بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
ویب ڈیسک: ملک میں بجلی کے استعمال میں 22 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد نیپراکی جانب سے 48 پیسے فی یونٹ اضافے پر غور کیا جا رہا ہے۔
دسمبر 2025 میں صنعتی اور زرعی طلب کے باعث بجلی کا استعمال بڑھ کر 2 اعشاریہ 4 ارب یونٹس ہو گیا۔
شمسی توانائی کے تیزی سے پھیلاؤ سے گرڈ پر انحصار میں کمی اور پیداواری لاگت بڑھنے کا خدشہ ہے۔
دوسری جانب صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کی قیمت میں اضافے کی مخالفت کی جا رہی ہے۔
کوئٹہ: سریاب کے علاقے میں سی ٹی ڈی کی کارروائی، 4 مبینہ دہشتگرد ہلاک
پاور حکام کے مطابق دسمبر 2025 میں پاکستان میں بجلی کے استعمال میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 22 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کی بڑی وجہ صنعتی اور زرعی شعبوں میں مضبوط طلب رہی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی بڑا اضافہ
اسلام آباد: مٹی کے تیل کی قیمت میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ کر دیا گیا ہے، جبکہ پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل بھی مزید مہنگے ہو گئے ہیں۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) اور پیٹرولیم ڈویژن نے نئی قیمتوں کے نوٹیفکیشن جاری کر دیے ہیں، جن کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے۔
اوگرا کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق مٹی کے تیل کی قیمت میں 7 روپے 80 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 297 روپے 17 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔ اس سے قبل مٹی کا تیل 289 روپے 37 پیسے فی لیٹر میں دستیاب تھا۔
حکام کے مطابق صرف تین روز کے دوران مٹی کے تیل کی قیمت میں مجموعی طور پر 14 روپے 58 پیسے فی لیٹر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے باعث خصوصاً سرد علاقوں اور گھریلو صارفین پر مالی بوجھ مزید بڑھنے کا امکان ہے۔
دوسری جانب پیٹرولیم ڈویژن نے بھی پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمتوں کا اعلان کر دیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 6 روپے 39 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 327 روپے 12 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔
اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل 7 روپے 83 پیسے فی لیٹر مہنگا ہونے کے بعد 375 روپے 04 پیسے فی لیٹر میں فروخت ہوگا۔
اعلامیے کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق 23 جولائی 2026 سے کر دیا گیا ہے۔ اس سے قبل بھی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا تھا، جس کے بعد مسلسل بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتوں نے عوام، ٹرانسپورٹ سیکٹر، زرعی شعبے اور کاروباری سرگرمیوں پر اضافی مالی دباؤ بڑھا دیا ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں استحکام نہ آیا تو آئندہ بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید ردوبدل کا امکان موجود ہے۔