سانحہ گل پلازہ انکوائری؛ رجسٹرار سندھ ہائیکورٹ کا گورنر کے پرنسپل سیکریٹری کو خط کا جواب
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
کراچی:
سانحہ گل پلازہ کی انکوائری سے متعلق رجسٹرار سندھ ہائیکورٹ نے گورنر سندھ کے پرنسپل سیکریٹری کو خط کا جواب ارسال کر دیا۔
جواب میں کہا گیا کہ خط انکوائری کمیشن سے متعلق سپریم کورٹ کے 2023 کے فیصلے کے مطابق نہیں۔ پاکستان کمیشن آف انکوائری ایکٹ 2017 کے تحت حکومت خود انکوائری کروا سکتی ہے۔ انکوائری ایکٹ کے تحت سابق جج یا کسی قانونی ماہر پر مشتمل جوڈیشل کمیشن کے لیے چیف جسٹس سے مشاورت ضروری نہیں۔
مزید پڑھیںسانحہ گل پلازہ؛ جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی نے احتجاج میں ہمارا ساتھ نہیں دیا، ایم کیو ایم رہنما
سانحہ گل پلازہ کی 21 صفحات پر مشتمل حتمی رپورٹ سامنے آگئی، بڑے انکشافات
جواب میں مزید کہا گیا کہ حاضر سروس افسر سے انکوائری کے لیے سپریم کورٹ نے عابد شاہد زبیری بنام وفاق پاکستان میں معیارات طے کر دیے گئے ہیں۔ پرنسپل سیکریٹری کو چاہیے کہ یہ خط گورنر سندھ کو پیش کرے۔
سانحہ گل پلازہ کی انکوائری سے متعلق گورنر سندھ کے پرنسپل سیکریٹری نے سندھ ہائیکورٹ کو 27 جنوری کو خط لکھا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پرنسپل سیکریٹری سانحہ گل پلازہ
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔