جڑواں شہروں میں بیک وقت اذان اور نمازکےاوقات کی منظوری
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
ویب ڈیسک : وفاقی حکومت نے مذہبی ہم آہنگی اور اتحاد کے فروغ کے لیے اسلام آباد اور راولپنڈی میں اذان اور نماز باجماعت کے اوقات کے لیے متحدہ نظام کی منظوری دے دی ہے۔
متحدہ نظام کا فیصلہ وفاقی وزیر برائے مذہبی امور سردار محمد یوسف کی زیر صدارت ہونے والے مشاورتی اجلاس میں کیا گیا، جس میں تمام مکاتبِ فکر کے علمائے کرام اور تاجر برادری کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں شرکاء نے متفقہ طور پر ایک ہی نماز کے شیڈول کو اپنانے پر اتفاق کیا۔
عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت 5 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی
سردار محمد یوسف نے کہا کہ اذان اور نماز کے متحدہ اوقات کا باقاعدہ کیلنڈر جلد جاری کیا جائے گا، جبکہ اس نظام کو پورے ملک میں نافذ کرنے کے لیے وزارتِ مذہبی امور کے ذریعے قانون سازی کا عمل پہلے ہی جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں اس نظام کا نفاذ ملک بھر کے لیے ایک عملی ماڈل ثابت ہوگا۔ جڑواں شہروں کے تاجروں نے بھی اذان کے بعد رضاکارانہ طور پر دکانیں بند کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے تاکہ نماز باجماعت کی ادائیگی میں سہولت فراہم کی جا سکے۔
ہزارہ ایکسپریس کی 2بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں
وفاقی حکومت اس نظام کو ابتدائی طور پر جمعہ کی نماز سے شروع کرنے پر غور کر رہی ہے، جس کے بعد اسے مرحلہ وار دیگر علاقوں تک توسیع دی جائے گی۔ وزیر مذہبی امور کے مطابق اس اقدام کا مقصد مسلم معاشرے میں مذہبی اتحاد اور ہم آہنگی کو مضبوط بنانا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔