پارلیمنٹ ڈسپنسری کو 30 فیصد سستی دوا کی فراہمی پر سوال اٹھ گیا
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
فائل فوٹو
پارلیمنٹ ڈسپنسری کو 30 فیصد سستی دوا کی فراہمی پر سوال اٹھ گیا، ڈرگ ریگولیٹری اتھارتی سے معاملے کی وضاحت مانگ لی گئی۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کا اجلاس ہوا، اس دوران عالیہ کامران نے استفسار کیا کہ پارلیمنٹ کی ڈسپنسری کو 30 فیصد سستی دوا فراہم کی جاتی ہیں، معاملہ کیا ہے؟
انہوں نے کہا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی اس معاملے کی وضاحت کرے۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی مذہبی امور نے وزیر مذہبی امور سے حج کوٹہ مانگ لیا۔
سی ای او ڈریپ ڈاکٹر عبیداللّٰہ نے کہا کہ ہم نے دو مراحل میں ٹیسٹ کےلئے ادویات کے نمونے لیے، 36 نمونے میں سے 19کے رزلٹ کا انتظار ہے، باقی سب کلیئر ہیں، ادویات کی قیمتوں میں اضافہ وفاقی حکومت نے روک لیا ہے۔
اس پر عالیہ کامران نے کہا کہ پولی کلینک کے ڈاکٹرز خود مانتے ہیں کہ ہماری ادویات معیاری نہیں، ڈریپ کا جواب ہے ہر دوا موثر ہے۔
وفاقی سیکریٹری صحت نے کہا کہ پارلیمنٹ کی ڈسپنسری کو وسیع کرنے کی سفارش کردی ہے۔
کمیٹی چیئرمین نے نرسنگ کونسل بل پر سینٹ، قومی اسمبلی قائمہ کمیٹیوں کا مشترکہ اجلاس بلانے کی تجویز دی اور کہا کہ پرانے ایکٹ اور آرڈیننس کو زیر بحث لایا جائے۔
اس پر سیکریٹری صحت نے کمیٹی کو بتایا کہ نرسنگ کونسل کی عبوری کونسل وزیراعظم کی سمری سے بنی، اجلاس بلانتیجہ رہا، الیکشن کے عمل میں مسائل درپیش آئے۔
چیئرمین کمیٹی نے سوال اٹھایا کہ کیا نرسنگ کونسل وزیر اعظم سے بھی طاقتور ہے؟ اور بتایا کہ نرسنگ کونسل کی سابق سیکریٹری یاسمین آزاد کو ہٹا دیا گیا ہے۔
اس پر عالیہ کامران نے کہا کہ اس اقدام پر اجلاس کے شرکاء ڈیسک بجادیں۔
دوران اجلاس اسپیشل سیکریٹری صحت محمد اسلم غوری نے کمیٹی کو نرسنگ کونسل پر بریفنگ دی اور بتایا کہ مجھے وزیر اعظم نے پاکستان نرسنگ کونسل کا صدر نامزد کیا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ کونسل کے اجلاس میں صدر کونسل کے الیکشن پر بحث ہوئی، صدر نرسنگ کونسل کے الیکشن میں پرانے رکن نئے رکن کے ساتھ مل گئے۔
محمد اسلم غوری نے اجلاس کو یہ بھی بتایا کہ ہم سوچ رہے تھے کہ نئے رکن سرکاری ہیں، کونسل کے ارکان صوبوں کے نامزد تھے، جو پرانے ممبر کے ساتھ مل گئے، نرسنگ کونسل کا اجلاس نتیجہ کے بغیر ختم ہوگیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: قائمہ کمیٹی نرسنگ کونسل ڈسپنسری کو نے کہا کہ کونسل کے بتایا کہ
پڑھیں:
عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
حکومت نے بازار اور دکانیں بند کرنے کے اوقاف کار(business hours) تبدیل کر دئیے ۔دکانوں اور کاروباری مراکز کے بند ہونے کے اوقات میں توسیع کا فیصلہ ۔
اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس کمیٹی نے جاری کفایت شعاری اقدامات کا جائزہ لیا نئے اوقات کے مطابق دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رہیں گے۔
ریسٹورنٹس اور کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے ہونگے ٹیک اوے اور ڈلیوری سروسز ان اوقات سے مستثنیٰ ہوں گیشادی ہالز اور تقریبات کے مقامات رات 10 بجے تک ہی کھلے ہونگے۔
مزید پڑھیں:اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات
فارمیسی، اسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق ادارے مستثنیٰ ہونگے صوبائی حکومتیں وفاق کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے ان ہدایات پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنائیں، کمیٹی کی ہدایت