ایمی ایوارڈ یافتہ فلسطینی صحافی بسان عودہ نے کہا ہے کہ ان کا ٹک ٹاک اکاؤنٹ چند گھنٹوں کی مبینہ پابندی کے بعد بحال کر دیا گیا ہے۔

الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اگرچہ انہیں اکاؤنٹ تک دوبارہ رسائی مل گئی ہے، تاہم صارفین کو ان کا اکاؤنٹ تلاش کرنے کے لیے مکمل یوزر نیم سرچ کرنا پڑتا ہے۔

متعدد پوسٹس ’ریکمنڈیشن‘ کے لیے نااہل قرار

بسان عودہ کے مطابق ٹک ٹاک کی جانب سے انہیں پیغام موصول ہوا ہے کہ ان کی بہت سی پوسٹس اب ’ریکمنڈیشن کے قابل نہیں رہیں‘، جس کے باعث ان کی ویڈیوز کی رسائی محدود ہو گئی ہے۔

نوجوانوں تک رسائی کے لیے ٹک ٹاک اہم پلیٹ فارم

صحافی کا کہنا تھا کہ ٹک ٹاک نوجوانوں میں زیادہ مقبول اور دیگر پلیٹ فارمز خصوصاً انسٹاگرام کے مقابلے میں کم پابندیوں والا پلیٹ فارم ہے۔ انہوں نے نوجوانوں کو ’مستقبل‘ اور ’ان نظاموں کی بنیاد‘ قرار دیتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر نوجوانوں کو حقائق کا علم نہ ہوا تو انہیں آسانی سے گمراہ کیا جا سکتا ہے۔

سوشل میڈیا پر آزاد صحافت سے اسرائیلی بیانیے کو چیلنج

بسان عودہ نے کہا کہ اسرائیلی پروپیگنڈا گزشتہ 76 برسوں سے عالمی سطح پر اپنا بیانیہ پھیلانے میں کامیاب رہا، تاہم سوشل میڈیا پر آزاد رپورٹنگ کے فروغ سے اب لوگ زمینی حقائق کو سمجھنے لگے ہیں۔ ان کا کہنا تھا، ’سچ نہ بولنا، مزاحمت نہ کرنا اور اپنے حقوق و زندگی کے لیے آواز نہ اٹھانا اب کوئی آپشن نہیں رہا۔‘

14 لاکھ فالوورز، مگر نئی پوسٹس نظر نہیں آ رہیں

بسان عودہ کا ٹک ٹاک اکاؤنٹ، جس کے فالوورز کی تعداد 14 لاکھ ہے، جمعرات کو نظر آ رہا تھا، تاہم ستمبر 2025 کے بعد کوئی نئی پوسٹ سامنے نہیں آئی۔

مستقل پابندی کا خدشہ اور 4 سال کی محنت

انہوں نے بدھ کے روز انسٹاگرام پر ایک پوسٹ میں اعلان کیا تھا کہ ان کا ٹک ٹاک اکاؤنٹ مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ عام پابندی نہیں بلکہ ہمیشہ کے لیے بین ہے‘ اور انہوں نے اس پلیٹ فارم کو 4 سال میں محنت سے بنایا تھا۔

نیتن یاہو کے بیانات کے بعد پابندی کا خدشہ

بسان عودہ نے دعویٰ کیا کہ انہیں اکاؤنٹ پر پابندی کا خدشہ اس وقت ہو گیا تھا جب اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایسے بیانات دیے جن سے ظاہر ہوتا تھا کہ اسرائیلی حکومت ٹک ٹاک پر اثر و رسوخ بڑھانا چاہتی ہے۔ انہوں نے نیتن یاہو کی امریکی انفلوئنسرز سے گفتگو کی ایک ویڈیو بھی شیئر کی، جس میں وزیراعظم نے سوشل میڈیا کو امریکا میں اپنے بیانیے کے لیے ’سب سے اہم ہتھیار‘ قرار دیا تھا۔

’صہیونی‘ لفظ کے استعمال پر نئی پالیسی

بسان عودہ نے ٹک ٹاک کے امریکا میں نئے مقرر ہونے والے سی ای او ایڈم پریسر کی ایک ویڈیو بھی شیئر کی، جس میں انہوں نے کہا کہ پلیٹ فارم نے لفظ ’صہیونی‘ کو منفی یا توہین آمیز انداز میں استعمال کرنے کو نفرت انگیز تقریر کے زمرے میں شامل کر دیا ہے۔

نفرت انگیز مواد پر سخت نگرانی کا دعویٰ

ایڈم پریسر کے مطابق ٹک ٹاک نے 2024 کے دوران نفرت انگیز سرگرمیوں پر پابندی لگائے گئے اکاؤنٹس کی تعداد 3 گنا بڑھا دی ہے، اور اس حوالے سے درجنوں یہودی تنظیموں سے معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نفرت انگیز مواد کی نگرانی کا عمل کبھی ختم نہیں ہوتا۔

فلسطینی متبادل پلیٹ فارم اپ اسکرولڈ میں شمولیت

جمعرات کو بسان عودہ نے اعلان کیا کہ انہوں نے فلسطینی ملکیتی سوشل میڈیا ایپ ’اپ اسکرولڈ‘ جوائن کر لی ہے، جو ٹک ٹاک جیسے بڑے پلیٹ فارمز کے مقابلے میں سنسرشپ سے پاک متبادل کے طور پر مقبول ہو رہی ہے۔

اپ اسکرولڈ کی مقبولیت میں تیزی

یہ ایپ امریکا، برطانیہ اور آسٹریلیا سمیت کئی ممالک میں تیزی سے مقبول ہو رہی ہے اور حالیہ دنوں میں ایپل ڈیوائسز پر سب سے زیادہ ڈاؤن لوڈ کی جانے والی سوشل میڈیا ایپ بن چکی ہے۔ کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز نے بھی ٹک ٹاک کی مبینہ سنسرشپ کے مقابلے میں اپ اسکرولڈ کو ’ آزادی اظہار کے تحفظ ‘ پر سراہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: کا ٹک ٹاک اکاؤنٹ کا کہنا تھا سوشل میڈیا نفرت انگیز اپ اسکرولڈ پلیٹ فارم انہوں نے کے بعد تھا کہ کے لیے

پڑھیں:

سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع

حکومتِ پنجاب نے سیکیورٹی خدشات(security risk) کے پیشِ نظر دفعہ 144 کے تحت پنجاب بھر میں کھلی فضا میں ڈرون اڑانے پر عائد پابندی میں مزید 30 دن کی توسیع کر دی۔

اس حوالے سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق کھلے مقامات پر ڈرون کے استعمال پر پابندی برقرار رہے گی۔

مزید پڑھیں:واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار

نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ ہالز اور مارکیز کے اندر تقریبات کے دوران چھوٹے ڈرونز کے محدود استعمال کی اجازت ہو گی تاہم اندرونی تقریبات میں ڈرون کے محفوظ استعمال کی ذمے داری منتظمین پر عائد ہو گی۔

متعلقہ مضامین

  • پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے