بلدیہ عظمیٰ کراچی میں مبینہ کرپشن کے الزامات، ٹھیکے داروں کے اربوں روپے پھنسنے کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
کراچی:میئر کراچی کے زیرِ نگرانی کام کرنے والے بلدیہ عظمیٰ کراچی (کے ایم سی) کے بعض افسران پر ٹھیکے داروں سے مبینہ طور پر بھاری رشوت لے کر من پسند ٹھیکے داروں کو ٹھیکے جاری کرنے کے سنگین الزامات سامنے آ گئے ہیں۔
سٹی کنٹریکٹر ایسوسی ایشن نے ان الزامات کو کراچی کے خلاف ایک منظم سازش قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس عمل کے باعث شہر کے ترقیاتی کام بری طرح متاثر ہو رہے ہیں، جبکہ ٹھیکے داروں کے اربوں روپے پھنسے ہوئے ہیں۔
سٹی کنٹریکٹر ایسوسی ایشن کے وائس چیئرمین معین اختر نے جسارت سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کے ایم سی کے افسران کی مبینہ بدعنوانی کے باعث کراچی کے ٹھیکے داروں کے تقریباً چار ارب روپے پھنسے ہوئے ہیں، اس کے باوجود نہ تو کام ہو رہا ہے اور نہ ہی واجبات کی ادائیگی کی جا رہی ہے، ایسوسی ایشن نے اس معاملے پر میئر کراچی کو تحریری درخواست دی ہے جبکہ دیگر متعلقہ اداروں کو بھی خطوط ارسال کیے گئے ہیں، جن کی وصولی کی تصدیق بھی کرائی جا چکی ہے۔
معین اختر کے مطابق کے ایم سی کے افسران کی نااہلی کا یہ عالم ہے کہ گزشتہ سال کے 2 ارب 67 کروڑ روپے کے ترقیاتی کام اس سال کے وعدوں پر آگے بڑھا دیے گئے اور اب رواں سال بھی سرکاری رقوم ضائع کرنے کی مکمل منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، کے ایم سی افسران کی ترجیح ڈائریکٹ کانٹریکٹس ہیں، جن میں انہیں مبینہ طور پر منصوبے کی مجموعی رقم کا 50 فیصد تک کمیشن باآسانی مل جاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کئی افسران جالی ڈپلومہ اور ڈگریوں پر ترقی حاصل کر کے سپریم کورٹ کے احکامات کے برخلاف پروفیشنل سیٹوں پر قابض ہیں، سیریل نمبر 1 اور 2 کے ٹینڈرز منسوخ کر کے ٹھیکے داروں کے ساتھ ناانصافی کی گئی جبکہ ٹینڈر کی قیمت پانچ ہزار روپے مقرر ہونے کے باوجود ٹینڈر منسوخ ہونے کی صورت میں پے آرڈر واپس نہیں کیے جا رہے، صرف ٹینڈر فیس کی مد میں 50 سے 60 لاکھ روپے بنتے ہیں، جو کنٹریکٹرز کو واپس کیے جانے چاہئیں۔
انہوں نے بتایا کہ 23 کاموں کے لیے جاری کی گئی دو این آئی ٹیز منسوخ کر دی گئیں، جن میں سے دو کام روک لیے گئے جبکہ ٹھیکے داروں کے پانچ فیصد پے آرڈرز، جو تقریباً 4 ارب 8 لاکھ روپے بنتے ہیں، تین ماہ سے روکے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ ٹینڈر کاسٹ کی مد میں تقریباً 80 لاکھ روپے کے پے آرڈرز بھی واپس نہیں کیے جا رہے،کے ایم سی کا فنانس ڈیپارٹمنٹ ٹینڈر ریلیز کرنے کے نام پر چھ فیصد رقم وصول کر رہا ہے اور افسران کھلے عام کہتے ہیں کہ پہلے پیسے دو، پھر پرچی ملے گی۔
دوسری جانب میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے سٹی کنٹریکٹر ایسوسی ایشن کی جانب سے لگائے گئے الزامات کا نوٹس لیتے ہوئے جامع انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔ میئر کراچی نے ان تحفظات کو سنجیدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹینڈرنگ اور بولی کے عمل میں شفاف، کھلے اور مسابقتی نظام کو یقینی بنانا میٹروپولیٹن انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔
میئر کراچی نے میونسپل کمشنر کے ایم سی سمیرا حسین کو ہدایت کی ہے کہ وہ ٹینڈرنگ، بولی اور خریداری کے تمام طریقۂ کار کا غیر جانبدارانہ اور تفصیلی جائزہ لیں۔ انکوائری کے دوران یہ بھی جانچا جائے گا کہ آیا قوانین، ضوابط اور معیاری طریقہ کار (ایس او پیز) کی مکمل پابندی کی گئی یا کسی مرحلے پر بے ضابطگی اور کوتاہی ہوئی۔ میئر کراچی نے بروقت کارروائی کو یقینی بنانے کے لیے تین دن کے اندر تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت بھی جاری کر دی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل ٹھیکے داروں کے ایسوسی ایشن میئر کراچی کے ایم سی
پڑھیں:
بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
بھارتی شہر کولکتہ کے علاقے لیک ٹاؤن میں نصب فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ دیوقامت ڈھانچہ ہلتا محسوس ہوتا تھا جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے تھے۔
میسی کا یہ مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں نصب کیا گیا تھا اور اسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
مجسمے میں ارجنٹائن کے سپر اسٹار کو ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ان کی تاریخی کامیابی کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔
یہ یادگار میسی کے مداحوں کی جانب سے ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر وی آئی پی روڈ کے کنارے قائم کی گئی تھی۔
View this post on Instagramتاہم حالیہ دنوں میں مقامی افراد نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ تیز ہوا چلنے پر مجسمہ معمولی طور پر جھولتا نظر آتا ہے جس سے راہگیروں اور قریبی آبادی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
حکام نے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسمے کو عارضی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔