کے مطابق وفاقی وزیر ریلوے اپنے زیرو ٹالرنس مقف پر قائم رہے اور حادثے کا کیس منطقی انجام تک پہنچایا گیا۔ وزارت ریلوے کا کہنا ہے کہ احتساب کا عمل جاری رہے گا اور غفلت، لاپروائی یا نااہلی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مسافروں کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور ذمہ دار عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔