سونا سستا ہوگیا، قیمت میں تاریخ کی سب سے بڑی کمی ریکارڈ
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں جمعہ کے روز فی اونس سونے کی قیمت 355 ڈالر کی بڑی کمی سے 5 ہزار 150 ڈالر کی سطح پر آگئی۔ اسلام ٹائمز۔ سونے کی عالمی اور پاکستانی مارکیٹوں میں قیمتیں تاریخ کی سب سے بڑی کمی کا شکار ہو گئیں۔ بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں جمعہ کے روز فی اونس سونے کی قیمت 355 ڈالر کی بڑی کمی سے 5 ہزار 150 ڈالر کی سطح پر آگئی۔ اس گراوٹ کو تاریخ کی سب سے بڑی کمی قرار دیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب مقامی صرافہ بازاروں میں بھی 24 قیراط کے حامل فی تولہ سونے کی قیمت 35 ہزار 500 روپے کی نمایاں کمی سے 5 لاکھ 37 ہزار 362 روپے کی سطح پر پہنچ گئی، جبکہ فی 10 گرام سونے کی قیمت 30 ہزار 435 روپے کم ہوکر 4 لاکھ 60 ہزار 701 روپے کی سطح پر آگئی۔ اسی طرح چاندی کی قیمتوں میں بھی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جہاں فی تولہ چاندی کی قیمت 1106 روپے کی کمی سے 11 ہزار 69 روپے کی سطح پر آگئی، جبکہ فی 10 گرام چاندی کی قیمت 949 روپے کی کمی سے 9 ہزار 489 روپے کی سطح پر پہنچ گئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کی سطح پر آگئی روپے کی سطح پر سونے کی قیمت ڈالر کی بڑی کمی
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔