Jasarat News:
2026-07-24@04:16:37 GMT

12 فروری، بنگلا بہار کا دن

اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

دو ہفتوں کے بعد بنگلا دیش اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ سے گزرے گا۔ سترہ کروڑ لوگوں میں لگ بھگ 13 کروڑ ووٹر نئے انتخاب کے لیے ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں۔ ووٹنگ سو فی صد تو کبھی نہیں ہوا کرتی لیکن توقع ہے کہ بڑی تعداد میں ووٹرز اپنا حق استعمال کریں گے۔ بنگلا دیش میں 300 حلقوں کے لیے ووٹ پڑیں گے۔ یہ بھی ذہن میں رکھیے کہ وہاں صرف قومی اسمبلی ہے‘ صوبائی اسمبلیوں کا وجود نہیں۔ اْس دن قومی اسمبلی کے ایوان اور ریفرنڈم دونوں کے لیے ووٹ پڑنے ہیں۔ 12 کروڑ 76 لاکھ ووٹرز میں پانچ کروڑ 56 لاکھ ووٹرز نوجوان ہیں یعنی جن کی عمر 37 سال سے کم ہے۔ یہ تعداد 43.

5 فی صد بنتی ہے۔ ان میں بھی لگ بھگ ساڑھے تین کروڑ ووٹرز وہ ہیں جن کا تعلق جین زی سے ہے۔ تیس سال سے کم عمر نوجوانوں نے ہی وہ تحریک چلائی تھی جس کے نتیجے میں حسینہ واجد کو اقتدار چھوڑ کر فرار ہونا پڑا۔ یہ بہت بڑی تعداد ہے اور یہ تعداد اس دن فیصلہ کن فتح یا شکست میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔ یہ بھی ذہن میں رکھیے کہ 12 فروری کو قومی اسمبلی کے ساتھ ساتھ جو ریفرنڈم ہونا ہے وہ جولائی چارٹر کے بارے میں ہے اور دستوری اصلاحات کی بات کرتا ہے۔ یہ ریفرنڈم آئندہ ملکی سمت کے لیے بہت اہم ہو گا۔

تیسری دنیا کے ملکوں میں انتخابات کبھی آسان اور پْرسکون مرحلہ نہیں ہوتے۔ قتل‘ تصادم‘ ٹکرائو‘ مار پیٹ ان انتخابات کا ایک لازمی حصہ ہوا کرتے ہیں۔ برصغیر ان معاملات میں دوسرے خطوں سے زیادہ پْر تشدد ہے اور بنگلا دیش میں سیاسی شعور اور اہل ِ بنگال کی بڑھی ہوئی جذباتیت برصغیر میں بھی سب سے آگے نظر آتی ہے؛ چنانچہ انتخابات کے دنوں میں مد و جزر معمول کی بات ہے۔ حال ہی میں بنگلا دیش کے سفر میں مجھے بار بار مشورہ دیا گیا کہ میں بسوں یا ٹرینوں میں سفر کرنے سے گریز کروں اور یہ درست مشورہ تھا۔ اگرچہ بنگالی عوام کی غالب اکثریت پاکستان سے محبت کرتی ہے لیکن دیگر عناصر خاص طور پر کالعدم عوامی لیگ اور اس کی حامی جماعتوں کے لوگ بہرحال موجود ہیں‘ اور پاکستان کے لیے ان کی مخالفت ڈھکی چھپی نہیں۔ میں اس قیام میں ہر طبقے کے لوگوں سے ملتا رہا ہوں‘ خاص طور پر نئی نسل کے لوگوں اور ڈھاکا یونیورسٹی کے طلبہ و طالبات سے اور یہ اندازہ لگانے کی کوشش کرتا رہا ہوں کہ الیکشن کے نتائج کس جماعت کے حق میں نکلیں گے۔ یہ نسل جن میں زیر تعلیم طلبہ و طالبات بھی تھے‘ برسر روزگار نوجوان بھی اور سائیکل رکشہ چلانے والے بھی۔ ان سے بات چیت کا خلاصہ یہی تھا کہ ان سب کو احساس ہے کہ یہ انتخابات کتنے اہم ہیں اور ان میں بھرپور شرکت کتنی ضروری ہے؛ چنانچہ وہ کسی بھی جماعت کو ووٹ ڈالیں‘ میرے خیال میں اس نسل کے لوگوں میں ووٹوں کی شرح بھرپور رہے گی۔ انتخابات کے نتائج کیا ہوں گے‘ یہ صورتحال لمحہ لمحہ بدل رہی ہے۔ سرویز بھی تازہ ترین صورتحال مکمل بیان نہیں کرتے لیکن اندازے کے لیے پیش کیے جا سکتے ہیں۔ بنگلا دیشی فورمز اور انسٹیٹیوٹس کے جنوری میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق بی این پی یعنی بنگلا دیش نیشنل پارٹی کی مقبولیت 34.7 فی صد تھی جبکہ جماعت اسلامی 33.6 فی صد کے ساتھ دوسرے نمبر پر تھی۔ یہ فرق بہت کم ہے۔ یہ بھی ذہن میں رکھیے کہ بی این پی نے 10 جماعتوں اور جماعت اسلامی نے 11 جماعتوں کے ساتھ انتخابی اتحاد کیا ہوا ہے۔ عوامی لیگ کے میدان میں نہ ہونے کے باعث اصل مقابلہ انہی دونوں اتحادوں کے بیچ ہے۔ انہی دو جماعتوں کو حسینہ واجد نے اپنے اقتدار کے زمانوں میں مسلسل دبائے رکھا تھا۔ جماعت اسلامی پر تو بہت مدت تک پابندی رہی۔ سچ یہ ہے کہ جتنی قربانیاں جماعت اسلامی نے بنگلا دیش میں دی ہیں‘ وہ بی این پی کے مقابلے میں بہت زیادہ ہیں۔ ایک صاحب ِ نظر بنگالی دوست نے میرے سوال پوچھنے پر کہا کہ اقتدار اسی کو ملنا چاہیے جس نے زیادہ خون دیا ہو۔ اور خون زیادہ اسلامی جماعتوں خاص طور پر جماعت اسلامی نے دیا ہے۔ حال ہی میں یونیورسٹیوں کے انتخابات میں جماعت اسلامی کے طلبہ گروپ نے بڑی تعداد میں ڈھاکا یونیورسٹی‘ جگن ناتھ یونیورسٹی‘ راجشاہی یونیورسٹی اور چٹاگانگ یونیورسٹی سمیت کئی اداروں میں کامیابی حاصل کی ہے۔ میں سات جنوری کو پرانے ڈھاکا میں جگن ناتھ یونیورسٹی کے سامنے کھڑا تھا۔ مغرب کا وقت تھا اور یونیورسٹی کے اندر اور باہر لوگوں کے ٹھٹھ کے ٹھٹھ لگے تھے جو اْس دن انتخابی نتائج سننے کے لیے بیتاب تھے۔ نتائج کا اعلان ہوا اور جگن ناتھ یونیورسٹی میں آئی سی ایس یعنی اسلامی چھترا شبر کے مکمل پینل نے کامیابی حاصل کی۔ یہ نوجوان نسل کی سوچ کا رُخ بھی بتاتا ہے اور اس کا اثر یقینا ملکی انتخابات پر بھی پڑے گا۔

شجو (شاید شجاع الدین) اْترا ڈھاکا کے اس ہوٹل میں ریسٹورنٹ منیجر تھا جہاں میں ٹھیرا ہوا تھا۔ عمر پچیس‘ چھبیس سال۔ میری اس سے انتخابی نتائج پر گفتگو ہوتی رہی۔ وہ جماعت کا بھرپور حامی ہے اور اس کا خیال تھا کہ جماعت کا انتخابی اتحاد اگلی حکومت سنبھالے گا۔ اس کے بہت سے ہم خیال نوجوان بھی یہی امید کرتے ہیں۔ کسی بھی جماعت کے حامی اس کے لیے پْرجوش ہوا کرتے ہیں لیکن یہ صرف جوش ہی نہیں تھا‘ اس کے پیچھے حقائق بھی ہیں۔ وہ حقائق جنہیں نظر انداز کرنا آسان نہیں۔ دائیں بازو کے جن لوگوں سے میری گفتگو ہوتی رہی ان کے خیال میں یہ ان جماعتوں کے لیے ملک اور نظام بدلنے کا ایک سنہری موقع ہے جسے ضائع نہیں ہونا چاہیے۔ یہی تاثر دیگر نوجوانوں کا تھا۔ قوم پرست عناصر اگرچہ جولائی 25ء کی تحریک میں دب گئے لیکن وہ معاشرے میں موجود ہیں‘ اور خیال یہی ہے کہ بی این پی کو ان تمام لوگوں کے ووٹ پڑیں گے جو یا عوامی لیگ کے حامی ہیں یا بائیں بازو سے ہم خیال ہیں۔ اس لیے مقابلہ بہت سخت ہو گا۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ کوئی بھی جماعت اقتدار میں آئے‘ اسے کام کرنا پڑے گا اور فرسودہ اور گلے سڑے نظام کی تبدیلی کے بغیر عوام راضی نہیں ہوں گے۔ ورنہ اگلی حکومت کو بھی ایک بڑی تحریک کا سامنا ہو سکتا ہے۔

میرے خیال میں انتخابات میں چند نکات بہت اہم ہوں گے اور نتائج کا انحصار بھی انہی پر ہو گا۔ اوّل تو غیرملکی قوتوں (خصوصاً بھارت) کی ترجیح کیا ہو گی اور وہ اس کے لیے کیا کوششیں کریں گی۔ بظاہر یہ قوتیں اسلامی ذہن کے لوگوں کو برسر اقتدار نہیں دیکھنا چاہیں گی۔ دوم یہ کہ بنگلا دیش کی اسٹیبلشمنٹ کا کیا کردار ہو گا؟ کیا اسے ووٹرز کے نتائج قبول ہوں گے یا اسے اپنی مرضی کے نتائج چاہئیں۔ البتہ ایک بھرپور عوامی لہر کے ہوتے ہوئے نتائج کی تبدیلی اتنی آسان نہیں ہوگی۔ تیسرا بڑا عنصر ان بیس لاکھ سرکاری ملازمین کا ہے جنہیں عوامی لیگ نے چن چن کر اپنے زمانوں میں ملازمتوں پر لگایا تھا اور بہت سی اہم پوسٹیں اب بھی ان کے پاس ہیں۔ اتنی بڑی تعداد کو یکدم بدل دینا ممکن نہیں‘ اس لیے سرکاری عملہ اب بھی وہی ہے۔ یہ افراد من پسند نتائج کے لیے اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ لیکن یہ سب غیرسیاسی میدان کی طاقتیں ہیں۔ سیاسی میدان میں جس جماعت کا تنظیمی ڈھانچہ‘ دیہات اور شہروں میں اس کے کارکنوں کا فعال کردار‘ 12 فروری کو ووٹرز کو گھروں سے نکال کر پولنگ تک لانے کی طاقت اور انتظام بہتر ہو گا‘ وہ برتر رہے گی۔ ان معاملات میں بھی جماعت اسلامی اور اتحادی جماعتیں برتری رکھتی ہیں۔ لیکن اسلامی اندولن پارٹی بنگلا دیش جو پہلے ان 11 جماعتوں میں شامل تھی جو جماعت کے ساتھ انتخابی اتحاد میں ہیں‘ اور بعد میں اختلاف کی بنا پر الگ ہو چکی‘ کئی حلقوں میں جماعت کے ووٹ تقسیم کر سکتی ہے۔ ایک امکان سوچتے ہوئے ڈر لگتا ہے لیکن اگر دونوں میں سے کسی بڑے اتحاد نے انتخابی نتائج ماننے سے انکار کردیا تو ملک ایک نئے تصادم اور خونریزی کی راہ پر جا سکتا ہے۔ خدا نہ کرے ایسا ہو! لیکن میرا خیال ہے کہ 12 فروری بنگلا دیش کے لیے ایک خوش آئند‘ مستقبل گیر اور روشن راستے کا دن ثابت ہو گا۔ یہ بنگلا بہار کا دن ہوگا۔ (بشکریہ: روز نامہ دنیا)

سعود عثمانی سیف اللہ

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جماعت اسلامی بنگلا دیش بڑی تعداد بھی جماعت عوامی لیگ بی این پی کے لوگوں کے نتائج جماعت کے کے ساتھ ہے اور کے لیے ہوں گے

پڑھیں:

تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف