ایوارڈ یافتہ فلسطینی صحافی بسان عودہ کا ٹک ٹاک اکاؤنٹ بحال، مبینہ پابندی کے بعد واپسی
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
ایمی ایوارڈ یافتہ فلسطینی صحافی بسان عودہ نے کہا ہے کہ ان کا ٹک ٹاک اکاؤنٹ چند گھنٹوں کی مبینہ پابندی کے بعد بحال کر دیا گیا ہے۔
الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اگرچہ انہیں اکاؤنٹ تک دوبارہ رسائی مل گئی ہے، تاہم صارفین کو ان کا اکاؤنٹ تلاش کرنے کے لیے مکمل یوزر نیم سرچ کرنا پڑتا ہے۔
متعدد پوسٹس ’ریکمنڈیشن‘ کے لیے نااہل قراربسان عودہ کے مطابق ٹک ٹاک کی جانب سے انہیں پیغام موصول ہوا ہے کہ ان کی بہت سی پوسٹس اب ’ریکمنڈیشن کے قابل نہیں رہیں‘، جس کے باعث ان کی ویڈیوز کی رسائی محدود ہو گئی ہے۔
نوجوانوں تک رسائی کے لیے ٹک ٹاک اہم پلیٹ فارمصحافی کا کہنا تھا کہ ٹک ٹاک نوجوانوں میں زیادہ مقبول اور دیگر پلیٹ فارمز خصوصاً انسٹاگرام کے مقابلے میں کم پابندیوں والا پلیٹ فارم ہے۔ انہوں نے نوجوانوں کو ’مستقبل‘ اور ’ان نظاموں کی بنیاد‘ قرار دیتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر نوجوانوں کو حقائق کا علم نہ ہوا تو انہیں آسانی سے گمراہ کیا جا سکتا ہے۔
سوشل میڈیا پر آزاد صحافت سے اسرائیلی بیانیے کو چیلنجبسان عودہ نے کہا کہ اسرائیلی پروپیگنڈا گزشتہ 76 برسوں سے عالمی سطح پر اپنا بیانیہ پھیلانے میں کامیاب رہا، تاہم سوشل میڈیا پر آزاد رپورٹنگ کے فروغ سے اب لوگ زمینی حقائق کو سمجھنے لگے ہیں۔ ان کا کہنا تھا، ’سچ نہ بولنا، مزاحمت نہ کرنا اور اپنے حقوق و زندگی کے لیے آواز نہ اٹھانا اب کوئی آپشن نہیں رہا۔‘
14 لاکھ فالوورز، مگر نئی پوسٹس نظر نہیں آ رہیںبسان عودہ کا ٹک ٹاک اکاؤنٹ، جس کے فالوورز کی تعداد 14 لاکھ ہے، جمعرات کو نظر آ رہا تھا، تاہم ستمبر 2025 کے بعد کوئی نئی پوسٹ سامنے نہیں آئی۔
مستقل پابندی کا خدشہ اور 4 سال کی محنتانہوں نے بدھ کے روز انسٹاگرام پر ایک پوسٹ میں اعلان کیا تھا کہ ان کا ٹک ٹاک اکاؤنٹ مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ عام پابندی نہیں بلکہ ہمیشہ کے لیے بین ہے‘ اور انہوں نے اس پلیٹ فارم کو 4 سال میں محنت سے بنایا تھا۔
نیتن یاہو کے بیانات کے بعد پابندی کا خدشہبسان عودہ نے دعویٰ کیا کہ انہیں اکاؤنٹ پر پابندی کا خدشہ اس وقت ہو گیا تھا جب اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایسے بیانات دیے جن سے ظاہر ہوتا تھا کہ اسرائیلی حکومت ٹک ٹاک پر اثر و رسوخ بڑھانا چاہتی ہے۔ انہوں نے نیتن یاہو کی امریکی انفلوئنسرز سے گفتگو کی ایک ویڈیو بھی شیئر کی، جس میں وزیراعظم نے سوشل میڈیا کو امریکا میں اپنے بیانیے کے لیے ’سب سے اہم ہتھیار‘ قرار دیا تھا۔
’صہیونی‘ لفظ کے استعمال پر نئی پالیسیبسان عودہ نے ٹک ٹاک کے امریکا میں نئے مقرر ہونے والے سی ای او ایڈم پریسر کی ایک ویڈیو بھی شیئر کی، جس میں انہوں نے کہا کہ پلیٹ فارم نے لفظ ’صہیونی‘ کو منفی یا توہین آمیز انداز میں استعمال کرنے کو نفرت انگیز تقریر کے زمرے میں شامل کر دیا ہے۔
نفرت انگیز مواد پر سخت نگرانی کا دعویٰایڈم پریسر کے مطابق ٹک ٹاک نے 2024 کے دوران نفرت انگیز سرگرمیوں پر پابندی لگائے گئے اکاؤنٹس کی تعداد 3 گنا بڑھا دی ہے، اور اس حوالے سے درجنوں یہودی تنظیموں سے معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نفرت انگیز مواد کی نگرانی کا عمل کبھی ختم نہیں ہوتا۔
فلسطینی متبادل پلیٹ فارم اپ اسکرولڈ میں شمولیتجمعرات کو بسان عودہ نے اعلان کیا کہ انہوں نے فلسطینی ملکیتی سوشل میڈیا ایپ ’اپ اسکرولڈ‘ جوائن کر لی ہے، جو ٹک ٹاک جیسے بڑے پلیٹ فارمز کے مقابلے میں سنسرشپ سے پاک متبادل کے طور پر مقبول ہو رہی ہے۔
اپ اسکرولڈ کی مقبولیت میں تیزییہ ایپ امریکا، برطانیہ اور آسٹریلیا سمیت کئی ممالک میں تیزی سے مقبول ہو رہی ہے اور حالیہ دنوں میں ایپل ڈیوائسز پر سب سے زیادہ ڈاؤن لوڈ کی جانے والی سوشل میڈیا ایپ بن چکی ہے۔ کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز نے بھی ٹک ٹاک کی مبینہ سنسرشپ کے مقابلے میں اپ اسکرولڈ کو ’ آزادی اظہار کے تحفظ ‘ پر سراہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کا ٹک ٹاک اکاؤنٹ کا کہنا تھا سوشل میڈیا نفرت انگیز اپ اسکرولڈ پلیٹ فارم انہوں نے کے بعد تھا کہ کے لیے
پڑھیں:
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں میڈیا انڈسٹری، پیکا قوانین اور صحافیوں کے فلاحی امور سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس میں سینیٹر عبدالشکور، سینیٹر سید وقار مہدی، سینیٹر پرویز رشید اور سینیٹر جان محمد نے شرکت کی۔
کمیٹی کو این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات
کمیٹی نے فلم "بلھا" میں حضرت بابا بلھ شاہ کے امن کے پیغام کی مبینہ غلط ترجمانی کا بھی نوٹس لیا، اور مشاہدہ کیا کہ فلم نے معروف صوفی بزرگ کی پرامن تعلیمات کو مرکزی کردار کے ذریعے تشدد اور بندوقوں سے جوڑ کر مسخ کیا ہے۔ اراکین نے اس بنیاد پر سوال اٹھایا کہ سینٹرل بورڈ آف فلم سنسرز نے اس فلم کی منظوری کس طرح دی۔ اگرچہ سنسر بورڈ کے چیئرمین نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ فلم پنجاب اور سندھ کے سنسر بورڈز سے بھی منظور شدہ ہے، تاہم کمیٹی نے اس توجیہہ کو مسترد کر دیا۔ اراکین نے سنسر بورڈ کے ارکان کی تقرری کے معیار پر بھی سوال اٹھایا اور وفاقی حکومت پر زور دیا کہ وہ اس طرح کی تقرریوں کے لیے ایک شفاف اور میرٹ پر مبنی طریقہ کار وضع کرے۔
پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا
تفصیلی غوروخوض کے بعد، کمیٹی نے سفارش کی کہ فلم "بلھا" کے پروڈیوسرز کو کہا جائے کہ وہ اس کا نام تبدیل کریں اور وہ قابلِ اعتراض مکالمہ ہٹائیں جس میں مرکزی کردار نے خود کا موازنہ بابا بلھ شاہ سے کیا ہے، بصورت دیگر فلم کی ریلیز پر پابندی عائد کی جائے جس میں یوٹیوب سے اس کا ممکنہ اخراج بھی شامل ہو۔
کمیٹی کو وفاقی حکومت کے ملازمین ہاؤسنگ اتھارٹی (FGEHA) کی طرف سے صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے لیے فلیٹس اور پلاٹوں کی الاٹمنٹ کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی۔ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ میڈیا ورکرز کے کوٹے کے تحت الاٹمنٹ کا کام مکمل ہو چکا ہے جبکہ صحافیوں کے کوٹے سے متعلق مسائل ابھی تک حل طلب ہیں۔ اس طویل تاخیر پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے، کمیٹی نے اپنی سفارشات پر عمل درآمد کی نگرانی اور مسئلے کے حل کو آسان بنانے کے لیے سینیٹرز پرویز رشید، وقار مہدی اور عبدالشکور پر مشتمل ایک مانیٹرنگ سب کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا۔
سینیٹر سرمد علی نے وزارت اطلاعات و نشریات کو ہدایت کی کہ معاملے کا جائزہ لینے، موجودہ پالیسی پر نظرثانی کرنے اور ایک ماہ کے اندر الاٹمنٹس کا فیصلہ کرنے کے لیے ایک ہفتے کے اندر صحافیوں کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹی کا نوٹیفیکیشن جاری کیا جائے۔ کمیٹی نے مستقبل کی ہاؤسنگ سکیموں میں صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے کوٹے میں اضافے کی بھی سفارش کی اور ایک مخصوص ہاؤسنگ لون سکیم متعارف کرانے یا موجودہ وفاقی حکومت کے ہاؤسنگ فنانس کے اقدامات کے تحت صحافیوں کو ترجیح دینے کی تجویز دی۔
پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ (PID) نے بھی کمیٹی کو علاقائی اخبارات کے اشتہاری کوٹے کے بارے میں بریفنگ دی۔ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ موجودہ پالیسی کے تحت سرکاری اشتہارات کا 25 فیصد حصہ علاقائی اخبارات کے لیے مخصوص ہے۔ تاہم، اراکین نے اس پالیسی پر عمل درآمد نہ ہونے کی شکایات کا نوٹس لیا، خاص طور پر سندھ اور بلوچستان سے۔ قائم مقام چیئرمین نے پی آئی ڈی کو ہدایت کی کہ وہ 25 فیصد کوٹے کی سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنائے، جس میں عوامی سطح پر معلومات کی ترسیل میں ان کے اہم کردار کے اعتراف میں لسانی اخبارات بھی شامل ہوں۔
کمیٹی نے ریڈیو پاکستان کے پنشنرز کو درپیش مسائل پر بھی مزید تبادلہ خیال کیا۔ یہ بتایا گیا کہ 353 کمیوٹیشن کیسز تحال زیر التوا ہیں اور ریڈیو پاکستان وفاقی حکومت کے گران্ট-اِن-ایڈ کے ذریعے چل رہا ہے۔ حکام نے کمیٹی کو یہ بھی بتایا کہ وزیراعظم پہلے ہی ریڈیو پاکستان، پی ٹی وی اور اے پی پی سے متعلقہ بقایا مسائل کو حل کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے چکے ہیں۔ قائم مقام چیئرمین نے ہدایت کی کہ ریڈیو پاکستان کے پنشنرز کے مطالبات بھی وزیراعظم کی کمیٹی کے سامنے رکھے جائیں اور اس معاملے کے جلد از جلد حل کا مطالبہ کیا۔
مزید :