سپریم کورٹ نے اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) کو بخدمت جناب لکھنا ممنوع قرار دے دیا۔سپریم کورٹ کا فیصلہ جاری کردیا گیا اور یہ فیصلہ جسٹس صلاح الدین پنہور نے تحریر کیا۔ پولیس اسٹیشن ٹنڈوغلام علی میں وقوعہ کےایک دن کی تاخیرسےایف آئی آردرج کی گئی تھی۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پولیس کو درخواستوں میں بخدمت جناب ایس ایچ او لکھنے پر پابندی، نوآبادیاتی سوچ مسترد کی جاتی ہے، ایس ایچ او عوام کا خادم ہے،عوام اس کےنوکر نہیں، اب ایس ایچ اوکوصرف جناب ایس ایچ او لکھاجائےگا، پرانی غلامانہ زبان ختم کی جاتی ہے۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ایف آئی آر درج کرانے والا شہری “اطلاع دہندہ” ہوگا، شکایت کنندہ نہیں، کمپلیننٹ کی اصطلاح صرف نجی فوجداری شکایت تک محدود ہے۔سپریم کورٹ نے پولیس کارروائی میں “فریادی” کا لفظ بھی ممنوع قرار دے دیا اور کہا کہ فریادی رحم مانگنے کا تاثردیتا ہے، حق مانگنے کا نہیں۔سپریم کورٹ نے ایف آئی آرکے اندراج میں تاخیرناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے پولیس افسران کوسخت وارننگ دی اور فیصلے میں کہا کہ ایف آئی آرمیں تاخیر پر پی پی سی 201 کے تحت مقدمہ بن سکتا ہے، ایف آئی آرمیں تاخیرسے شواہد ضائع ہونےکاخطرہ ہوتا ہے، پولیس اور شہری کے تعلق کی نئی تشریح، ریاستی رویےمیں بڑی تبدیلی ضروری ہے، ایف آئی آر کےاندراج میں تاخیرکا رجحان سندھ میں نسبتاً زیادہ پایاجاتاہے۔سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ پراسیکیوٹرجنرل سندھ گزشتہ2سال سنگین جرائم میں ایف آئی آراندراج کی اوسط تاخیربارے رپورٹ ایک ماہ میں جمع کرائیں، رپورٹ عدالت کے جائزہ کیلئے کراچی برانچ رجسٹری کے انچارج افسرکوجمع کرائی جائے۔فیصلے کے مطابق سندھ کے تمام ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز ججزیقینی بنائیں کہ ماتحت عدالتوں میں مقدمہ پکارتے وقت فریادی کی اصطلاح استعمال نہ کی جائے، رجسٹرارآفس فیصلے کو رہنمائی اور عملدرآمد کیلئے پاکستان کی تمام ہائیکورٹس اورضلعی عدالتوں میں سرکولیٹ کرے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: سپریم کورٹ نے ایس ایچ او ایف آئی

پڑھیں:

نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ

لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹو 

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔

عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔

لاہور ہائیکورٹ: درست ویزا، ٹکٹ اور سفری دستاویزات والے مسافر کو آف لوڈ کرنا غیر قانونی قرار

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔

عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔

عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔

عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ