سانحہ گل پلازہ، میئر مستعفی نہ ہوئے تو عدم اعتماد لائیں گے: سیف الدین ایڈوکیٹ
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی:کے ایم سی میں اپوزیشن لیڈر سیف الدین ایڈوکیٹ نے کہا ہے کہ سانحہ گل پلازہ کے بعد پورا کراچی غم اور سوگ کی کیفیت میں ہے لیکن حکمران طبقہ عوام کے دکھ درد سے بے نیاز نمائشی سرگرمیوں میں مصروف ہے، اگر میئر کراچی نے اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے استعفیٰ نہ دیا تو اپوزیشن ان کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد لانے پر مجبور ہوگی۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سیف الدین ایڈوکیٹ نے کہا کہ شہر میں پے در پے سانحات نے شہریوں کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ کراچی کا کوئی پرسانِ حال نہیں، جب شہر میں جنازے اٹھ رہے تھے تو میئر کراچی اسلام آباد میں کافی پی رہے تھے اور پھولوں کی نمائش کا افتتاح کر رہے تھے، کراچی میں بچہ گٹر میں گر جائے تو میئر سوئمنگ پول کا افتتاح کرتے نظر آتے ہیں جو حکمرانوں کی بے حسی کا واضح ثبوت ہے۔
اپوزیشن لیڈر نے کمشنر کراچی کی سربراہی میں بننے والی تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جو خود غفلت کا مرتکب ہو، وہ کسی واقعے کی غیر جانبدار انکوائری کیسے کر سکتا ہے۔ انہوں نے کمشنر کی رپورٹ کو بوگس قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ سانحہ گل پلازہ کی شفاف تحقیقات چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ یا عدلیہ کے کسی سینئر جج سے کرائی جائیں، رپورٹ میں حقائق چھپانے اور ذمہ داروں کو بچانے کی کوشش کی گئی ہے۔
سیف الدین ایڈوکیٹ نے سانحہ گل پلازہ کی مکمل ذمہ داری میئر کراچی اور سندھ حکومت پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں لوگ ٹینکرز تلے کچلے جا رہے ہیں، کتے کے کاٹنے سے جانیں ضائع ہو رہی ہیں اور ڈکیتی مزاحمت پر شہری قتل ہو رہے ہیں، شہر جرائم پیشہ عناصر کے رحم و کرم پر ہے اور حکومتی رٹ کہیں نظر نہیں آتی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت صرف اجلاس در اجلاس کا نام نہیں، بلکہ اداروں کی بروقت کارکردگی سے حکومت کا وجود نظر آتا ہے۔ اگر آگ لگنے پر فائر بریگیڈ غائب ہو تو ایسی حکومت کو حکومت نہیں کہا جا سکتا۔
مالی بدعنوانی اور اداروں کی تباہی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے الزام عائد کیا کہ پیپلز پارٹی 17 سال میں 22 ہزار ارب روپے کا حساب دینے میں ناکام رہی ہے، 2013 کے ایکٹ کے ذریعے کے ایم سی کے ادارے چھین کر ان پر قبضہ کیا گیا۔ ان کے مطابق ریسکیو 1122 کو کے ایم سی کے ماتحت ہونا چاہیے تھا، فائر بریگیڈ کو اس میں ضم کرنا سراسر غلط فیصلہ ہے۔
آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کرتے ہوئے سیف الدین ایڈوکیٹ نے کہا کہ جماعت اسلامی یکم فروری کو بدانتظامی اور ظلم کے خلاف شہر بھر میں بڑا مارچ کرے گی، اب اس حکومت کو گھر بھیجنے کی تحریک چلانے کا وقت آ چکا ہے۔ انہوں نے وفاقی حکومت اور ایم کیو ایم سے بھی مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کے مسائل کا واحد حل ایک بااختیار اور خودمختار کراچی سٹی گورنمنٹ کا قیام ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سانحہ گل پلازہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نے کہا
پڑھیں:
بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کیلئے سرگرم عمل ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ اترپردیش کے پریاگ راج کے ایک کانفرنس ہال میں عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ طلبہ کے ساتھ حالیہ پیپر لیک معاملے پر تبادلہ خیال کررہے ہیں۔ اچانک وہاں یوپی پولیس اور سرکاری افسران آجاتے ہیں اور انھیں اس ایشو پر بات کرنے سے منع کرتے ہیں۔ سنجے سنگھ اور سرکاری افسران میں گرما گرم بحث ہوتی ہے۔ اس معاملے پر اب عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کا رد عمل سامنے آیا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے بی جے پی حکومت پر تنقید کی ہے۔ ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا، اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کے لئے سرگرم عمل ہے۔
اروند کیجریوال نے کہا کہ بی جے پی کو پیپر لیک سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ مسئلہ پیپر لیک پر ہونے والی بحث سے ہے۔ یہ پیر کے روز سنجے سنگھ کے الزام کے بعد سامنے آیا ہے کہ یوپی پولیس اور سرکاری اہلکاروں نے پریاگ راج میں پیپر لیک ہونے پر طلباء کے ساتھ ان کی بات چیت کو روکنے کی کوشش کی۔ سنجے سنگھ نے کہا کہ آمریت اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے۔ ایکس پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے سنجے سنگھ نے کہا کہ پریاگ راج، یوپی میں آمریت عروج پر پہنچ گئی ہے، بند کمروں میں بھی، لاکھوں طلباء کے مستقبل پر بات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، انتظامیہ پیپر لیک ہونے کی بات کو بھی روکنے کے لئے پہنچ گئی ہے۔ مودی-یوگی کی ڈبل انجن والی حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور اپوزیشن کو کچلنا چاہتی ہے۔