غیر قانونی مہاجرت روکنے کے لیے سخت یورپی پالیسوں کا خاکا تیار
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
برسلز (انٹرنیشنل ڈیسک) یورپی کمیشن نے یورپی یونین کی مہاجرت سے متعلق پالیسی کا خاکہ پیش کردیاجس میں غیر قانونی مہاجرت سے نمٹنے اور بلاک سے باہر کے ممالک کے ساتھ تعاون کرنے کا عزم کیا گیا ہے۔یورپی کمشنر برائے مہاجرت میگنس برنر نے کہا کہ ترجیح بالکل واضح ہے،جس میں غیر قانونی آمد کم کرنا اور اسے کم ہی رکھناشامل ہے۔ برنر نے مزید کہاکہ غلط استعمال مہاجرت کی ساکھ کو نقصان پہنچاتا ہے۔ یہ عوامی اعتماد کو کمزور کرتا ہے اور بالآخر ہماری تحفظ فراہم کرنے کی صلاحیت اور صلاحیتوں کو متوجہ کرنے کی کوششوں کو متاثر کرتا ہے۔یہ اعلان ایسے وقت میں آیا ہے جب یورپی یونین پر غیر قانونی مہاجرت کے خلاف سخت اقدامات کا سیاسی دباؤ برقرار ہے۔ حالانکہ 2025 ء میں غیر قانونی آمد میں ایک چوتھائی سے زیادہ کمی آئی تھی۔ برنر نے 27 رکنی بلاک کے لیے مہاجرت اور پناہ گزین پالیسی پرایک نئے باب کے اضافے کاوعدہ کیا۔ حقوق انسانی کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے یورپی یونین کے اس طریقہ کار پر تنقید کرتے ہوئے خبردار کیا کہ کسی تیسرے ملک پر بڑھتا انحصار یورپی یونین کو ممکنہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں شریک جرم بنا سکتا ہے۔ یورپی یونین کی مہاجرت پالیسی کی وضاحت کرتے ہوئے کمیشن نے کہا کہ وہ ایک ایسا نظام قائم کرنا چاہتا ہے، جومنصفانہ بھی ہو اور مضبوط بھی۔ بیان میں کہا گیاکہ یہ اس اصول کی توثیق کرتا ہے کہ یورپ ہی یہ طے کرتا ہے کہ کون یورپی یونین میں آئے گا اور کن حالات میں آئے گا۔ یورپی یونین سے توقع ہے کہ وہ غیر قانونی ہجرت کی روک تھام، انسانی اسمگلنگ کے خلاف کریک ڈاؤن، پناہ کے مواقع فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ نظام کے غلط استعمال کو روکنے اور معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے باصلاحیت تارکین وطن کو متوجہ کرنے پر توجہ دے گی۔ کمیشن کے مطابق پورے بلاک میں کئی اہم شعبوں میں مہارتوں کی کمی اور افرادی قوت کا فقدان متوقع ہے۔ بیان میں کہا گیاکہ یورپی یونین کو عالمی سطح پر ٹیلنٹ کی دوڑ میں سب سے پرکشش مقام بننے کا ہدف رکھنا چاہیے۔ اس مقصد کے لیے کمیشن نے وعدہ کیا کہ وہ یورپ کو درکار مہارتوں کے حامل افراد کو راغب کرنے کے لیے قوانین اور طریقہ کار کو سادہ اور تیز بنائے گا۔ اس میں اسناد اور مہارتوں کی شناخت اور توثیق کے نظام میں بہتری کے اقدامات شامل ہیں۔ یورپی کمیشن نے نشاندہی کی کہ جن تارکین وطن کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا جاتا ہے، ان میں سے صرف تقریباً ایک چوتھائی ہی واقعی اپنے آبائی ممالک واپس جاتے ہیں۔ یورپی یونین کے واپسی کے نظام کو زیادہ مؤثربنانا انتہائی ضروری ہے۔ کمیشن کے بیان میں کہا گیاکہ تیز، مؤثر اور باعزت واپسی ہمارے مہاجرت اور پناہ کے نظام کے بہتر کام کرنے اور اس کی ساکھ کے لیے ناگزیر ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: یورپی یونین کرتا ہے کے لیے
پڑھیں:
جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
سٹی 42: سندھ حکومت نے جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر کو سندھ انسانی حقوق کمیشن کا چیئرپرسن مقرر کر دیا ہے، ان کی تعیناتی سندھ کابینہ کی منظوری کے بعد عمل میں لائی گئی۔
محکمہ انسانی حقوق کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق جسٹس (ر) مقبول باقر کو پانچ سال کی مدت کے لیے کمیشن کا چیئرپرسن مقرر کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ سابق چیئرپرسن اقبال احمد ڈیتھو کو عہدے سے فارغ کیے جانے کے بعد سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن کا منصب خالی تھا۔ حکومتی ذرائع کے مطابق نئی تقرری سے کمیشن کی سرگرمیوں کو مزید مؤثر بنانے اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ادارہ جاتی اقدامات کو تقویت ملنے کی توقع ہے۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سابق نگران وزیر اعلی سندھ بھی رہے۔