بھارت میں کشمیریوں پر حملےتشویشناک ہیں،میرواعظ عمرفاروق
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سرینگر : کشمیری رہنما میرواعظ کشمیر مولوی محمد عمر فاروق نے اتراکھنڈ، ہماچل اور ہریانہ سمیت شمالی ہند کی مختلف ریاستوں میں کشمیریوں خاص کر طلبہ اور شال فروشوں پر ہو رہے حملوں اور وادی کشمیر میں مساجد کی پروفائلنگ پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس طرز عمل کو نہایت ہی تشویشناک قرار دے کر ایسے واقعات کی روک تھام کا مطالبہ کیا ہے ۔
جامع مسجد سرینگر میں نماز جمعہ سے قبل بھاری اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے میرواعظ کشمیر مولوی عمر فاروق نے اتراکھنڈ میں 18 سالہ تابش نامی ایک نوجوان کشمیری شال فروش اور اس کے بھائی دانش پر لوہے کی سلاخوں کا استعمال کرکے اس وحشیانہ حملے پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کیا۔
میرواعظ نے کہا کہ یہ واقعہ جموں و کشمیر سے باہر عام کشمیریوں کو درپیش فرقہ وارانہ پروفائلنگ اور دشمنی کے پریشان کن انداز کی عکاسی کرتا ہے۔ حال ہی میں ہریانہ، ہماچل پردیش اور ملک کے دیگر حصوں سے کشمیری تاجروں، مزدوروں اور طلباءپر ہراساں کرنے اور حملوں کے اسی طرح کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔
مولوی عمر فاروق نے مزید کہا کہ ہزاروں کشمیری، سردیوں کے ایام میں ایمانداری سے روزی کمانے کے لیے مختلف ریاستوں کا سفر کرتے ہیں اور ایسے کمزور لوگوں کو نشانہ بنانا فوری طور پر بند ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کے واقعات کے بعد کشمیری طلباء، تاجروں، پیشہ ور افراد اور ہندوستان کے مختلف حصوں میں تعلیم حاصل کرنے والے اور کام کرنے والے دیگر افراد کے لیے خطرہ بڑھ جاتا ہے جس سے ان میں اور ان کے خاندانوں میں بے چینی اور خوف میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
میرواعظ نے حکام پر زور دیا کہ وہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لیں اور کشمیریوں کے باہر کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔
ویب ڈیسک
Faiz alam babar
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔
پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔