امریکا کا 250 سالہ جشن آزادی، پاکستان کے مختلف شہروں میں پروگرامز کا انعقاد
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
امریکہ کے 250 سالہ جشن آزادی کے تناظر میں امریکہ اور پاکستان کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے فروغ کے لیے مصروف ہفتہ مکمل ہو گیا اور اس دوران امریکی سفارت خانے کی جانب سے مختلف شہروں میں تعلیمی، ثقافتی، نوجوانوں اور ترقیاتی شعبوں میں سرگرمیاں منعقد کی گئیں۔
اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے نے اسپیکر سیریز “فریڈم 250: دی انٹرپرینیورز روڈ میپ” کا آغاز کیا، جس میں برٹن سنوبورڈز کی شریک بانی اور چیئر ڈونا کارپنٹر نے امریکی ایکسچینج ایلومنا اور ایڈونچر ایتھلیٹ سمر خان کے ساتھ مکالمہ کیا۔
اس کے ساتھ ہی پاکستانی حکومت کے اشتراک سے ایک نیا ایجوکیشن ورکنگ گروپ قائم کیا گیا، جس کا مقصد فنی اور اعلیٰ تعلیم کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔
اسی ہفتے 2025 کے انٹرنیشنل وزیٹر لیڈرشپ پروگرام کے سابق شرکاء سے ملاقات بھی کی گئی، جنہوں نے توانائی، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور دیگر شعبوں میں امریکی ماہرین سے قائم ہونے والے مفید روابط پر اپنے تجربات شیئر کیے۔
کراچی میں امریکی قونصل جنرل گڈمین نے انگریزی ایکسس پروگرام کے 200 طلبہ کی گریجویشن تقریب میں شرکت کی، یہ پروگرام نوجوانوں میں انگریزی زبان کی مہارت پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں معاشی ترقی میں کردار ادا کرنے کے قابل بناتا ہے، جس سے پاکستان اور امریکہ دونوں مستفید ہوتے ہیں۔
پشاور میں قونصل جنرل ایکرٹ نے قونصل خانے کی یوتھ کونسل سے ملاقات کی، جہاں امریکی اختراعات خصوصاً ای کامرس، انٹرپرینیورشپ اور ای گیمنگ کے ذریعے پاکستانی اور امریکی عوام کے لیے خوش حالی کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
پنجاب میں قونصل جنرل سینڈرز نے امریکہ کے تعاون سے یونیسف کے ایک امدادی مرکز کا دورہ کیا جو سیلاب سے متاثرہ کمیونٹیز کی مدد کر رہا ہے۔
انہوں نے تاریخی گھنٹہ گھر کی امریکی فنڈ سے بحالی کا افتتاح کیا، 450 انگریزی ایکسس پروگرام کے گریجویٹس کو اعزازات دیے اور امریکی ایکسچینج ایلومنائی سے ملاقات کی جو اپنی برادریوں میں مثبت تبدیلی لا رہے ہیں۔
ادھر امریکی ناظم الامور نٹالی اے بیکر نے سندھ کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا اور انہوں نے مقامی رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں، زرعی اور کاروباری برادریوں سے تبادلہ خیال کیا اور خطے کی بھرپور ثقافتی روایات کا مشاہدہ کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔