Jasarat News:
2026-07-24@01:39:59 GMT

12 فروری، بنگلا بہار کا دن

اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

دو ہفتوں کے بعد بنگلا دیش اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ سے گزرے گا۔ سترہ کروڑ لوگوں میں لگ بھگ 13 کروڑ ووٹر نئے انتخاب کے لیے ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں۔ ووٹنگ سو فی صد تو کبھی نہیں ہوا کرتی لیکن توقع ہے کہ بڑی تعداد میں ووٹرز اپنا حق استعمال کریں گے۔ بنگلا دیش میں 300 حلقوں کے لیے ووٹ پڑیں گے۔ یہ بھی ذہن میں رکھیے کہ وہاں صرف قومی اسمبلی ہے‘ صوبائی اسمبلیوں کا وجود نہیں۔ اْس دن قومی اسمبلی کے ایوان اور ریفرنڈم دونوں کے لیے ووٹ پڑنے ہیں۔ 12 کروڑ 76 لاکھ ووٹرز میں پانچ کروڑ 56 لاکھ ووٹرز نوجوان ہیں یعنی جن کی عمر 37 سال سے کم ہے۔ یہ تعداد 43.

5 فی صد بنتی ہے۔ ان میں بھی لگ بھگ ساڑھے تین کروڑ ووٹرز وہ ہیں جن کا تعلق جین زی سے ہے۔ تیس سال سے کم عمر نوجوانوں نے ہی وہ تحریک چلائی تھی جس کے نتیجے میں حسینہ واجد کو اقتدار چھوڑ کر فرار ہونا پڑا۔ یہ بہت بڑی تعداد ہے اور یہ تعداد اس دن فیصلہ کن فتح یا شکست میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔ یہ بھی ذہن میں رکھیے کہ 12 فروری کو قومی اسمبلی کے ساتھ ساتھ جو ریفرنڈم ہونا ہے وہ جولائی چارٹر کے بارے میں ہے اور دستوری اصلاحات کی بات کرتا ہے۔ یہ ریفرنڈم آئندہ ملکی سمت کے لیے بہت اہم ہو گا۔

تیسری دنیا کے ملکوں میں انتخابات کبھی آسان اور پْرسکون مرحلہ نہیں ہوتے۔ قتل‘ تصادم‘ ٹکرائو‘ مار پیٹ ان انتخابات کا ایک لازمی حصہ ہوا کرتے ہیں۔ برصغیر ان معاملات میں دوسرے خطوں سے زیادہ پْر تشدد ہے اور بنگلا دیش میں سیاسی شعور اور اہل ِ بنگال کی بڑھی ہوئی جذباتیت برصغیر میں بھی سب سے آگے نظر آتی ہے؛ چنانچہ انتخابات کے دنوں میں مد و جزر معمول کی بات ہے۔ حال ہی میں بنگلا دیش کے سفر میں مجھے بار بار مشورہ دیا گیا کہ میں بسوں یا ٹرینوں میں سفر کرنے سے گریز کروں اور یہ درست مشورہ تھا۔ اگرچہ بنگالی عوام کی غالب اکثریت پاکستان سے محبت کرتی ہے لیکن دیگر عناصر خاص طور پر کالعدم عوامی لیگ اور اس کی حامی جماعتوں کے لوگ بہرحال موجود ہیں‘ اور پاکستان کے لیے ان کی مخالفت ڈھکی چھپی نہیں۔ میں اس قیام میں ہر طبقے کے لوگوں سے ملتا رہا ہوں‘ خاص طور پر نئی نسل کے لوگوں اور ڈھاکا یونیورسٹی کے طلبہ و طالبات سے اور یہ اندازہ لگانے کی کوشش کرتا رہا ہوں کہ الیکشن کے نتائج کس جماعت کے حق میں نکلیں گے۔ یہ نسل جن میں زیر تعلیم طلبہ و طالبات بھی تھے‘ برسر روزگار نوجوان بھی اور سائیکل رکشہ چلانے والے بھی۔ ان سے بات چیت کا خلاصہ یہی تھا کہ ان سب کو احساس ہے کہ یہ انتخابات کتنے اہم ہیں اور ان میں بھرپور شرکت کتنی ضروری ہے؛ چنانچہ وہ کسی بھی جماعت کو ووٹ ڈالیں‘ میرے خیال میں اس نسل کے لوگوں میں ووٹوں کی شرح بھرپور رہے گی۔ انتخابات کے نتائج کیا ہوں گے‘ یہ صورتحال لمحہ لمحہ بدل رہی ہے۔ سرویز بھی تازہ ترین صورتحال مکمل بیان نہیں کرتے لیکن اندازے کے لیے پیش کیے جا سکتے ہیں۔ بنگلا دیشی فورمز اور انسٹیٹیوٹس کے جنوری میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق بی این پی یعنی بنگلا دیش نیشنل پارٹی کی مقبولیت 34.7 فی صد تھی جبکہ جماعت اسلامی 33.6 فی صد کے ساتھ دوسرے نمبر پر تھی۔ یہ فرق بہت کم ہے۔ یہ بھی ذہن میں رکھیے کہ بی این پی نے 10 جماعتوں اور جماعت اسلامی نے 11 جماعتوں کے ساتھ انتخابی اتحاد کیا ہوا ہے۔ عوامی لیگ کے میدان میں نہ ہونے کے باعث اصل مقابلہ انہی دونوں اتحادوں کے بیچ ہے۔ انہی دو جماعتوں کو حسینہ واجد نے اپنے اقتدار کے زمانوں میں مسلسل دبائے رکھا تھا۔ جماعت اسلامی پر تو بہت مدت تک پابندی رہی۔ سچ یہ ہے کہ جتنی قربانیاں جماعت اسلامی نے بنگلا دیش میں دی ہیں‘ وہ بی این پی کے مقابلے میں بہت زیادہ ہیں۔ ایک صاحب ِ نظر بنگالی دوست نے میرے سوال پوچھنے پر کہا کہ اقتدار اسی کو ملنا چاہیے جس نے زیادہ خون دیا ہو۔ اور خون زیادہ اسلامی جماعتوں خاص طور پر جماعت اسلامی نے دیا ہے۔ حال ہی میں یونیورسٹیوں کے انتخابات میں جماعت اسلامی کے طلبہ گروپ نے بڑی تعداد میں ڈھاکا یونیورسٹی‘ جگن ناتھ یونیورسٹی‘ راجشاہی یونیورسٹی اور چٹاگانگ یونیورسٹی سمیت کئی اداروں میں کامیابی حاصل کی ہے۔ میں سات جنوری کو پرانے ڈھاکا میں جگن ناتھ یونیورسٹی کے سامنے کھڑا تھا۔ مغرب کا وقت تھا اور یونیورسٹی کے اندر اور باہر لوگوں کے ٹھٹھ کے ٹھٹھ لگے تھے جو اْس دن انتخابی نتائج سننے کے لیے بیتاب تھے۔ نتائج کا اعلان ہوا اور جگن ناتھ یونیورسٹی میں آئی سی ایس یعنی اسلامی چھترا شبر کے مکمل پینل نے کامیابی حاصل کی۔ یہ نوجوان نسل کی سوچ کا رُخ بھی بتاتا ہے اور اس کا اثر یقینا ملکی انتخابات پر بھی پڑے گا۔

شجو (شاید شجاع الدین) اْترا ڈھاکا کے اس ہوٹل میں ریسٹورنٹ منیجر تھا جہاں میں ٹھیرا ہوا تھا۔ عمر پچیس‘ چھبیس سال۔ میری اس سے انتخابی نتائج پر گفتگو ہوتی رہی۔ وہ جماعت کا بھرپور حامی ہے اور اس کا خیال تھا کہ جماعت کا انتخابی اتحاد اگلی حکومت سنبھالے گا۔ اس کے بہت سے ہم خیال نوجوان بھی یہی امید کرتے ہیں۔ کسی بھی جماعت کے حامی اس کے لیے پْرجوش ہوا کرتے ہیں لیکن یہ صرف جوش ہی نہیں تھا‘ اس کے پیچھے حقائق بھی ہیں۔ وہ حقائق جنہیں نظر انداز کرنا آسان نہیں۔ دائیں بازو کے جن لوگوں سے میری گفتگو ہوتی رہی ان کے خیال میں یہ ان جماعتوں کے لیے ملک اور نظام بدلنے کا ایک سنہری موقع ہے جسے ضائع نہیں ہونا چاہیے۔ یہی تاثر دیگر نوجوانوں کا تھا۔ قوم پرست عناصر اگرچہ جولائی 25ء کی تحریک میں دب گئے لیکن وہ معاشرے میں موجود ہیں‘ اور خیال یہی ہے کہ بی این پی کو ان تمام لوگوں کے ووٹ پڑیں گے جو یا عوامی لیگ کے حامی ہیں یا بائیں بازو سے ہم خیال ہیں۔ اس لیے مقابلہ بہت سخت ہو گا۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ کوئی بھی جماعت اقتدار میں آئے‘ اسے کام کرنا پڑے گا اور فرسودہ اور گلے سڑے نظام کی تبدیلی کے بغیر عوام راضی نہیں ہوں گے۔ ورنہ اگلی حکومت کو بھی ایک بڑی تحریک کا سامنا ہو سکتا ہے۔

میرے خیال میں انتخابات میں چند نکات بہت اہم ہوں گے اور نتائج کا انحصار بھی انہی پر ہو گا۔ اوّل تو غیرملکی قوتوں (خصوصاً بھارت) کی ترجیح کیا ہو گی اور وہ اس کے لیے کیا کوششیں کریں گی۔ بظاہر یہ قوتیں اسلامی ذہن کے لوگوں کو برسر اقتدار نہیں دیکھنا چاہیں گی۔ دوم یہ کہ بنگلا دیش کی اسٹیبلشمنٹ کا کیا کردار ہو گا؟ کیا اسے ووٹرز کے نتائج قبول ہوں گے یا اسے اپنی مرضی کے نتائج چاہئیں۔ البتہ ایک بھرپور عوامی لہر کے ہوتے ہوئے نتائج کی تبدیلی اتنی آسان نہیں ہوگی۔ تیسرا بڑا عنصر ان بیس لاکھ سرکاری ملازمین کا ہے جنہیں عوامی لیگ نے چن چن کر اپنے زمانوں میں ملازمتوں پر لگایا تھا اور بہت سی اہم پوسٹیں اب بھی ان کے پاس ہیں۔ اتنی بڑی تعداد کو یکدم بدل دینا ممکن نہیں‘ اس لیے سرکاری عملہ اب بھی وہی ہے۔ یہ افراد من پسند نتائج کے لیے اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ لیکن یہ سب غیرسیاسی میدان کی طاقتیں ہیں۔ سیاسی میدان میں جس جماعت کا تنظیمی ڈھانچہ‘ دیہات اور شہروں میں اس کے کارکنوں کا فعال کردار‘ 12 فروری کو ووٹرز کو گھروں سے نکال کر پولنگ تک لانے کی طاقت اور انتظام بہتر ہو گا‘ وہ برتر رہے گی۔ ان معاملات میں بھی جماعت اسلامی اور اتحادی جماعتیں برتری رکھتی ہیں۔ لیکن اسلامی اندولن پارٹی بنگلا دیش جو پہلے ان 11 جماعتوں میں شامل تھی جو جماعت کے ساتھ انتخابی اتحاد میں ہیں‘ اور بعد میں اختلاف کی بنا پر الگ ہو چکی‘ کئی حلقوں میں جماعت کے ووٹ تقسیم کر سکتی ہے۔ ایک امکان سوچتے ہوئے ڈر لگتا ہے لیکن اگر دونوں میں سے کسی بڑے اتحاد نے انتخابی نتائج ماننے سے انکار کردیا تو ملک ایک نئے تصادم اور خونریزی کی راہ پر جا سکتا ہے۔ خدا نہ کرے ایسا ہو! لیکن میرا خیال ہے کہ 12 فروری بنگلا دیش کے لیے ایک خوش آئند‘ مستقبل گیر اور روشن راستے کا دن ثابت ہو گا۔ یہ بنگلا بہار کا دن ہوگا۔ (بشکریہ: روز نامہ دنیا)

سعود عثمانی سیف اللہ

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جماعت اسلامی بنگلا دیش بڑی تعداد بھی جماعت عوامی لیگ بی این پی کے لوگوں کے نتائج جماعت کے کے ساتھ ہے اور کے لیے ہوں گے

پڑھیں:

عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار

وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔

ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف