پی ٹی آئی ہمدردی کارڈ کھیل رہی ہے، این آر او نہیں ملے گا : طلال چوہدری
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
وزیرمملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ عمران خان بالکل صحت مند ہیں، پی ٹی آئی کے سارے کارڈز ناکام ہوگئے ہیں، اس لیے یہ اب عمران خان کی صحت کو لے کر ہمدردی کارڈ کھیل رہی ہے، ان کو اب این آر او نہیں ملے گا۔
یہ بھی پڑھیں: آنکھ کا مسئلہ یا کچھ اور؟ عمران خان کو پمز اسپتال لانے کے بعد کیا کچھ ہوتا رہا؟
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرمملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ عمران خان کو پمز اسپتال لائے جانے میں چھپانے والی بات کوئی نہیں ہے، نہ یہ بات چھپی رہ سکتی ہے، مسئلہ یہ ہے کہ پی ٹی آئی کبھی مثبت نہیں ہوسکتی، کبھی کہتی ہے کہ عمران خان کو صحت کی سہولیات نہیں دی جارہی اور ان کا خیال نہیں رکھا جاتا، اب عمران خان کو صحت کا کچھ مسئلہ ہوا ہے تو اسلام آباد کے سب سے بہترین اسپتال میں علاج کے لیے لایا گیا ہے۔
طلال چوہدری نے کہا کہ پمز اسپتال سے تسلی ہونے کے بعد عمران خان کو واپس جیل پہنچایا گیا، یہ حکومت اور جیل حکام کی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام قیدیوں کی صحت اور باقی حقوق کا خیال رکھیں اور وہ خیال رکھ رہے ہیں، کئی قیدیوں کو علاج کے لیے اسپتال پہنچایا جاتا ہے اور کسی کی پریس ریلیز یا پریس کانفرنس نہیں ہوتی، قیدی کے ورثا کو اطلاع دینا کہ وہ بیمار ہے، جیل حکام کی ذمہ داری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کو اسپتال لائے جانے سے متعلق خبر کی تصدیق یا تردید کی پوزیشن میں نہیں، طلال چوہدری
انہوں نے کہا کہ عمران خان بالکل صحت مند اور ٹھیک ہیں، ان کے جیل میں ذاتی معالج اور باورچی بھی ہیں، جیل کے اندر ذاتی رہائش گاہ بھی ہے، ذاتی ایکسرسائز مشین اور ذاتی خدمت گزار بھی ہیں، ہر چیز کا خیال رکھنا پڑتا ہے، وہ سزا یافتہ ہیں، سیکیورٹی اور دوسری وجوہات پر نہیں بتایا گیا کہ انہیں اسپتال لایا جارہا ہے، ہم نہیں چاہتے کہ اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ ہو۔
ان کا کہنا تھا کہ جیل حکام کا اپنا طریقہ کار ہے، ہر چیز کی وزیر مملکت یا وزیراعظم کو اطلاع نہیں دی جاتی، جیل حکام کے اپنے ایس او پیز ہیں، سیکیورٹی اداروں اور باقی لوگوں کا آپس میں طریقہ کار موجود ہے، عمران خان کی فیملی کو صرف اپنی سیاست کی فکر ہے، وہ ملاقات کو صرف اپنے سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے استعمال کرتے ہیں، ملاقات کے بعد جیل سے باہر آکر پارٹی کے کنٹرول اور پارٹی کے اندر اپنی چوہدراہٹ کے لیے بیانیہ بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فیض حمید ریٹائرمنٹ کے بعد عمران خان کے سیاسی مشیر رہے، عطا تارڑ کا دعویٰ
طلال چوہدری نے کہا کہ ماضی میں جب نواز شریف بیمار ہوئے تو ان کے علاج کو سیاسی ہتھیار بتانے کی کوشش کی گئی، جب ان کے پلیٹلٹس تشویشناک حد تک گرگئے، تب انہیں اسپتال شفٹ کیا گیا، پھر عمران خان نے کہا کہ وہ سرکاری اسپتال کی رپورٹ کو نہیں مانتے، شوکت خانم اسپتال کا ڈاکٹر تصدیق کرے گا، جس ڈاکٹر نے یہ تصدیق کی کہ نواز شریف کی جان کو خطرہ ہے اسے اٹھا لیا گیا، پھر شوکت خانم اسپتال کے ڈاکٹرز نے تصدیق کی تو نواز شریف کی جان بچ گئی، ان کی بیٹی کو ان کے ساتھ رہنے کی اجازت تب دی گئی جب ہاتھ پاؤں پھول گئے۔
انہوں نے کہا کہ اس حد تک ہم نہیں گئے نہ جانا چاہتے ہیں، ہمارے سیاسی مخالفین ہیں ذاتی نہیں، ہمارا اس بات پر دھیان نہیں ہے کہ ان کے اے سی اتار دو، کھانے میں کچھ ملا دو، ہمارا فوکس ان باتوں پر نہیں بلکہ گورننس پر ہے، لیکن پی ٹی آئی ہمدردی کارڈ بنا رہی ہے کہ بیٹوں کو ملنے نہیں دیا جا رہا، 2 سال ہوگئے ہیں بیٹے کہہ رہے ہیں کہ وہ ویزا اپلائی کر رہے ہیں، کیوں نہیں آ رہے۔
یہ بھی پڑھیں: ثاقب نثار نے ملک کو نقصان پہنچایا، فوج کی طرح عدلیہ کو بھی خود احتسابی کرنی چاہیے، طلال چوہدری
ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے سارے کارڈ ناکام ہوچکے، 9 مئی، 26 نومبر، استعفے، اسمبلیاں توڑی، اپوزیشن لیڈر بدلا، وزیراعلیٰ بدلا، یہ اپوزیشن لیڈر بدلیں یا وزیراعلیٰ بدلیں، ان کو این آر او نہیں ملے گا، پی ٹی آئی سب سے مایوس ہے، عوام اور اسمبلیوں سے بھی مایوس ہیں، آج چیف جسٹس سے بھی مایوس ہوگئے، یہ کہتے ہیں کہ عمران خان عام آدمی نہیں ہیں، کیا یہ آئین میں لکھا ہوا ہے کہ ہینڈسم اور مقبول آدمی کے لیے قانون کوئی دوسرا ہوگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پمز اسپتال پی ٹی آئی صحت طلال چوہدری عمران خان ہمدردی کارڈز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پمز اسپتال پی ٹی ا ئی طلال چوہدری ہمدردی کارڈز طلال چوہدری نے کہا کہ عمران خان عمران خان کو یہ بھی پڑھیں ہمدردی کارڈ پمز اسپتال پی ٹی ا ئی نے کہا کہ جیل حکام کے لیے کے بعد
پڑھیں:
جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کے نئے کیسز سامنے آنے کے بعد صوبائی محکمہ صحت کی تشویش میں اچانک اضافہ ہو گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ملتان کے ’نشتر اسپتال‘ میں اب تک منکی پاکس کے 4 مریضوں کی باقاعدہ تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اسپتال اور گردونواح میں الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔
آئسولیشن وارڈ میں مریضوں کی تعداد اور آبائی علاقےنشتر اسپتال انتظامیہ کے مطابق حال ہی میں ایک اور مشتبہ مریض کو وائرس کی علامات ظاہر ہونے پر فوری طور پر خصوصی آئسولیشن وارڈ میں داخل کر لیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:سندھ میں منکی پاکس کے کیسز میں اضافہ، 9 اموات کی تصدیق
اس نئے کیس کے بعد وارڈ میں زیرِ علاج اور کڑی نگرانی میں رکھے گئے مریضوں کی مجموعی تعداد 5 ہو گئی ہے۔ اسپتال حکام کا کہنا ہے کہ جن مریضوں میں ’منکی پاکس‘ کی تصدیق ہوئی ہے ان کا تعلق جنوبی پنجاب کے مختلف اضلاع بالخصوص ملتان، مظفرگڑھ اور وہاڑی سے ہے۔
اسپتال انتظامیہ کے اقدامات اور ٹیسٹنگاسپتال کے وبائی امراض کے ماہرین اور انتظامیہ کا کہنا ہے کہ منکی پاکس کے تصدیق شدہ مریضوں کے علاج اور دیکھ بھال پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ ان کی جلد صحت یابی ممکن ہو سکے۔
دوسری جانب، نئے آنے والے مشتبہ مریض کے خون اور زخموں کے نمونے (سیمپلز) حتمی جانچ اور تصدیق کے لیے لیبارٹری بھجوا دیے گئے ہیں، جن کی رپورٹ اگلے چند روز میں موصول ہونے کا امکان ہے۔
محکمہ صحت کی نگرانی اور احتیاطی تدابیر کی اپیلمحکمہ صحت کے اعلیٰ حکام نے عوام الناس کو وبائی مرض سے بچنے کے لیے فوری طور پر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی سخت ہدایت کی ہے۔
مزید پڑھیں:کراچی میں منکی پاکس: بیوی کے بعد شوہر بھی لپیٹ میں آگیا
ترجمان محکمہ صحت کے مطابق خطے میں صورتحال کی مسلسل اور سخت نگرانی کی جا رہی ہے اور اس موذی بیماری کے مزید پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ضلعی سطح پر تمام ضروری اور حفاظتی اقدامات ہنگامی بنیادوں پر جاری ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
احتیاطی تدابیر اسپتال اقدامات ٹیسٹنگ جنوبی پنجاب خون زخموں لیبارٹری محکمہ صحت منکی پاکس نگرانی۔ نمونے