بھارت میں اقلیتوں پر دباؤ میں اضافہ، انتہا پسند گروہوں کی کارروائیاں بے نقاب
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
نئی دہلی: بھارت میں ہندوتوا نظریے سے وابستہ انتہا پسند گروہوں کی سرگرمیوں کے باعث اقلیتوں کو درپیش مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق مسلمانوں اور مسیحی برادری کو مختلف علاقوں میں تشدد، دھمکیوں اور ہراسانی کا سامنا ہے۔
بھارتی جریدے دی وائر کے مطابق ریاست اوڑیسہ میں انتہا پسند ہندو افراد نے ایک چرچ میں داخل ہو کر مسیحی شہریوں کو عبادت سے روک دیا اور انہیں ہراساں کیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انتہا پسند عناصر نے چرچ میں عبادت کی صورت میں مسیحی خاندانوں کو گاؤں سے نکالنے کی دھمکیاں بھی دیں۔
دی وائر کے مطابق واقعے کے اگلے روز ایک انتہا پسند گروہ نے حملہ کر کے مسیحی برادری کے دو نوجوانوں کو شدید زخمی کر دیا۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ چند ہفتے قبل ایک پادری پر تشدد کیا گیا اور اسے تذلیل کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
دوسری جانب ہندوستان ٹائمز کے مطابق ریاست آسام کے وزیراعلیٰ کے ایک حالیہ بیان پر بھی تنقید کی جا رہی ہے، جسے بعض حلقوں نے مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز قرار دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اقلیتوں اور کمزور طبقات کے خلاف بڑھتا ہوا تشدد بھارت میں سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچا رہا ہے اور داخلی عدم استحکام کو جنم دے سکتا ہے۔ ان کے مطابق انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں مستقبل میں علیحدگی پسند رجحانات کو بھی تقویت دے سکتی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: انتہا پسند کے مطابق
پڑھیں:
ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔
ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔