سانحہ گل پلازہ، حکومت خودجوڈیشل انکوائری کراسکتی ہے، سندھ ہائیکورٹ
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
خط سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق نہیں، چیف جسٹس سے مشاورت ضروری نہیں
پرنسپل سیکریٹری کو چاہیے یہ خط گورنرسندھ کو پیش کرے، صوبائی حکومت کے خط کاجواب
سندھ ہائیکورٹ نے سانحہ گل پلازہ کی انکوائری سے متعلق جوڈیشل انکوائری کیلئے خط کا جواب دے دیاہے۔تفصیلات کے مطابق سانحہ گل پلازہ کی انکوائری سے متعلق گورنرکے پرنسپل سیکرٹری کا خط سندھ ہائیکورٹ کو موصول ہوگیاہے۔جس پر عدالت نے اپنا تحریری جواب بھی گورنر سندھ کے پرنسپل سیکرٹری کو ارسال کردیا۔سندھ ہائیکورٹ نے جواب میں کہا ہے کہ پاکستان کمیشن آف انکوائری ایکٹ 2017 کے تحت حکومت خود انکوائری کرا سکتی ہے، انکوائری ایکٹ کے تحت سابق جج یا کسی قانونی ماہر پر مشتمل جوڈیشل کمیشن کے قیام کے لیے چیف جسٹس سے مشاورت ضروری نہیں۔عدالت نے مزید کہا کہ حاضر سروس افسر سے انکوائری کے حوالے سے سپریم کورٹ عابد شاہد زبیری بنام وفاقِ پاکستان کیس میں پہلے ہی معیارات طے کر چکی ہے۔ خط میں دی گئی درخواست سپریم کورٹ کے 2023 کے فیصلے کے مطابق نہیں۔سندھ ہائیکورٹ نے اپنے جواب میں کہا کہ پرنسپل سیکرٹری کو چاہیے کہ یہ خط گورنر سندھ کو پیش کرے۔واضح رہے کہ سانحہ گل پلازہ کی انکوائری سے متعلق گورنرسندھ کے پرنسپل سیکرٹری نے سندھ ہائیکورٹ کو 27 جنوری کو خط لکھا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: پرنسپل سیکرٹری سانحہ گل پلازہ سندھ ہائیکورٹ
پڑھیں:
خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 02 جون2026ء) پاکستان ریلویز نے خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل ہونے کے بعد ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا ہے۔ریلوے حکام کے مطابق سابق ڈویژنل انجینئر(ڈی ای این)ملتان عابد رزاق کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے جبکہ سابق اسسٹنٹ انجینئر (اے ای این)خانیوال راجا یوسف کو بھی سروس سے برخاست کر دیا گیا ہے۔یاد رہے کہ خانیوال پل حادثے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔ واقعے کے بعد وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ عوامی جانوں کے نقصان پر کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔وزیر ریلوے کی ہدایت پر حادثے کی جامع انکوائری شروع کی گئی تھی۔(جاری ہے)
انکوائری رپورٹ میں متعلقہ افسران کی غفلت اور ذمہ داری کا تعین کیا گیا جس کی روشنی میں محکمانہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔
ریلوے حکام کے مطابق وفاقی وزیر ریلوے اپنے زیرو ٹالرنس مقف پر قائم رہے اور حادثے کا کیس منطقی انجام تک پہنچایا گیا۔ وزارت ریلوے کا کہنا ہے کہ احتساب کا عمل جاری رہے گا اور غفلت، لاپروائی یا نااہلی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مسافروں کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور ذمہ دار عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔