پیوٹن نے یوکرین پر مزید حملہ نہ کرنے کی یقین دہانی کرادی‘ ٹرمپ کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے شدید سردی کے باعث ایک ہفتے کے لیے یوکرین کے دارالحکومت کیف اور دیگر شہروں پر حملے نہ کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ ٹرمپ کے مطابق انہوں نے ذاتی طور پر پیوٹن سے درخواست کی تھی کہ غیر معمولی سرد موسم کے دوران شہری علاقوں کو نشانہ نہ بنایا جائے، جس پر روسی صدر نے اتفاق کیا۔واشنگٹن میں کابینہ کے اجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ یہ درخواست بے سود ہوگی، مگر پیوٹن نے اس پر رضامندی ظاہر کی۔ ان کے فیصلے سے یوکرینی عوام خوش ہیں کیونکہ وہ شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔ تاہم ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ ممکنہ وقفہ کب سے شروع ہوگا۔ ادھر روس کی طرف سے اس معاہدے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی، تاہم یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ٹرمپ کے بیان کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ روس اپنے وعدے پر عمل کرے گا۔زیلنسکی نے سوشل میڈیا پر کہا کہ یہ بیان شدید سرد موسم میں کیف اور دیگر شہروں کے تحفظ کے حوالے سے اہم پیش رفت ہے۔ ان کے مطابق اس معاملے پر ٹیموں کے درمیان متحدہ عرب امارات میں بات چیت بھی ہو چکی ہے۔ یوکرین نے عندیہ دیا ہے کہ اگر روس شہری علاقوں پر حملے روکتا ہے تو وہ بھی روسی تیل ریفائنریوں پر اپنے حملے عارضی طور پر معطل کر دے گا۔یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے یوکرین، روس اور امریکا کے مذاکرات کاروں کے درمیان یو اے ای میں جنگ کے آغاز کے بعد پہلی سہ فریقی ملاقات ہوئی تھی، جسے تعمیری قرار دیا گیا تھا۔دوسری جانب ایک بین الاقوامی تحقیقی ادارے کی رپورٹ کے مطابق روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ میں دونوں ممالک کے مجموعی فوجی جانی نقصان کی تعداد جلد 20 لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر موجودہ حالات برقرار رہے تو ہلاکتوں، زخمیوں اور لاپتہ فوجیوں کی مجموعی تعداد میں مزید اضافہ ہوگا۔واشنگٹن میں قائم تھنک ٹینک سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کی رپورٹ کے مطابق فروری 2022 ء سے دسمبر 2025 ء تک روس کو تقریباً 12 لاکھ فوجی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا، جن میں ساڑھے 3لاکھ کے قریب ہلاکتیں شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق دوسری جنگ عظیم کے بعد کسی بھی بڑی عالمی طاقت کو کسی ایک جنگ میں اتنا زیادہ جانی نقصان نہیں اٹھانا پڑا۔ یوکرین، جس کی فوج اور آبادی نسبتاً کم ہے، اسے بھی 6لاکھ فوجی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا، جن میں ایک لاکھ 40 ہزار تک ہلاکتیں شامل ہو سکتی ہیں۔ تاہم دونوں ممالک اپنے فوجی نقصانات کے اعداد و شمار باقاعدگی سے جاری نہیں کرتے۔ اگرچہ روس میدانِ جنگ میں پیش قدمی کے دعوے کر رہا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اسے معمولی علاقائی کامیابیوں کے لیے غیر معمولی جانی نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔
ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔