data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی:میئر کراچی کے زیرِ نگرانی کام کرنے والے بلدیہ عظمیٰ کراچی (کے ایم سی) کے بعض افسران پر ٹھیکے داروں سے مبینہ طور پر بھاری رشوت لے کر من پسند ٹھیکے داروں کو ٹھیکے جاری کرنے کے سنگین الزامات سامنے آ گئے ہیں۔

سٹی کنٹریکٹر ایسوسی ایشن نے ان الزامات کو کراچی کے خلاف ایک منظم سازش قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کرتے ہوئے  کہا ہے کہ اس عمل کے باعث شہر کے ترقیاتی کام بری طرح متاثر ہو رہے ہیں، جبکہ ٹھیکے داروں کے اربوں روپے پھنسے ہوئے ہیں۔

سٹی کنٹریکٹر ایسوسی ایشن کے وائس چیئرمین معین اختر نے جسارت سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کے ایم سی کے افسران کی مبینہ بدعنوانی کے باعث کراچی کے ٹھیکے داروں کے تقریباً چار ارب روپے پھنسے ہوئے ہیں، اس کے باوجود نہ تو کام ہو رہا ہے اور نہ ہی واجبات کی ادائیگی کی جا رہی ہے، ایسوسی ایشن نے اس معاملے پر میئر کراچی کو تحریری درخواست دی ہے جبکہ دیگر متعلقہ اداروں کو بھی خطوط ارسال کیے گئے ہیں، جن کی وصولی کی تصدیق بھی کرائی جا چکی ہے۔

معین اختر کے مطابق کے ایم سی کے افسران کی نااہلی کا یہ عالم ہے کہ گزشتہ سال کے 2 ارب 67 کروڑ روپے کے ترقیاتی کام اس سال کے وعدوں پر آگے بڑھا دیے گئے اور اب رواں سال بھی سرکاری رقوم ضائع کرنے کی مکمل منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، کے ایم سی افسران کی ترجیح ڈائریکٹ کانٹریکٹس ہیں، جن میں انہیں مبینہ طور پر منصوبے کی مجموعی رقم کا 50 فیصد تک کمیشن باآسانی مل جاتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کئی افسران جالی ڈپلومہ اور ڈگریوں پر ترقی حاصل کر کے سپریم کورٹ کے احکامات کے برخلاف پروفیشنل سیٹوں پر قابض ہیں، سیریل نمبر 1 اور 2 کے ٹینڈرز منسوخ کر کے ٹھیکے داروں کے ساتھ ناانصافی کی گئی جبکہ ٹینڈر کی قیمت پانچ ہزار روپے مقرر ہونے کے باوجود ٹینڈر منسوخ ہونے کی صورت میں پے آرڈر واپس نہیں کیے جا رہے، صرف ٹینڈر فیس کی مد میں 50 سے 60 لاکھ روپے بنتے ہیں، جو کنٹریکٹرز کو واپس کیے جانے چاہئیں۔

انہوں نے بتایا کہ 23 کاموں کے لیے جاری کی گئی دو این آئی ٹیز منسوخ کر دی گئیں، جن میں سے دو کام روک لیے گئے جبکہ ٹھیکے داروں کے پانچ فیصد پے آرڈرز، جو تقریباً 4 ارب 8 لاکھ روپے بنتے ہیں، تین ماہ سے روکے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ ٹینڈر کاسٹ کی مد میں تقریباً 80 لاکھ روپے کے پے آرڈرز بھی واپس نہیں کیے جا رہے،کے ایم سی کا فنانس ڈیپارٹمنٹ ٹینڈر ریلیز کرنے کے نام پر چھ فیصد رقم وصول کر رہا ہے اور افسران کھلے عام کہتے ہیں کہ پہلے پیسے دو، پھر پرچی ملے گی۔

دوسری جانب میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے سٹی کنٹریکٹر ایسوسی ایشن کی جانب سے لگائے گئے الزامات کا نوٹس لیتے ہوئے جامع انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔ میئر کراچی نے ان تحفظات کو سنجیدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹینڈرنگ اور بولی کے عمل میں شفاف، کھلے اور مسابقتی نظام کو یقینی بنانا میٹروپولیٹن انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔

میئر کراچی نے میونسپل کمشنر کے ایم سی سمیرا حسین کو ہدایت کی ہے کہ وہ ٹینڈرنگ، بولی اور خریداری کے تمام طریقۂ کار کا غیر جانبدارانہ اور تفصیلی جائزہ لیں۔ انکوائری کے دوران یہ بھی جانچا جائے گا کہ آیا قوانین، ضوابط اور معیاری طریقہ کار (ایس او پیز) کی مکمل پابندی کی گئی یا کسی مرحلے پر بے ضابطگی اور کوتاہی ہوئی۔ میئر کراچی نے بروقت کارروائی کو یقینی بنانے کے لیے تین دن کے اندر تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت بھی جاری کر دی ہے۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ٹھیکے داروں کے ایسوسی ایشن میئر کراچی کے ایم سی

پڑھیں:

مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے

لاہور سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں ہونےوالی مون سون کی بارش نے جل تھل ایک کردیا۔لاہور میں مون سون کا سپیل زور شور سے جاری ہے اورعلی الصبح سے ہونے والی موسلا دھار بارش سے نشیبی علاقے زیرآب آگئے ہیں۔واسا لاہور کی جانب سے اب تک ہونے والی بارش کا ریکارڈ جاری کردیاگیاہے جس کے مطابق جیل روڈمیں 28.5، ایئرپورٹ میں 263، ہیڈ آفس گلبرگ میں 52، لکشمی چوک میں 25، اپر مال کے علاقے میں 114.4، مغلپورہ میں 129، تاجپورہ میں 155، نشتر ٹاؤن میں 56.4، چوک ناخدا میں 62، پانی والا تالاب میں 27.2، فرخ آباد میں 23.4، گلشن راوی میں 18، اقبال ٹاؤن میں 54.2، سمن آبادمیں 32، جوہر ٹاؤن میں 81، ڈیفنس روڈ میں 45، شادی پورہ میں 132.4 ، سگیاں میں 22.2اور مناواں میں 106 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی،سب سے زیادہ 263 ملی میٹر بارش ائیر پورٹ پر ریکارڈ کی گئی ہے ۔لاہور میں ہونےوالی موسلادھار بارش سےسیشن کورٹ میں سینئر قانون دان پیر مسعود چشتی سمیت2 وکلاء کے چیمبر گرگئے،پیر مسعود چشتی کا چیمبر کافی عرصے سے خالی پڑاتھا،چیمبر کی چھت بارش کے پانی کا بوجھ برداشت نہ کر سکی اورگرگئی،شدید بارش کی وجہ سے ماتحت عدالتوں میں سائلین نہ پہنچ سکے۔ دوسری طرف آئی جی پنجاب نے پولیس کو حادثات اور ناگہانی صورتحال میں امدادی سرگرمیوں میں شرکت کی ہدایت کرتے ہوئے کہاہے کہ پولیس افسران اور اہلکار بارش سے متاثرہ علاقوں میں انتہائی مستعد ہو کر ڈیوٹی انجام دیں،سپروائزری پولیس افسران بارش زدہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں خود مانیٹر کریں، بارش کے مزید امکانات کے پیش نظر پولیس افسران اور اہلکار الرٹ رہیں،کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری ریسپانڈ کریں۔ملک کے دوسرے حصوں کی طرح ضلع خیبر کے باڑہ اور جمرود کے علاؤہ وادی تیراہ کے پہاڑوں پر بھی ہونے والی بارش سے موسم خوشگوارہوگیا لیکن ندی نالوں میں طغیانی اور دریائے باڑہ میں درمیانے درجے کا سیلاب ہے ،جولائی کے مہینے میں دسمبر جیسے سردی محسوس کی جارہی ہے،پہاڑی علاقوں میں بارش سے ندی نالوں میں طغیانی آگئی ہے،ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو کی جانب سے حفاظتی انتظامات مکمل کرلئے گئے ہیں جبکہ ندی نالوں کے قریب جانے پر پابندی کی خلاف ورزی پر دوافرادکو گرفتار بھی کرلیاگیاہے۔

متعلقہ مضامین

  • دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 5 ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار
  • کراچی میں شوہر کے ساتھ موٹرسائیکل چوری کی درجنوں وارداتوں میں ملوث ملزمہ گرفتار
  • دبئی کا بڑا اعلان؛ دوستوں اور رشتہ داروں کو سیاحت پر بلائیں، ہزاروں درہم انعام پائیں
  • کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے
  • کراچی، 7 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف