روس یوکرین جنگ: دوسری جنگ عظیم کے بعد سب سے زیادہ فوجی ہلاکتیں، جانی نقصان 20 لاکھ تک پہنچنے کا خدشہ
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
روس یوکرین جنگ: دوسری جنگ عظیم کے بعد سب سے زیادہ فوجی ہلاکتیں، جانی نقصان 20 لاکھ تک پہنچنے کا خدشہ WhatsAppFacebookTwitter 0 30 January, 2026 سب نیوز
کیف(آئی پی ایس )ایک بین الاقوامی تحقیقی ادارے کی رپورٹ کے مطابق روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ میں دونوں ممالک کے مجموعی فوجی جانی نقصان کی تعداد جلد 20 لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر موجودہ حالات برقرار رہے تو موسمِ بہار تک ہلاکتوں، زخمیوں اور لاپتہ فوجیوں کی مجموعی تعداد میں مزید اضافہ ہوگا۔
واشنگٹن میں قائم تھنک ٹینک سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز (CSIS) کی رپورٹ کے مطابق فروری 2022 سے دسمبر 2025 تک روس کو تقریباً 12 لاکھ فوجی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا، جن میں ساڑھے تین لاکھ کے قریب ہلاکتیں شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق دوسری جنگ عظیم کے بعد کسی بھی بڑی عالمی طاقت کو کسی ایک جنگ میں اتنا زیادہ جانی نقصان نہیں اٹھانا پڑا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یوکرین، جس کی فوج اور آبادی نسبتاً کم ہے، اسے بھی پانچ سے چھ لاکھ فوجی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا، جن میں ایک لاکھ 40 ہزار تک ہلاکتیں شامل ہو سکتی ہیں۔ تاہم دونوں ممالک اپنے فوجی نقصانات کے اعداد و شمار باقاعدگی سے جاری نہیں کرتے۔
رپورٹ کے مطابق اگرچہ روس میدانِ جنگ میں پیش قدمی کے دعوے کر رہا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اسے معمولی علاقائی کامیابیوں کے لیے غیر معمولی جانی نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے، جس سے اس کی عسکری طاقت کمزور ہو رہی ہے۔
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کی تحقیق کو قابلِ اعتماد نہیں سمجھا جا سکتا اور فوجی نقصانات سے متعلق درست معلومات صرف روسی وزارتِ دفاع ہی فراہم کر سکتی ہے۔
ادھر یوکرین کے دارالحکومت کیف اور دیگر شہروں پر روسی حملے جاری ہیں۔ حکام کے مطابق حالیہ حملوں میں کم از کم دو افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں، جبکہ رہائشی عمارتوں اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے۔
ماہرین کے مطابق جنگ اب ایک طویل اور تھکا دینے والی کشمکش کی شکل اختیار کر چکی ہے، جس میں دونوں جانب انسانی اور عسکری نقصانات مسلسل بڑھ رہے ہیں اور فوری امن کے امکانات کم دکھائی دیتے ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاکستان اور سعودی عرب کا توانائی اور معدنیات میں تعاون بڑھانے پر اتفاق پاکستان اور سعودی عرب کا توانائی اور معدنیات میں تعاون بڑھانے پر اتفاق سونا سستا ہوگیا؛ عالمی اور مقامی قیمتوں میں تاریخ کی سب سے بڑی کمی ریکارڈ فیصل آباد: جاپان کے تعاون سے واٹر فلٹریشن پلانٹس کا افتتاح، 400 سے زائد گھرانے مستفید چیف جسٹس پاکستان سے ملاقات نہ ہونے پر پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ کے باہر دھرنا دے دیا بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 41 دہشت گرد ہلاک کاروباری برادری کےلئے خوشخبری؛ وزیراعظم کا صنعتوں کےلئے بجلی سستی کرنے کا اعلانCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران موسلادھار بارشوں کے سبب خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، مری، گلیات اور کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات نے اس حوالے سے انتباہ جاری کردیا جس میں کہا ہے کہ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کشمیر، مری، گلیات، شمال مشرقی پنجاب، اسلام آباد، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، ڈیرہ غازی خان کے پہاڑی ندی نالوں اور شمال مشرقی بلوچستان کے مقامی/ بر ساتی ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ موسلادھار بارش، تیز آندھی اور آسمانی بجلی گرنے کے باعث کمزور تعمیرات (سولر پینلز، بجلی کے کھمبے، بل بورڈز وغیرہ) کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔