اسلام ٹائمز: صدارت کو ذاتی مفاد کیلئے استعمال کیا گیا، بیرونِ ملک 20 سے زائد منصوبے شروع یا آگے بڑھائے گئے، ان منصوبوں میں غیر ملکی حکومتوں کا تعاون شامل رہا، عمان، بھارت اور سعودی عرب میں بڑے تجارتی سودے ہوئے، ٹرمپ کے نام کے لائسنس سے 23 ملین ڈالر کمائے گئے، بعض ممالک کے ساتھ پالیسی نرمی سودوں کے فوراً بعد دیکھی گئی اور اس عمل نے مفادات کے ٹکراؤ کے سنگین خدشات کو جنم دیا۔ ادارتی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ خاندان کی کمائی کے بڑے ذرائع میں میڈیا اور ٹیک کمپنیاں بھی شامل رہیں۔ تفصیلات کے مطابق ایمیزون نے میلانیہ ٹرمپ پر ڈاکیومنٹری کے حقوق کے لیے 28 ملین ڈالر ادا کیے۔ ٹرمپ نے امریکی صدر کے منصب سے اپنے خاندان اور ذاتی کاروبار کو جو فائدہ پہنچایا، اس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ٹرمپ کا کبھی محاسبہ ہوگا یا نہیں۔؟ تحریر: احسان احمدی
ایک امریکی سینیٹر نے ڈونلڈ ٹرمپ کی بطور صدر اپنے منصب اور عہدے کو اپنے خاندانی کاروبار کی مدد کے لیے استعمال کرنے کا الزام لگاتے ہوئے اس پر کڑی تنقید کی ہے۔ سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے رکن کرس وان ہولن نے بدھ کے روز ٹرمپ کے سیکرٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو کے ساتھ ایک سماعت میں بات کرتے ہوئے موجودہ انتظامیہ کو "امریکی تاریخ کی سب سے کرپٹ" انتظامیہ قرار دیا ہے۔ ہولن کے مطابق، ٹرمپ نے متحدہ عرب امارات کو حساس سیمی کنڈکٹر اجزاء اور مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی فراہم کی ہے، جس کے بدلے میں امارات نے ٹرمپ کی فیملی کی ایک کمپنی میں 2 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔ امریکی سینیٹر نے مزید کہا کہ دیگر تمام سودے جو ٹرمپ نے ٹیرف کے ذریعے کیے ہیں یا خارجہ پالیسی کے معاملات انجام دیئے ہیں، اس میں بھی اسی روش کو اختیار کیا گیا ہے۔ انہوں نے سعودی عرب اور ویتنام کے گلف اسکولوں، ٹرمپ ہوٹلوں اور قطر سے 400 ملین ڈالر کے طیارے کی وصولی کو اس طرز کی دوسری مثالوں کے طور پر پیش کیا ہے۔
امریکی سینیٹر نے یہ بھی کہا ہے کہ ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ صدر امریکہ ملکی مفادات کو قربان کرتے ہوئے دوسرے ممالک میں اپنے ارب پتی حواریوں کے مفادات کو آگے بڑھاتے ہیں۔ اس کام کے لیے امریکہ کی طاقت کا استعمال کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے ہیں۔ ہولن نے انکشاف کیا کہ گرین لینڈ کو حاصل کرنے کا خیال سب سے پہلے ٹرمپ کے ذہن میں ڈالنے والا شخص رون لاڈر تھا، جو ٹرمپ کا قریبی اور اس خطے میں کاروباری مفادات رکھتا ہے۔ امریکی سینیٹر کے مطابق جہاں تک وینزویلا کا تعلق ہے، ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہوں نے وینزویلا میں نکولس مادورو کی حکومت کا تختہ الٹنے کا خیال ملک کے آئل ایگزیکٹوز کے ساتھ ڈسکس کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ کانگریس کے ارکان کو اب یقین ہے کہ ٹرمپ کا نکولس مادورو کی حکومت کا تختہ الٹنے کا مقصد منشیات کو امریکہ میں داخل ہونے سے روکنا نہیں بلکہ تیل تھا۔
ہولن نے اس طرف متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ وہی شخص ہے، جس نے ڈرگ انفورسمنٹ ایڈمنسٹریشن کے بجٹ میں کٹوتی کی اور ہونڈوراس کے سابق صدر کو معاف کیا، جسے منشیات کی اسمگلنگ کے جرم میں سزا سنائی گئی تھی۔ پس نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے وینزویلا آپریشن کا مقصد وینزویلا میں مزید آزادی یا جمہوریت لانا نہیں تھا۔ امریکی سینیٹر کے بقول درحقیقت، صدر ٹرمپ نے مادورو کی گرفتاری کے بعد ایک بڑی پریس کانفرنس میں اس آپریشن کا مقصد ہم پر ظاہر کیا: صدر نے کہا کہ اس آپریشن کا مقصد تیل، تیل اور بس تیل تھا۔" ہولن نے یہ بات زور دیکر کہی ہے کہ ٹرمپ نے اس پریس کانفرنس میں جمہوریت، آزادی یا انسانی حقوق کا ذکر کیے بغیر 19 مرتبہ سے زائد تیل کا لفظ استعمال کیا ہے۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے دوسری مدتِ صدارت کے دوران عوامی خدمت کے بجائے ذاتی دولت میں غیر معمولی اضافہ کیا، کرپٹو، کارپوریٹس، تحائف، غیر ملکی سودے، میڈیا تصفیے اور طاقت کا سودا، بیرونِ ملک 20 سے زائد منصوبے، عمان، بھارت اور سعودیہ میں بڑے تجارتی سودے، مجموعی کمائی امریکی اوسط گھریلو آمدن سے 16,822 گنا زیادہ۔ ایک سال پہلے، ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی عوام کی خدمت کا حلف اٹھایا تھا۔ اس کے بجائے، انہوں نے صدارت کے عہدے کو اپنی دولت بڑھانے کے لیے استعمال کرنے پر توجہ مرکوز رکھی۔ جائزے کے مطابق ٹرمپ نے تقریباً 4 کھرب روپے (1.
صدارت کو ذاتی مفاد کے لیے استعمال کیا گیا، بیرونِ ملک 20 سے زائد منصوبے شروع یا آگے بڑھائے گئے، ان منصوبوں میں غیر ملکی حکومتوں کا تعاون شامل رہا، عمان، بھارت اور سعودی عرب میں بڑے تجارتی سودے ہوئے، ٹرمپ کے نام کے لائسنس سے 23 ملین ڈالر کمائے گئے، بعض ممالک کے ساتھ پالیسی نرمی سودوں کے فوراً بعد دیکھی گئی اور اس عمل نے مفادات کے ٹکراؤ کے سنگین خدشات کو جنم دیا۔ ادارتی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ خاندان کی کمائی کے بڑے ذرائع میں میڈیا اور ٹیک کمپنیاں بھی شامل رہیں۔ تفصیلات کے مطابق ایمیزون نے میلانیہ ٹرمپ پر ڈاکیومنٹری کے حقوق کے لیے 28 ملین ڈالر ادا کیے۔ ٹرمپ نے امریکی صدر کے منصب سے اپنے خاندان اور ذاتی کاروبار کو جو فائدہ پہنچایا، اس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ٹرمپ کا کبھی محاسبہ ہوگا یا نہیں۔؟
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: امریکی سینیٹر ڈونلڈ ٹرمپ ہے کہ ٹرمپ ملین ڈالر کے مطابق انہوں نے ٹرمپ کا ہولن نے کے ساتھ کا مقصد ٹرمپ کے کے لیے
پڑھیں:
ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات انتہائی ٹیکنیکل اور کئی مہینے لگ سکتے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی صورت میں امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیش کش نہیں کی گئی ہے۔
امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو مارکو روبیو نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایران اس بات پر تفصیلی اور واضح مذاکرات کے لیے آمادہ ہو کہ گہرے پہاڑی مقام میں محفوظ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل میں کیا تصرف کیا جائے گا۔
ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک میں افزودگی کی سرگرمیوں کو طویل مدت تک محدود یا ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات پر اتفاق کرنا ہوگا۔
مارکو روبیو نے کہا کہ یہ انتہائی ٹیکنیکل معاملات ہیں اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس کو 5 دنوں کے اندر حل کرسکتے ہیں، اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو 30، 60 یا 90 روز کی مدت میں کام کرے اور تفصیلات اخذ کرے لیکن انہیں ایسا کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے پہلوؤں پر مذاکرات کے لیے اتفاق کیا ہے لیکن اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی کہ کون سے امور ہیں اور واضح کیا کہ مذاکرات اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ حتمی طور پر ایسے معاہدے کا باعث ہوں گے جو سینیٹ یا امریکی عوام کے لیے قابل قبول ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے بغیر کسی ٹول کے آبنائے ہرمز کی بحالی کا اعلان کرنا ہوگا، وہ مائنز ہٹائیں گے اور جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کی بحالی پر پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے اور پابندیوں کا خاتمہ شرائط کی بنیاد پر ہوگا۔
ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، روبیو
امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈڑ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور اس کے اشارے مل رہے ہیں۔
خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نیا منصب سنبھالنے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں تاہم وہ ایرانی حکام کو بدستور ہدایات دے رہے ہیں اور رپورٹ بھی کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ حکام ان سے ملاقات اور مشاورت کرچکے ہیں۔
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ حملے میں زخمی ہیں جبکہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جینس کا تجزیہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمت عملی میں ایران کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔