ایک کروڑ نہیں چاہیے، پیسوں سے ماں واپس نہیں آتی:غلام مرتضیٰ
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
لاہور بھاٹی گیٹ کے قریب سیوریج لائن میں گر کر جاں بحق ہونے والی خاتون کے شوہر کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ مریم نواز کے اقدامات پر مشکورہوں، مجھے ایک کروڑ روپے کی ضرورت نہیں، پیسوں سے میرے بچوں کو ماں تو نہیں مل سکتی۔سیوریج لائن میں گر کر جاں بحق ہونے والی خاتون کے شوہر غلام مرتضیٰ نے شورکوٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ریسکیو 1122 نے بیوی اور بیٹی کے گٹر میں گرنے کو فیک کہا، ایس ایچ او زین نے تھانے میں مجھ پر تشدد کیا، پولیس مجھ سے بیوی اور بیٹی کو غائب کرنے کا اعتراف کرواتی رہی۔غلام مرتضیٰ نے کہا کہ ڈی آئی جی نے علم ہونے پر ماتحت افسران کو ڈانٹا، ڈی آئی جی کو حقائق بتانے پر ایس ایچ او نے دھمکیاں دیں ،پولیس جھوٹ بولتی رہی کہ میں سیف سٹی کے کیمروں میں نظر نہیں آیا۔ جاں بحق ہونے والی خاتون کے شوہر نے کہا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز کے اقدامات پر مشکورہوں مجھے ایک کروڑ روپے کی ضرورت نہیں ، ایک کروڑ روپے سے میرے بچوں کو ان کی ماں تو نہیں مل سکتی ۔یاد رہے کہ لاہور کے علاقے بھاٹی گیٹ میں داتا دربار کے قریب ایک خاتون اور اس کی بچی سیوریج لائن میں گر کر جاں بحق ہو گئی تھی۔تاہم ابتدائی طور پر پولیس اور دیگر متعلقہ ادارے اس خبر کو غلط قرار دیتے رہے اور کہا کہ ایسا کوئی واقعہ پیش ہی نہیں آیا تاہم تقریباً 10 گھنٹے بعد خاتون اور اس کی بچی کی لاشیں 3 کلومیٹر دور سے برآمد ہوئیں۔واقعہ کے بعد وزیراعلیٰ مریم نواز پنجاب کے متعلقہ اداروں پر برہم ہوگئیں اور کمشنر لاہور، اسسٹنٹ کمشنر، واسا، ایل ڈی اے ، ڈپٹی کمشنر لاہور، ٹریفک پولیس اور پولیس کو برابر کا ذمہ دار قرار دیا۔جس کے بعد ماں اور بیٹی کے سیوریج لائن میں گرنے کے واقعہ کے مقدمے میں نامزد 3 ملزمان گرفتار کرلیے گئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: سیوریج لائن میں ایک کروڑ کہا کہ
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔