امریکا اور روس کا محدود ایٹمی ہتھیاروں کا معاہدہ ختم ہونے کے قریب
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
واشنگٹن (ویب ڈیسک)امریکا اور روس کے درمیان ایٹمی ہتھیاروں کو محدود رکھنے کا معاہدہ ختم ہونے میں ایک ہفتہ باقی ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات نہ ہونے کے باعث دنیا میں ایک بار پھر ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ ہے۔
خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق روس نے امریکا کو ایٹمی ہتھیاروں کو محدود رکھنے کے معاہدے میں ایک برس کی توسیع کی پیشکش کی ہے لیکن واشنگٹن سے ابھی تک کوئی جواب نہیں آیا۔ معاہدہ ختم ہونے کی صورت میں دونوں ملک ایٹمی ذخائرمیں اضافہ کرسکتے ہیں۔ امریکا روس کے ساتھ ساتھ چین کو بھی معاہدے میں شامل کرنے کا خواہاں ہے۔
آخری بار 2010 میں معاہدے میں توسیع ہوئی تھی جس کے تحت دونوں ملک 1550 سے زائد ایٹمی ہتھیار نہ رکھنے کے پابند ہیں۔ دونوں ملکوں نے پہلی بار 1969 میں ایٹمی ہتھیاروں کو محدود رکھنے پر اتفاق کیا تھا۔ روس کے ہائپر سونک میزائلز اور امریکی گولڈ ڈوم سسٹم 2010 کے معاہدے سے باہر ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)نائب وزیرِاعظم اسحاق ڈار کی زیرِ صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد کمیٹی کا اہم اجلاس ہوا جس دوران دکانوں اور کاروباری مراکز کے اوقاتِ کار میں توسیع کا بڑا فیصلہ ہو گیا، دن کے طویل دورانیے اور شدید گرمی کے پیشِ نظر اب ملک بھر میں دکانیں، بازار اور شاپنگ مالز رات نو بجے تک کھلے رہ سکیں گے۔
کمیٹی کے فیصلے کے مطابق ریٹیل کاروبار اور شاپنگ مالز کو رات نو بجے تک جبکہ ریسٹورنٹس، کیفے اور کھانے پینے کے مراکز کو رات گیارہ بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت ہوگی۔ دوسری جانب، شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات پر یہ ریلیف لاگو نہیں ہوگا اور وہ بدستور رات دس بجے بند کر دیئے جائیں گے۔ اجلاس میں واضح کیا گیا کہ فارمیسیز، اسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات اوقاتِ کار کی اس پابندی سے مکمل طور پر مستثنیٰ ہوں گی۔ اسحاق ڈار کی جانب سے تمام صوبوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں رہتے ہوئے نئی ہدایات پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائیں۔
وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار سے بیلجیئم میں پاکستان کے سفیررحیم حیات قریشی کی اہم ملاقات
مزید :