سولر سسٹم کے باوجود شہری کو 52 ہزار کا بل، شہریوں میں تشویش
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
اسلام آباد میں ایک شہری کو گھر پر سولر پینل لگانے کے باوجود 52,000 روپے کا بجلی بل موصول ہوا ہے جس پر متعلقہ محکمے کی شفافیت اور بلنگ کے نظام پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔
صحافی اعزاز سید نے سماجی رابطوں کی سائٹ ایکس پر شہری کا بل شیئر کرتے ہوئے وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کو مخاطب کیا اور کہا کہ شہری کے گھر سولر لگا ہوا ہے مگر بل 52,000 روپے آیا اور اس دوران کسی بھی قسم کی میٹر ریڈنگ نہیں کی گئی۔ اب محکمے کا موقف ہے کہ گرین میٹر پرانا ہے، بل ادا کریں اور نیا میٹر لگوائیں۔ کیا شہریوں کے ساتھ یہ کھلے عام ڈاکہ زنی نہیں؟
محترم اویس لغاری!آپ کے زیر انتظام @IESCO_Official کا کارنامہ،شہری کے گھر سولر لگا ہوا ہےمگر بل 52000 آگیا ہے،کوئی ریڈنگ کی ہی نہیں گئی۔اب کہہ رہے ہیں کہ گرین میٹر پرانا ہےبل اداکریں اور میٹر نیا لگوائیں ؟کیا شہریوں کےساتھ یہ کھلے عام ڈاکہ زنی نہیں ؟ @akleghari pic.
— Azaz Syed (@AzazSyed) January 30, 2026
محفوظ الرحمن اعوان لکھتے ہیں کہ یہ ظلم ہے اس میں مقامی میٹر ریڈرز کی غلطی ہے گھر بیٹھے بل بنا کر بھیج دیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر کو اس کا نوٹس لیتے ہوئے واقعہ میں ملوث اہلکاروں کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔
یہ ظلم ہے اس میں یقنا مقامی میٹر ریڈرز کی غلطی ہے گھر بیٹھے بل بنا کر بیجھ دیا محترم وزیر کو س کا نوٹس لیتے ہوئے واقعہ میں ملوث اہلکاروں کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے
— محفوظ الرحمن اعوان (@mahfooz51871) January 30, 2026
صارفین کا کہنا ہے کہ ایسے بھاری بل بغیر میٹر ریڈنگ یا درست حساب کے عائد کرنا صارفین کے حقوق کی خلاف ورزی ہے اور بجلی کی ترسیل کے محکمے کی شفافیت پر سوال اٹھاتا ہے۔
کئی صارفین نے کہا کہ سولر سسٹم لگانے کا مقصد نہ صرف بجلی کے بل کم کرنا بلکہ لوڈ شیڈنگ سے بچنا بھی ہوتا ہے لیکن اس واقعے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ بجلی کی ریڈنگ اور بلنگ کے نظام میں ابھی بہتری کی ضرورت ہے۔ شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے معاملات کی تحقیقات کر کے بلنگ کے نظام میں شفافیت اور صارفین کے حقوق کو یقینی بنایا جائے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آئیسکو بجلی کا بل
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا ئیسکو بجلی کا بل
پڑھیں:
موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
اسلام آباد: موبائل انٹرنیٹ پیکجز مہنگے ہونے سے ملک بھر کے لاکھوں موبائل صارفین کو اضافی اخراجات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی جانب سے جاری کردہ تازہ تفصیلات کے مطابق مختلف موبائل کمپنیوں کے متعدد کال، ہائبرڈ اور ڈیٹا پیکجز کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔
پی ٹی اے کے مطابق مختلف موبائل آپریٹرز کے 15 مقبول ہائبرڈ اور ڈیٹا اونلی پیکجز کی قیمتوں میں 33 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد صارفین کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ رقم ادا کرنا ہوگی۔
جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ماہانہ کال اور ڈیٹا پیکجز کی قیمتوں میں 500 روپے تک اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ 15 روزہ پیکجز اب 300 روپے تک مہنگے ہو گئے ہیں۔
اسی طرح ہفتہ وار ہائبرڈ پیکجز کی قیمت میں 130 روپے تک اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ تین روزہ پیکجز 21 روپے، دو روزہ پیکجز 20 روپے اور ایک روزہ ہائبرڈ پیکجز 5 روپے تک مہنگے کر دیے گئے ہیں۔
پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ صارفین کی سہولت کے لیے تمام نئی ٹیرف تفصیلات ادارے کی ویب سائٹ پر جاری کر دی گئی ہیں، جہاں مختلف موبائل کمپنیوں کے کال اور انٹرنیٹ پیکجز، ان کی مدت، قیمت اور دستیاب سہولیات کا بآسانی موازنہ کیا جا سکتا ہے۔
اتھارٹی کے مطابق اس اقدام کا مقصد ٹیلی کام شعبے میں شفافیت کو فروغ دینا اور صارفین کو مختلف موبائل کمپنیوں کے پیکجز سے متعلق درست اور مکمل معلومات فراہم کرنا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موبائل اور انٹرنیٹ خدمات کی قیمتوں میں اضافے سے طلبہ، فری لانسرز، آن لائن کاروبار کرنے والے افراد اور روزمرہ انٹرنیٹ استعمال کرنے والے صارفین کے ماہانہ اخراجات میں مزید اضافہ ہوگا۔