آیت اللہ خامنہ ای پر حملہ اسلام کیخلاف اعلانِ جنگ ہوگا، علامہ جواد نقوی
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
سربراہ تحریک بیداری کا کہنا ہے کہ پاکستانی عوام کے دلوں میں امریکہ اور اسرائیل کے لیے نہ کوئی ہمدردی ہے اور نہ ہی کوئی اخلاقی حمایت، کیونکہ ظلم کے ساتھ ہمدردی ممکن نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ بعض حکمران طبقوں میں امریکہ کی خوشنودی اور لالچ پائی جاتی ہے، مگر عوامی سطح پر امریکہ اور اسرائیل کو ظالمانہ قوتوں کے طور پر ہی دیکھا جاتا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ تحریکِ بیداریِ اُمتِ مصطفیٰ کے سربراہ علامہ سید جواد نقوی نے لاہور میں اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکہ نے رہبرِ انقلابِ اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای پر کسی بھی قسم کی جارحیت کی تو یہ اقدام صرف ایران پر حملہ نہیں ہوگا بلکہ پوری دنیا میں ایک وسیع محاذِ جنگ کھل جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آیت اللہ خامنہای محض ایران کی کوئی سیاسی یا قومی شخصیت نہیں، بلکہ اُمتِ اسلام کی علامت، تشخص اور وحدت کی نمائندگی کرتے ہیں، اور ان پر حملہ دراصل اسلام کیخلاف اعلانِ جنگ کے مترادف ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ جس طرح پاکستانی قوم غزہ کی حمایت میں ڈٹ کر کھڑی رہی، اسی طرح ایران کی حمایت میں بھی کھڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام کے دلوں میں امریکہ اور اسرائیل کے لیے نہ کوئی ہمدردی ہے اور نہ ہی کوئی اخلاقی حمایت، کیونکہ ظلم کے ساتھ ہمدردی ممکن نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ بعض حکمران طبقوں میں امریکہ کی خوشنودی اور لالچ پائی جاتی ہے، مگر عوامی سطح پر امریکہ اور اسرائیل کو ظالمانہ قوتوں کے طور پر ہی دیکھا جاتا ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ 11 فروری کو پورے پاکستان میں ملک گیر سطح پر امریکہ اور اسرائیل مخالف مظاہرے کیے جائیں گے، جن میں عوام بھرپور شرکت کر کے حق کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اظہار کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ محض ایک سیاسی موقف نہیں بلکہ ایک ایمانی، اخلاقی اور انسانی ذمہ داری ہے، اور پاکستانی قوم اپنی حسینی غیرت کے ساتھ ہمیشہ حق کا ساتھ دیتی رہے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: امریکہ اور اسرائیل میں امریکہ انہوں نے کے ساتھ کہا کہ
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔