ترکیے کے چیف آف جنرل اسٹاف کی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات؛مستحکم تعلقات پر اطمینان کا اظہار
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
سٹی 42 : ترکیے کے چیف آف جنرل اسٹاف کی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے جی ایچ کیو میں ملاقات ہوئی ۔
آئی ایس پی آر کے مطابق جی ایچ کیو آمد پر ترک چیف آف جنرل سٹاف کو افواج پاکستان کے دستے نے گارڈ آف آنر دیا ۔ پاک ترک عسکری قیادت کا باہمی دلچسپی کے امور اہم علاقائی و عالمی معاملات پر تبادلہ خیال ہوا۔فریقین نے پاک–ترکیہ کے مستحکم تعلقات پر اطمینان کا اظہار کیا ۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے پاک–ترکیہ برادرانہ تعلقات کو اجاگر کیا۔فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ترک مسلح افواج کے تعاون کو سراہا اورفوجی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کا آعادہ کیا ۔
ترک جنرل نے پاک فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی تعریف کی ۔ تربیت، مشترکہ مشقوں اور استعداد بڑھانے پر تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ۔ ترک جنرل نے دفاعی تعاون مزید گہرا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ۔
دورہ پاک–ترکیہ اسٹریٹجک شراکت داری کی عکاسی کرتا ہے۔علاقائی امن، استحکام اور سلامتی کے لیے مشترکہ عزم کا اظہار کیا گیا ۔
عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت 5 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: فیلڈ مارشل پاک ترک
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔